مضمون نمبر 42 کرونا وائرس اللہ کے عذابوں میں سے ایک عذاب ہے از شیخ گل محمد حفظہ اللہ رکن اجرائی شوری تحریک طالبان پاکستان

مکتبۃ عمر کی جانب سے پیش خدمت ہے
اعلائے کلمۃ اللہ کی خاطر جان کی بازی لگانے والے ابطال کے قلم سے لکھے گئے تلخ وشیریں، سنہرے الفاظ سے بھرپور مضامین کا سلسلہ بعنوان نورِھدایت

مضمون نمبر 42

کرونا وائرس اللہ کے عذابوں میں سے ایک عذاب ہے
از شیخ گل محمد حفظہ اللہ
رکن اجرائی شوری تحریک طالبان پاکستان

آرکائیو ڈاونلوڈ لنک
https://archive.org/download/20200625_20200625_1544/%DA%A9%D8%B1%D9%88%D9%86%D8%A7%20%D9%88%D8%A7%D8%A6%D8%B1%D8%B3%20%D8%A7%D9%84%D9%84%DB%81%20%DA%A9%DB%92%20%D8%B9%D8%B0%D8%A7%D8%A8%D9%88%DA%BA%20%D9%85%DB%8C%DA%BA%20%D8%B3%DB%92%20%D8%A7%DB%8C%DA%A9%20%D8%B9%D8%B0%D8%A7%D8%A8%20%DB%81%DB%92.pdf

پی ڈی ایف پی ڈاونلوڈ لنک
http://www.mediafire.com/file/liyppfwpccwy671/%25DA%25A9%25D8%25B1%25D9%2588%25D9%2586%25D8%25A7_%25D9%2588%25D8%25A7%25D8%25A6%25D8%25B1%25D8%25B3_%25D8%25A7%25D9%2584%25D9%2584%25DB%2581_%25DA%25A9%25DB%2592_%25D8%25B9%25D8%25B0%25D8%25A7%25D8%25A8%25D9%2588%25DA%25BA_%25D9%2585%25DB%258C%25DA%25BA_%25D8%25B3%25DB%2592_%25D8%25A7%25DB%258C%25DA%25A9_%25D8%25B9%25D8%25B0%25D8%25A7%25D8%25A8_%25DB%2581%25DB%2592.pdf/file

ون رار فائل لنک(جس میں پی ڈی ایف اور ورڈ دونوں فائلز موجود ہیں)
http://www.mediafire.com/file/i7a39lcpac278er/42%25DA%25A9%25D8%25B1%25D9%2588%25D9%2586%25D8%25A7_%25D9%2588%25D8%25A7%25D8%25A6%25D8%25B1%25D8%25B3_%25D8%25A7%25D9%2584%25D9%2584%25DB%2581_%25DA%25A9%25DB%2592_%25D8%25B9%25D8%25B0%25D8%25A7%25D8%25A8%25D9%2588%25DA%25BA_%25D9%2585%25DB%258C%25DA%25BA_%25D8%25B3%25DB%2592_%25D8%25A7%25DB%258C%25DA%25A9_%25D8%25B9%25D8%25B0%25D8%25A7%25D8%25A8_%25DB%2581%25DB%2592.rar/file
@umarmedia

https://t.me/nashir_um1_bot
https://umarmediattp.co

#TTP
#Umar_Media

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کرونا وائرس اللہ کے عذابوں میں سے ایک عذاب ہے

الحمد لله والصلوۃ والسلام علی رسول اللہ وعلی آلہ وصحبہ ومن والاہ اما بعد فاعوذ باللہ من الشیطان الرجیموَ لَقَدۡ اَرۡسَلۡنَاۤ  اِلٰۤی  اُمَمٍ مِّنۡ قَبۡلِکَ فَاَخَذۡنٰہُمۡ بِالۡبَاۡسَآءِ وَ الضَّرَّآءِ لَعَلَّہُمۡ یَتَضَرَّعُوۡنَ ﴿۴۲﴾فَلَوۡلَاۤ  اِذۡ جَآءَہُمۡ بَاۡسُنَا تَضَرَّعُوۡا وَ لٰکِنۡ  قَسَتۡ قُلُوۡبُہُمۡ وَ زَیَّنَ لَہُمُ الشَّیۡطٰنُ  مَا  کَانُوۡا  یَعۡمَلُوۡنَ ﴿۴۳﴾فَلَمَّا نَسُوۡا مَا  ذُکِّرُوۡا بِہٖ  فَتَحۡنَا عَلَیۡہِمۡ  اَبۡوَابَ کُلِّ شَیۡءٍ ؕ حَتّٰۤی  اِذَا فَرِحُوۡا بِمَاۤ  اُوۡتُوۡۤا اَخَذۡنٰہُمۡ بَغۡتَۃً  فَاِذَا ہُمۡ مُّبۡلِسُوۡنَ (الانعام:42-44)

محترمو ! آپ کو تو یہ بات معلوم ہی ہے کہ آج کل پوری دنیا میں کرونا وائرس کی بحثیں جاری ہیں،  اب تک تین لاکھ لوگ اس سے متاثر ہوچکے ہیں اور ہزاروں مر چکے ہیں۔ کرونا اللہ تعالی کے امراض میں سے ایک مرض ہے، وباؤں میں سے ایک وباء ہے، اللہ تعالی کے عذابوں میں سے ایک عذاب ہے، اللہ تعالی کے امتحانوں میں سے ایک امتحان ہے اور اللہ تعالی کی تنبیہات میں سے ایک تنبیہ ہے۔ ایسی وبائیں اور امراض کفار کے لیے عذاب ہوتے ہیں، گناہ گار مسلمانوں کے لیے تادیب اور گناہوں سے مغفرت کا ذریعہ ہوتے ہیں، اور خالص مسلمانو ں کے لیے درجات کی بلندی اور اللہ تعالی کے تقرب کا ذریعہ ہوتے ہیں۔ البتہ کفار سے اللہ تعالی نے  سورہ رعد  31 نمبر آیت میں یہ وعدہ کیا ہے کہ

وَ لَا یَزَالُ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا تُصِیۡبُہُمۡ بِمَا صَنَعُوۡا قَارِعَۃٌ  اَوۡ  تَحُلُّ قَرِیۡبًا مِّنۡ دَارِہِمۡ حَتّٰی یَاۡتِیَ  وَعۡدُ  اللّٰہِ

یعنی مقصد یہ ہے کہ کفار پر ہمیشہ ان کی بد اعمالیوں کی وجہ سے عذاب آئیں گے، یا ان کے علاقوں اور ملکوں سے نزدیک ایسے عذاب آئیں گے کہ جس سے وہ متاثر ہوں گے۔ یا تو ان کے اپنے مال و اولاد پر اللہ تعالی مصیبتیں ڈالیں گے یا ان کے قریبی علاقوں پر اللہ تعالی ایسی مصیبتیں ڈالیں گے کہ جس سے یہ بھی متاثر ہوں گے۔ جیسا کہ آج کل یہ وائرس بعض ملکوں پر مسلط ہے  اور کسی کے نزدیک ملک میں ہے کہ جس سے  پوری دنیا پریشان ہے اور پوری دنیا متاثر ہے۔

پھر اللہ رب العزۃ نے یہ بات بھی فرمائی ہے کہ اس سے پہلے بھی جو امتیں گزر چکی ہیں ان پر بھی اللہ تعالی نے دو قسم کے امتحان ڈالیں ہیں، ایک امتحان تنگدستی اور امراض کا  اور  دوسرا عذاب  نعمتوں کا، یہ دونوں امتحان اللہ تعالی وقتا فوقتا لاتے ہیں۔ جیسا کہ سورۃالاَنعام کی ان آیات میں اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ ہم  نے اس سے قبل بھی انبیاء بھیجے فَاَخَذۡنٰہُمۡ بِالۡبَاۡسَآءِ وَ الضَّرَّآءِ، اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ میں نے تنگدستی اور امراض میں انہیں پکڑا، اور پھر اس کے بعد اللہ تعالی فرماتے ہیں کہفَتَحۡنَا عَلَیۡہِمۡ  اَبۡوَابَ کُلِّ شَیۡءٍ یعنی اللہ تعالی نے ان پر ہر طرح کی نعمتیں کیں۔ تو ایک قسم ابتلاء تو بالنقم اور بالعذاب ہے  کہ اللہ تعالی کسی پر عذاب بھیجیں،اور دوسری قسم کی ابتلاء بالنعم ہے کہ اللہ تعالی کسی کو نعمتیں دیں۔ یہ دو طرح کی ابتلائات دیگر سورتوں میں بھی  اللہ رب العزت نے ذکر فرمائیں ہیں، مثلا سورہ اعراف میں اللہ تعالی نے بیان کیا ہے:

وَ مَاۤ  اَرۡسَلۡنَا فِیۡ  قَرۡیَۃٍ  مِّنۡ نَّبِیٍّ  اِلَّاۤ اَخَذۡنَاۤ  اَہۡلَہَا بِالۡبَاۡسَآءِ  وَ الضَّرَّآءِ لَعَلَّہُمۡ یَضَّرَّعُوۡنَ ﴿۹۴﴾ثُمَّ بَدَّلۡنَا مَکَانَ السَّیِّئَۃِ الۡحَسَنَۃَ حَتّٰی عَفَوۡا وَّقَالُوۡا قَدۡ مَسَّ اٰبَآءَنَا الضَّرَّآءُ وَالسَّرَّآءُ فَاَخَذۡنٰہُمۡ بَغۡتَۃً  وَّہُمۡ لَا یَشۡعُرُوۡنَ(94،95)

اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ پہلے بھی ہم نے جتنے انبیاء بھیجے ان امتوں میں جو مخالفین تھے ان پر ہم نے امراض اور تنگ دستی بھیجی، پھر تکلیف کے بعد انہیں آسانی اور نعمتیں دیں۔

بہر حال یہ دو قسم کے عذاب اللہ تعالی کی طرف سے آتے ہیں۔ پھر اس کے بعد سورہ اعراف میں ہی اللہ تعالی فرماتے ہیں:

وَ بَلَوۡنٰہُمۡ بِالۡحَسَنٰتِ وَ السَّیِّاٰتِ لَعَلَّہُمۡ یَرۡجِعُوۡنَ(168)

یعنی ہم نے ان لوگوں کا دو طرح سے امتحان لیا، ایک خوشی کا امتحان تھا اور دوسرا مصائب و تکالیف اور پریشانیوں کا امتحان تھا۔

بہر حال یہ دو طرح کے امتحان لوگوں پر آتے ہیں۔ لیکن جو عذاب اللہ تعالی کی طرف سے آتے ہیں ان کی حکمت اللہ تعالی نے یہ بیان کی ہے کہ لَعَلَّہُمۡ یَتَضَرَّعُوۡنَ (تاکہ یہ لوگ اللہ تعالی کے سامنے عاجزی کریں) ، لَعَلَّہُمۡ یَرۡجِعُوۡنَ (تاکہ یہ لوگ اللہ تعالی کے دین کی طرف آجائیں) لعلہم یذکرون (تاکہ یہ لوگ نصیحت قبول کریں) ۔

تو جتنے عذاب بھی اللہ تعالی کی طرف سے آتے ہیں، امراض، وبائیں، ابتلائات و مصائب وغیرہ، ان سب میں یہی حکمت ہے، کہ یہ لوگ اللہ تعالی کے سامنے عاجزی کریں، اللہ تعالی کی طرف آئیں اللہ تعالی کے دین کی طرف لوٹیں اور نصیحت قبول کریں۔جیسا کہ آج کل کرونا وائرس مسلط کرنے کی اصل وجہ اور علت بھی یہی ہے کہ لوگوں میں عاجزی آجائے، تکبر و غرور ختم ہوجائے، لوگ اللہ تعالی کا دین پہچانیں، اپنے رب کو پہچانیں، ایمان پہچانیں، قرآن کو جانیں۔

اسی طرح ایک اور حکمت اللہ تعالی یہ بھی بیان کرتے ہیں کہ کبھی کبھی اللہ تعالی مظلوم مسلمانوں کا انتقام بھی لیتےہیں، اللہ تعالی فرماتے ہیں:

فَانۡتَقَمۡنَا مِنۡہُمۡ فَاَغۡرَقۡنٰہُمۡ  فِی الۡیَمِّ(الاعراف:136)

فرعونیوں پر طرح طرح کے عذاب آتے تھے، پھر اللہ تعالی نے ان فرعونیوں کو سمندر میں ڈبو دیا، فَاَغۡرَقۡنٰہُمۡ  فِی الۡیَمِّ

کبھی اللہ تعالی فرماتے ہیں:

فَاِنَّا مِنۡہُمۡ مُّنۡتَقِمُوۡنَ(الزخرف:41)

اور فرماتے ہیں :

فَلَمَّاۤ  اٰسَفُوۡنَا انۡتَقَمۡنَا مِنۡہُمۡ فَاَغۡرَقۡنٰہُمۡ  اَجۡمَعِیۡنَ(الزخرف:55)

اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ جب انہوں نے ہمیں غصہ دلایا اور ہمیں ناراض کیا تو ہم نے ان سے انتقام لیا۔ یعنی کبھی کبھی ایسا ہوتا ہے کہ کافر و ظالم لوگ مظلوم مسلمانوں پر مسلط ہوجاتے ہیں، تو اللہ تعالی ان مظلوم مسلمانوں کا انتقام اور بدلہ لیتے ہیں۔ کیوں کہ  نیک لوگوں کو ناراض اور تنگ کرنا اللہ تعالی کو تنگ کرنا اور ناراض کرنا ہے۔ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ فَلَمَّاۤ  اٰسَفُوۡنَا انۡتَقَمۡنَا مِنۡہُمۡ ، موسی علیہ السلام اور بنی اسرائیل کو فرعونیوں نے تنگ کیا تو اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ میں نے ان سے انتقام لیا۔ ایک شعر میں شاعر کہتا ہے:

ہیچ قومِ را خدا رسوا نہ کرد              تادلے صاحب دلے نہ آمد بدرد

“کسی قوم کو اللہ تعالی اس وقت تک ذلیل و رسوا نہیں کرتے جب تک وہ نیک لوگوں کے دل نہیں دکھاتے۔”

کبھی مظلوم مسلمانوں کی دل آزاری کی جاتی ہے، کمزور، عاجز و بے آسرا مسلمانوں کے ساتھ ظلم و زیادتی ہوتی ہے، تو اس ظلم و زیادتی کی وجہ سے اللہ تعالی کو غیرت آتی ہے، تو اللہ تعالی ان مظلوم مسلمانوں کا انتقام لیتے ہیں، تو اللہ تعالی اسی طرح مختلف شکلوں میں امتحانات لاتے ہیں۔

شماعت اعمال ما صورت نادر گرفت

ہمارے اعمال بھی کبھی نادر شاہ کی طرح ہوجاتے ہیں تو کبھی بندوں کے اپنے اعمال ہوتے ہیں، جن سے کبھی ایک وباء اور آفت و مصیبت جنم لیتی ہے تو کبھی دوسری اور کبھی کوئی اور۔ بہر حال اس میں دوسری حکمت یہ ہے کہ اللہ تعالی ان عذابوں کے ذریعے مظلوم مسلمانوں کا انتقام لیتے ہیں۔  اور پھر ایک ایسے وقت میں ہونا تو یہ چاہیے کہ لوگ اللہ تعالی کے سامنے عاجزی کی جائے، ایمان لایا جائے، لیکن پھر بھی ایسے وقت میں جن لوگوں کی اصلاح نہیں ہوتی تو اس کی وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالی فرماتے ہیں:

وَ لٰکِنۡ  قَسَتۡ قُلُوۡبُہُمۡ(الانعام:43)

“ان کے دل سخت ہوچکے ہیں۔”

وَ زَیَّنَ لَہُمُ الشَّیۡطٰنُ  مَا  کَانُوۡا  یَعۡمَلُوۡنَ(الانعام:43)

شیطان نے ان پر محنت کی  اور ان کے  بے کار اعمال ان کے سامنے مزین کردیے۔ایک تو ان کے دل سخت تھے، دوسرا شیطان کی محنت تھی ۔ پھر اس کے بعد اللہ تعالی فرماتے ہیں:

فَلَمَّا نَسُوۡا مَا  ذُکِّرُوۡا بِہٖ(الانعام:44)

اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ اللہ کی کتاب اور نبی کی احادیث اور وعظ و نصیحت ، ہر چیز انہوں نے بھلادی اور انہیں نظر انداز کردیا، اسی وجہ سے وہ اللہ کے دین کی طرف نہیں آئے،

فَلَوۡلَاۤ  اِذۡ جَآءَہُمۡ بَاۡسُنَا تَضَرَّعُوۡا

اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ انہوں نے عاجزی کیوں نہ کی، عذابوں پر ،مصیبتوں اور آفاتوں پر انہوں نے عاجزی کیوں نہ کی، اس کی وجہ یہ تھی کہ ان کے دلوں میں سختی تھی، شیطان نے ان پر محنت کی تھی، چناں چہ وعظو نصیحت کی آیات کو انہوں نے بھلادیا۔

پھر اللہ تعالی کا قانون یہ ہے کہ اللہ تعالی وقتا فوقتا ایسے حالات لوگوں پر لاتے ہیں، کبھی نعمتیں اور خوشحالی لاتے ہیں اور کبھی آفات اور عذاب لاتے ہیں۔ ایسے عذاب اللہ تعالی مسلط کرتے ہیں، قحط، وبائیں، مصیبتیں مسلط کرتے ہیں۔ جب بندوں کی اس سے اصلاح نہ ہو تو پھر اللہ تعالی کی طرف سے عمومی عذاب آتے ہیں اور اللہ تعالی لوگوں کی عمومی پکڑ کر تے ہیں۔ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہاَخَذۡنٰہُمۡ بَغۡتَۃً (الانعام:45)  اسی طرح فرماتے ہیں فَاَغۡرَقۡنٰہُمۡ  فِی الۡیَمِّ (الاعراف:136)اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ میں نے انہیں اچانک پکڑا اور سمندر میں ڈبودیا۔

فرعونیوں پر طرح طرح کے عذاب آتے تھے، کبھی قحط آتے تھے، کبھی خون کا عذاب، کبھی مینڈکوں کا عذاب، کبھی خون ، ٹڈوں  اور جؤوں کا عذاب،  مختلف عذاب اللہ تعالی نے ان پر مسلط کیے تھے۔ لیکن جب ان کی اس سے اصلاح نہ ہوئی تو پھر اللہ تعالی نے ان پر عمومی عذاب بھیجا اور سب کو اس میں گھیر لیا۔

یہ آفات و مصائب اور خطرناک وبائیں جو آتی ہیں، ان کی وجہ اللہ تعالی یہ بیان کرتے ہیں:

ظَہَرَ الۡفَسَادُ فِی الۡبَرِّ وَ الۡبَحۡرِ بِمَا کَسَبَتۡ اَیۡدِی  النَّاسِ(الروم:41)

اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ یہ لوگوں کے اعمال ہیں کہ جن  کی وجہ سے اللہ تعالی یہ مصیبتیں اور عذاب  ان پر ڈالتے ہیں۔ پھر ایسے وقت میں کہ جب اللہ تعالی کی طرف سے عمومی عذاب مسلط ہوجائے تو اس کا علاج اور اس مشکل کا حل کیا ہونا چاہیے، ہر مرض چاہے وہ ظاہری ہو یا روحانی  اس کا ایک علاج ہوتا ہے۔ چناں چہ اس کا بھی علاج ہے، اور وہ ہے تقوی،  ایمان ،  اللہ کی طرف رجوع اور توبہ ، اللہ تعالی فرماتے ہیں:

وَلَوۡ اَنَّ  اَہۡلَ الۡقُرٰۤی اٰمَنُوۡا  وَ اتَّقَوۡا لَفَتَحۡنَا عَلَیۡہِمۡ بَرَکٰتٍ مِّنَ السَّمَآءِ وَ الۡاَرۡضِ وَ لٰکِنۡ  کَذَّبُوۡا فَاَخَذۡنٰہُمۡ بِمَا  کَانُوۡا  یَکۡسِبُوۡنَ(الاعراف:۹۶)

اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ یہ جو علاقے اللہ تعالی نے تباہ کیے ہیں، جن کی طرف اللہ کے نبی بھیجے گئے تھے، اگر یہ لوگ ایمان لے آتے اور اللہ سے ڈرتے تو اللہ تعالی ان پر آسمان و زمین کی برکتیں نچھاور کردیتے۔

لہذا میرے محترمو اس کا علاج ایمان لانا ہے، تقوی اختیار کرنا ہے، اللہ سے توبہ طلب کرنا ہے، اپنے گناہوں کی مغفرت مانگنا ہے، اس کا بنیادی علاج یہی ہے۔

بعض لوگ اس کا علاج غلط طریقے سے کرتےہے ہیں، بعض لوگ اس کا علاج یہ بتاتے ہیں کہ مسجد نہ جایا جائے، جماعت میں شرکت نہ کی جائے، حج و عمرہ اور طواف پر پاندی لگادی جائے۔ میرے محترمو یہ اس کا حل اور علاج نہیں ہے، بلکہ اس سے تو اللہ تعالی کا عذاب اور زیادہ بڑھے گا۔ یہ اللہ تعالی کا عذاب ہے، اللہ تعالی کے عذاب سے تو اس طرح بچا جا سکتا ہے کہ مساجد آباد کی جائیں، حج و عمرے اور طوافوں سے اللہ کا گھر آباد کیا جائے، کیوں کہ وہ تو دعاؤوں کی قبولیت کی اور فریاد و سوال کی قبولیت کی جگہ ہے، جب آپ اپنی فریاد کی جگہ اور دعاء کی قبولیت کی جگہ کو چھوڑ دیں اور اس پر تالے لگا دیں،تو یہ عذاب اس طرح نہیں ختم ہوگا۔

بعض کہتے ہیں کہ نماز مختصر پڑھانی چاہیے، یہ غلط ہے، بلکہ ایسے مواقع میں تو لمبی لمبی نمازیں پڑھنی چاہییں، تاکہ اللہ تعالی ہم پر اپنا رحم کریں ، مہربانی کریں اور اپنا عذاب ہم سے اٹھالیں۔ہاں اتنی بات ہے کہ کبھی کبھی رسول اللہ ﷺ ضرورت کی وجہ سے نماز جلدی پڑھتے لیکن یہ ایسی ضرورت نہیں ہے کہ جس کی وجہ سے نماز جلدی پڑھی جائے بلکہ اس میں تو لمبی اور آرام آرام سے نماز پڑھنی چاہیے۔ لہذا یہ بہت ہی غلط طریقہ ہے ان لوگوں کا جو اس طرح اس مشکل کو حل کرنا چاہتے ہیں۔

اسی طرح کے عذابمختلف شکلوں میں اللہ تعالی نے فرعونیوں پر بھی مسلط کیے تھے۔ اس لیے  دیکھنا چاہیے کہ ان فرعونیوں پر عذاب کیوں آئے تھے۔ ان پر عذاب  ایک تو ان کے کفر کی وجہ سے آئے تھے، تو آج کل کفر بہت عام ہے، پوری دنیا میں کفر پھیل چکا ہے، اس وجہ سے اللہ تعالی نے عذاب مسلط کیے ہوئے ہیں۔

اسی طرح فرعونی اپنی حکومت پر فخر کرتے تھے، آج کل بھی یہ طواغیت اور یہ ظالم و جابر حکومتیں بھی اپنی حکومتوں اور اپنی دجالی ٹیکنالوجی پر فخر کرتی ہیں، لہذا جس طرح اللہ تعالی نے اُن پر عذاب مسلط کیا تھا  اسی طرح اِن پر بھی اپنا عذاب مسلط کیا ہوا ہے۔

اسی طرح فرعونی ان عذابوں سے بہت پریشان ہوگئے تھے، تو ان کو بھی اللہ تعالی نے پوری دنیا میں پریشانی میں مبتلاء کیا ہوا ہے، خصوصا چین کو بہت زیادہ پریشان کیا ہوا ہے۔

اسی طرح انہوں نے بنی اسرائیل پر بےشمار ظلم کیے تھے، ان کو غلام بنا کر رکھا ہوا تھا، ان کو اللہ تعالی کی بندگی کے لیے نہیں چھوڑتے تھے کہ وہ آزادانہ طریقے پر اپنے رب کی بندگی کریں۔ آج کل بھی یہی حالت ہے کہ ان حکومتوں نے مسلمانوں پر بے شمار ظلم رواں رکھے ہوئے ہیں، لوگوں کو غلام بناکر رکھا ہوا ہے، انہیں آزادانہ طور پر اپنے رب کی عبادت کی اجازت نہیں دیتے، جیسا کہ چین نے دس لاکھ مسلمانوں کو چین میں قید کیا ہوا ہے، تنگ تنگ جگہوں میں انہیں رکھا ہوا ہے جہا وہ ایک دوسرے کے اوپر پڑے ہوئے ہیں۔ ان کے گھروں کی نگرانی کی جارہی ہے، کہ کہیں کسی گھر میں کوئی اللہ تعالی کی بندگی نہ کرے، کوئی پردہ نہ کرے، کسی گھر میں قران پاک کی تلاوت نہ ہو، یہاں تک کہ مردوں کے لیے بھی قرآن پاک کی تلاوت ممنوع ہے، کھانے سے پہلے بسم اللہ پڑھنے پر پابندی ہے۔

یہ ظلم مسلمانوں پر جاری تھے، اللہ تعالی نے ان مظلوم مسلمانوں پر غیرت کی اور ظالموں  پر اپنا عذاب مسلط کردیا، پوری دنیا خاموش تھی، کسی کو ان مسلمانوں کی حالت پر غیرت نہیں آئی تو اللہ رب العزت نے ان پر غیرت کی۔

پھر جیسا کہ ان فرعونیوں کا طریقہ تھا کہ وہ عذابوں اور وباؤوں کے وقت موسی علیہ السلام کی طرف رجوع کرتے اور ان سے مطالبہ کرتے:

یٰمُوۡسَی ادۡعُ لَنَا رَبَّکَ بِمَا عَہِدَ عِنۡدَکَ(الاعراف:134)

انہوں نے موسی علیہ السلام سے مطالبہ کیا کہ اے موسی اپنے رب سے ہمارے لیے دعا کرو کہ ہم سے یہ عذاب دور کرے، آج بھی اللہ تعالی نے ان ظالموں کو مسلمانوں کی دعا کا محتاج کردیا ہے، وہ مظلوم مسلمان کہ جن پر یہ ظلم کرتے تھے، اللہ تعالی نے ان ظالموں کو ان  کی دعاؤوں کا محتاج کردیا۔ غرض یہ کہ موجودہ حالت اور پچھلے فرعونیوں کی حالت بہت سے طریقوں سےایک دوسرے کے بہت مشابہ ہیں۔

فرعونی بنی اسرائیل پر بہت ظلم کرتے،ان کے بچوں کو قتل کردیتے اور بچیوں کو زندہ چھوڑ دیتے، ان سے مختلف خدمات لیتے، لیکن بنی اسرائیل جو کہ اس زمانے کے نیک لوگ تھے، ان کی آہ و فغاں اور شکایت کی کوئی جگہ نہ تھی، پوری دنیا خاموش تھی، کوئی ان کی حالت نہیں پوچھتا تھا، بنی اسرائیل جیسے بھی تھے اس زمانے کے نیک لوگ تھے، انبیاء کی اولاد تھے،  پھر بعد میں رفتہ رفتہ ان میں بگاڑ پیدا ہوتا رہا، رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں بھی ان کی حالت بہت خراب تھی اور آج بھی یہود بہت خطرناک  اور مفسد لوگ ہیں، لیکن اُس زمانے میں یہود نیک لوگ تھے، فرعونی ان پر ظلم کرتے تھے لیکن پوری دنیا خاموش تھی، آج   بھی مظلوم مسلمانوں پر کتنے ظلم ہوئے، برما، چیچنیا اور دنیا کے مختلف حصوں میں مسلمانوں پر ظلم و زیادتیاں ہوتی رہیں اور پوری دنیا  اس پر خاموش رہی۔

اس ظلم پر بھی تعجب ہے لیکن امت مسلمہ کی خاموشی اور غفلت پر زیادہ تعجب ہے، بلکہ بعض ایسے لوگ اور  ایسے برائے نام علماء بھی ہیں جو ان کی اس ظالمانہ پالیسیوں کی تائید کرتے ہیں، حکومتوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں اور مجاہدین پر رد اور تنقیدیں کرتے ہیں، مجاھدین  سے معمولی غلطی ہوجائے تو ان کے خلاف بیانات کرتے ہیں ، ان  کے خلاف فتوے دیتے ہیں، حکومتیں ہزارہا منکرات کرتی رہیں ان پر رد نہیں کرتے ، ان کی مخالفت نہیں کرتے، حکومت سے کوئی ایک آدھ کام صحیح ہوجائے تو اس کی تحسین کرتے ہیں، اس کو شاباشی دیتے ہیں، لیکن مجاھدین کی تمام قربانیاں کہ جس پر انسان حیران ہوتا ہے کہ پوری دنیا کا مجاھدین کے کمزور وسائل سے مقابلہ ہوا، اللہ تعالی نے پوری دنیا کو ناکام اور ذلیل کیا، پھر ان قربانیوں کے بے شمار شہداء،قیدی، زخمی، بیوائیں اور یتیم ، ہجرتوں میں فقر اور غریبی میں وقت گزاری اور انتہائی مشکلات آج کے مجاہدین نے برداشت کیں۔ اِس زمانے کے مجاھدین کی قربانیاں ایسی ہیں کہ جس پر جلدوں کی جلدیں لکھی جاسکتی ہیں بلکہ  لوگ ان کے لکھنے سے بھی عاجز ہیں۔ مجاھدین کی ان تمام قربانیوں کو نظر انداز کیا جاتا ہے اور ان کی معمولی معمولی غلطیوں پر تنقیدیں کی جاتی ہیں۔

بہرحال آج بھی حالت ایسی ہی ہے، بنی اسرائیل مظلوم تھے، پوری دنیا خاموش تھی، کوئی پوچھنے والا نہیں تھا، کوئی ان پر غیرت کرنے والا نہیں تھا، آج امتِ مسلمہ کی بھی یہی حالت ہے۔ جیسا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ حمزۃ لا بواکی لہ (حمزہ رضی اللہ عنہ پر رونے والا کوئی نہیں۔) جب احد میں مسلمان شہید ہوگئے لوگ اپنے اپنے شہداء پر رورہے تھے اور حمزہ رضی اللہ عنہ پر کوئی رونے والا نہیں تھا، تو رسول اللہ ﷺ نے یہ فرمایا کہ حمزۃ لابواکی لہ۔ آج بھی یہ کمزور، ضعیف اور عاجز مسلمان ہیں، کوئی ان پر غیرت کرنے والا نہیں تھا تو اللہ رب العزت نے ان پر غیرت کی  اور اللہ تعالی نے اپنے لشکروں میں سے ایک بہت ہی معمولی لشکر ظالموں پر  مسلط کر دیا، ایسا معمولی لشکر کہ جو دیکھنے سے نظر بھی نہیں آتا۔ اللہ تعالی کے تو بے شمار لشکر ہیں،وَ مَا یَعۡلَمُ جُنُوۡدَ  رَبِّکَ اِلَّا ہُوَ (اور تمھارے رب کے لشکروں کو صرف وہی جانتا ہے)، وللہ جنود السموت والارض (اور اللہ ہی کے ہیں آسمان و زمین کے لشکر)۔ اللہ تعالی کے بے شمار لشکر ہیں، مگر اللہ تعالی نے ایک ایسا معمولی لشکر  جو نظر بھی نہیں آتا ،جو کہ  صرف ایک وائرس ہے اللہ تعالی نے مسلط کردیا اور دنیا کے وہ بڑے بڑے طواغیت جو کہ غرور اور تکبر میں بھرے ہوئے تھے، ان سب کو اللہ تعالی نے حیران و پریشان کر کے رکھ دیا ہے۔ یہ اللہ رب العزت کی غیرت ہے اپنے بندوں پر۔

اس میں اللہ تعالی کی طرف سے ہمارے لیے بھی ایک درس اور سبق یہ ہے کہ اگر تم اللہ تعالی کے دین پر غیرت نہیں کروگے تو اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ میں انتقام لے سکتا ہوں، اور اسی طرح اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ میں مظلوم کے لیے غیرت کرسکتا ہوں۔ میرے محترمو اللہ تعالی یہ کام ملائک کے ذریعے کرسکتے ہیں، وائرسوں کے ذریعے اور دیگر چیزوں کے ذریعے یہ کفار ہلاک و تباہ کردیں گے لیکن پھر ہم اور آپ اس امتحان میں فیل اور ناکام ہوں گے۔ ہماری اور آپ کی اس امتحان میں کامیابی اس میں ہے کہ ہم ان کے مقابلے میں اپنی جدوجہد اور جہاد کریں۔ ہم اور آپ گھروں میں بیٹھیں ہوں گے اور اللہ تعالی ان پر مزید عذاب مسلط کردیں گے، کبھی طوفان، کبھی زلزلے اور کبھی ایک آفت و مصیبت اور بلاء تو کبھی دوسری اور کبھی کوئی اور، لیکن اتنا ہے  کہ پھر ہم امتحان میں فیل و ناکام ہوں گے۔

ہمیں چاہیے کہ ہم ہر وقت کی اپنی معاصر مسؤولیت و ذمہ داری جانیں اور اس کو اداء کریں، کہ اس وقت ہماری ذمہ داری اور مسؤولیت کیا ہے، جیسا کہ ایک شعر میں آتا ہے کہ

اماما واعظھا بسیار کردی اگر پرسی زمن این وقت تیغ ست

شاعر کہتا ہے کہ امام صاحب آپ نے نصیحتیں تو بہت کردیں لیکن اگر  آپ مجھ سے پوچھیں تو یہ وقت تلوار کا  اور جہاد کا وقت ہے۔

چناں چہ اس زمانے کی مسؤولیت و ذمہ داری مظلوم مسلمانوں پر غیرت کرنا ہے، اگر انسان ان کی حالت پر غمزدہ نہ ہوگا تو یہ بہت ہی کمزور ایمان کی نشانی ہے، مؤمن کی نشانی یہ ہے کہ وہ دوسرے مسلمان کے غم میں غمزدہ ہوتا ہے، دوسرے مسلمان کے درد میں درد زدہ ہوتا ہے  اور اس کے لیے فکر مند ہوتا ہے۔ اس کو صرف اپنی جان، اپنے بچوں اور اپنے گھر کی فکر نہیں ہوتی بلکہ اسے پوری امتِ مسلمہ، پوری امتِ مظلومہ،  تمام مجاھدین و جہاد کی سوچ و فکر ہوتی ہے۔ اس لیے ہر مسلمان کو چاہیے کہ ہر وقت کے  مناسب اپنی مسؤولیت پہچانے۔

علماء کرام کو بھی چاہیے کہ وہ امت مسلمہ کی صحیح قیادت و رہنمائی اور صحیح رہبری کریں، اور ایسا نہ ہو کہ الٹا حکومت کی ظالمانہ پالیسیوں کی تائید کریں۔ بعض ایسے بھی ہیں کہ جو ان حکومتوں کو تعزیتیں بھیجتے ہیں ، ان کے لیے دعائیں کرتے ہیں، اس پر ہم بعد میں بات کریں گے۔ البتہ امتِ مسلمہ کی اس حالت پر ایسی خاموشی نہیں ہونی چاہیے کہ جیسے آج کل جاری ہے۔ لال مسجد اور جامعہ حفصہ کے ساتھ کربلاء کے ظلموں کی طرح ظلم ہوئے، تاریخ کی کتابوں میں کربلاء کے مظالم دیکھیں اور لال مسجد و جامعہ حفصہ پر مظالم بھی دیکھیں، پھر موازنہ کریں کہ وہ ظلم زیادہ تھا یا یہ ظلم زیادہ ہے۔  اتنے بڑے بڑے ظلم ہوتے ہیں لیکن پھر بھی لوگ اس پر خاموش رہتے ہیں۔ قبائل پر ظالمانہ آپریشن کیے گئے، مجاھدین کا بہیمانہ قتل عام کیا گیا، شیخ اسامہ رحمہ اللہ کی تین بیویاں گرفتار ہوگئیں، ان تمام مظالم پر خاموشی رہی۔ خاموشی تو رہنے دیجئے بلکہ الٹا پاکستان کی قاتل فوج  کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے، بلکہ کبھی کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ مدارس میں بعض ایسے لوگوں کو بلایا جاتا ہے، اور ان کے چہروں اور پیشانیوں کو بوسہ دیا جاتا ہے۔ آج ان تمام نصوص کو کیوں نظر انداز کیا جاتا ہے کہ جن میں اللہ تعالی فرماتے ہیں:

وَ لَا تَرۡکَنُوۡۤا اِلَی الَّذِیۡنَ ظَلَمُوۡا فَتَمَسَّکُمُ النَّارُ ۙ وَ مَا لَکُمۡ مِّنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ مِنۡ اَوۡلِیَآءَ ثُمَّ  لَا  تُنۡصَرُوۡنَ(هود:۱۱۳)

اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ ان ظالموں کی طرف میلان نہ کرو ورنہ جہنم کی آگ تمہیں چھوئے گی۔

اور اللہ تعالی فرماتے ہیں :

وَ لَوۡ لَاۤ  اَنۡ ثَبَّتۡنٰکَ لَقَدۡ کِدۡتَّ تَرۡکَنُ اِلَیۡہِمۡ  شَیۡئًا  قَلِیۡلًا ﴿٭ۙ۷۴﴾اِذًا  لَّاَذَقۡنٰکَ ضِعۡفَ الۡحَیٰوۃِ  وَ ضِعۡفَ الۡمَمَاتِ ثُمَّ  لَا تَجِدُ  لَکَ  عَلَیۡنَا نَصِیۡرًا(الاسراء:74،75)

اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ اگر آپ ان کفار کی طرف معمولی میلان کریں گے تو ہم دنیا و آخرت میں دو چند عذاب آپ کو دیں گے۔

اس آیت میں اللہ تعالی فرمارہے ہیں کہ لَقَدۡ کِدۡتَّ تَرۡکَنُ ، اس بات کو سمجھنے کی ضرورت ہے کہ کفار کی طرف میلان اور وہ بھی معمولی میلان شَیۡئًا  قَلِیۡلًا ، لَقَدۡ کِدۡتَّیعنی اس معمولی میلان کی طرف معمولی سے بھی  نزدیک ہوئے تو اللہ تعالی فرماتے ہیں کہاِذًا  لَّاَذَقۡنٰکَ ضِعۡفَ الۡحَیٰوۃِ  وَ ضِعۡفَ الۡمَمَاتِ یعنی ہم آپ کو دنیا و آخرت میں دگنا عذاب دیں گے۔

چناں چہ ان کفاروں اور ظالموں سے معمولی موافقہ، معمولی سمجھوتہ، معمولی میلان دنیا و آخرت میں دگنے عذاب کا سبب ہے۔  اس لیے تھوڑا سوچنے کی ضرورت ہے کہ جو لوگ ان ظالم حکومتوں کی ظالمانہ پالیسیوں کی تائید کرتے ہیں، ان کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں،  وہ ان آیات پر کچھ سوچ و فکر کریں۔

رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں:

ألا إن الكتاب والسلطان سيفترقان فلا تفارقوا الكتاب

“بادشاہ اور قرآن ایک دوسرے سے جدا ہوجائیں گے مگر تم اللہ کی کتاب سے نہ جدا ہونا۔”

سَلَف صالحین کی سیرت کو دیکھنے  کی ضرورت ہے کہ وہ ظالم حکمرانوں سے کتنا بچتے تھے، ان کے کپڑوں سے اپنے کپڑے نہیں لگاتے تھے، ان کے کپڑوں کو ہاتھ بھی نہ لگاتے تھے۔

غرض یہ کہ جس طرح بنی اسرائیل پر مظالم ہوتے اور پوری دنیا خاموش تھی اسی طرح آج بھی  مظلوم مسلمانوں پر ظلم جاری تھے اور پوری دنیا اس پر خاموش تھی تو اللہ تعالی نے ان پر غیرت کی اور ان کا انتقام لیا۔ اللہ تعالی نے ان پر سامری کی طرح “لامساس” کا عذاب مسلط کردیا، سامری پر اللہ تعالی نے ایسا عذاب مسلط کیا تھا کہ وہ کہتا تھا” لامساس” کہ مجھے ہاتھ نہ لگاؤ، جو بھی سامری کے قریب جاتا تو دونوں پر بخار چڑھ جاتا، آج بھی اللہ تعالی نے ان پر یہی عذاب مسلط کردیا ہے کہ اللہ تعالی نے انہیں لوگوں سے برطرف اور جدا کردیا، یہ مسلمانوں کو جدا کرتے تھے، مجاھدین اور مسلمان دیگر دنیا سے کاٹتے تھے، اور پھر مسلمان اپنے مابین بھی ایک دوسرے سے جدا کرتے تھے، آج اللہ تعالی نے انہیں خود کو اکیلا کردیا، ایک دوسرے سے جدا کردیا، اپنے گھروں میں انہیں قید کردیا۔ اللہ تعالی کی عجیب غیرت ہے اور عجیب انتقام ہے، اللہ تعالی وہ ذات ہے کہ اِنَّ  اَخۡذَہٗۤ  اَلِیۡمٌ شَدِیۡدٌ(ہود:102) اس کی پکڑ بہت سخت ہے، اِنَّ بَطۡشَ رَبِّکَ لَشَدِیۡدٌ (بروج:12) اللہ تعالی کا حملہ بہت سخت ہے، وَّ لَا یُوۡثِقُ وَ ثَاقَہٗۤ  اَحَدٌ (الفجر:26)  اس کی طرح کوئی باندھ نہیں سکتا لَّا  یُعَذِّبُ عَذَابَہٗۤ  اَحَدٌ اللہ کی طرح عذاب کوئی نہیں دے سکتا۔

پھر دیکھیں جزاء من جنس العمل ، جس طرح انہوں نے مسلمانوں پر پابندیاں لگائی ہوئی تھیں اسی طرح اللہ تعالی نے ان پر پابندیان لگادیں، ان کو اپنے گھروں میں قید کردیا، جس طرح انہوں نے مسلمان عورتوں پر پابندیاں لگائی تھیں کہ وہ برقعے نہیں پہنیں گی آج ان سب کو اللہ تعالی نے ماسک کی شکل میں نقاب پہنا دیے۔ یہ کام سب سے پہلے فرانس نے کیا تھا، پردے پر سب سے پہلے پابندی فرانس نے لگائی تھی، پردے پر جرمانہ لگایا ہوا تھا، کہ جو عورت بھی پردہ کرے گی اس پر جرمانہ ہوگا اور اب اس پر جرمانہ لگایا ہے کہ جو شخص ماسک نہیں لگائے گا اس پر جرمانہ ہوگا۔ اللہ تعالی کی ایسی غیرت اور انتقام ہے۔ اللہ تعالی نے ان کا اتحاد ختم کردیا، ان کا اقتصاد اللہ تعالی نے تباہ کردیا۔

ایک بات یہ بھی سمجھنے کی ضرورت ہے کہ جب بھی ایسے حالت ہو تو اس میں اپنے رب کی طرف رجوع کی ضرورت ہوتی ہے، توبہ کی ضرورت ہوتی ہے۔ اگر تاریخ دیکھیں تو اسلامی تاریخ میں بھی  ایسی وبائیں، مصیبتیں اور بلائیں وقتا فوقتا آتی رہی ہیں، اُس وقت اس مشکل کا حل کس طرح کیا گیا ، اس زمانے کے مسلمانوں نے اپنے رب کی طرف توجہ کی ، توبہ و استغفار کی۔

عمر رضی اللہ عنہ کے دور میں سن 18ھ میں جسے عام الرمادہ کہا جاتا ہے یعنی راکھ کا سال، کیوں کہ اس میں مٹی راکھ کی طرح پڑی ہوتی تھی کیوں کہ   اس میں ایک بڑا قحط آیا تھا، اس میں مسلمانوں کو بہت مشکل تھی، عمر رضی اللہ عنہ نے قسم کھائی کہ جب تک تمام مسلمانوں پر آسانی نہیں آجاتی تو اس وقت تک  میں گھی اور گوشت نہیں کھاؤں گا، دودھ نہیں پیؤں گا۔ عمر رضی اللہ عنہ نے پرانے کپڑے پہنے ہوئے تھے، ممبر پر تشریف فرما ہوئے اور دعا کی کہ اللھم لاتعذب امت محمد بذنوبی( اے اللہ  میرے گناہوں کی وجہ سے امتِ محمدیہ کو عذاب نہ دیں) ۔ آپ دیکھیں کہ اس زمانے میں قحط آیا تو عمررضی اللہ عنہ اللہ تعالی سے دعاء کرتے ہیں، اللہ کے سامنے روتے ہیں، خود پر آسانی اور آسائشیں بند کرتے ہیں کہ جب تک تمام مسلمانوں پر آسانی نہ آجائے، پھر عباس رضی اللہ عنہ کے ذریعے استسقاء کیا تو اللہ تعالی نے بارش عطاء کی۔

غرض یہ کہ اس سے پہلے بھی وبائیں اور مصائب دنیا میں آتے رہے ہیں، اسی سن 18 ھ میں طاعون عمواس بھی آیا تھا کہ جس میں بڑے بڑے صحابہ کرام رضی اللہ عنہ وفات ہوئے۔ اس سے قبل بھی مسلمانوں پر ایسے حالات آئے تھے، انہوں نے اس کا حل اللہ تعالی کی طرف رجوع میں تلاش کیا اپنے رب کو پہچانا، لہذا اگر آج کی امتیں بھی اپنے رب کو نہ پہچانیں تو ہوسکتا ہے کہ اللہ تعالی مزید عذاب بھی بھیجیں۔

سن 449 ھ میں ایسی سخت وباء پھیلی تھی کہ ایک ایک قبر میں  20، 30 آدمی دفن کیے جاتے، تو اس زمانے کے لوگوں کے بارے میں آتا ہے کہ وتاب الناس کلھم سب نے اپنے گناہوں سے توبہ کرلی، گناہ کے جو اسباب تھے انہیں ختم کردیا، واراق الخمور( شراب کو بہا دیا ) ولزموا المساجد (مساجد میں ڈیرے ڈال دیے)۔ آج کل اس پر پابندیاں لگ رہی ہیں کہ لوگ مساجد نہ جائیں، نہ نہ مسجد میں جانا ہی اس کا علاج ہے، مسجد سے لوگوں کو روکنا اس کا علاج نہیں ہے، اس سے تو یہ مرض اور وباء اور بھی بڑھے گی۔

اسی طرح 533 ھ میں ایک بہت شدید زلزلہ آیا تھا، اسی سال حلب میں ایک رات میں اسی (80) بار زلزلہ آیا تھا، جبرت نامی شہر میں زلزلہ آیا تھا کہ جس میں دو لاکھ تیس ہزار لوگ مرگئے تھے اور وہاں کالا پانی نکل آیا تھا، تقریبا دس فرسخ جگہ میں کالا پانی نکل آیا تھا۔ اس زمانے میں جو سلطان محمود تھے انہوں نے لوگوں سے ٹیکس ختم کردیے، جو ظلم تھے وہ ختم کردیے، عوام سےجو زیادتیاں کی جاتی تھی ان پر پابندیاں لگا دیں۔

تو اس کا بنیادی علاج یہی ہے کہ انسان گناہ چھوڑدے اور اسی طرح  ظلم و زیادتی کی روک تھام کردی جائے۔

اس میں ایران کا کردار اچھا رہا کہ اس نے پچاسی ہزار قیدی رہاکردیے، یقینا یہ اس کا ایک اچھا کام ہے جس کی تحسین کرنی چاہیے۔ ترکی نے یہ اعلان کیا کہ ہماری  مساجد نہیں بند کی جائیں گی بلکہ ہماری مساجد آباد رہیں گی، ان کا یہ کردار بھی قابل تحسین اور قابل شاباشی ہے۔دوسری طرف پاکستان کا کردار ہےکہ جس نے اس خطرناک وباء اور آفت کو بھی اپنے چندوں کا ذریعہ بنالیا، کیوں کہ پاکستان حکومت بہت مکار اور بہت موقع شناس ہے، وہ ہمیشہ ایسے عذابوں سے فائدہ اٹھاتی ہے اور چندے حاصل کرتی ہے،جب بھی کبھی زلزلے، طوفان یا سیلاب یا کوئی وائرس وغیرہ آجائے تو ایسے موقعوں کو اپنے چندوں کا ذریعہ بناتی ہے۔کسی نے کہا کہ ہوسکتا ہے کہ پوری دنیا میں وائرس ختم ہوجائے لیکن پاکستان میں وائرس ختم نہ ہو، کیوں کہ اس سے پھر ان کے جندوں کا دروازہ بند ہوجائے گا۔ اس لیے یہ بھی پتہ نہیں کہ اس مرض پر یہ پریشان ہیں یا خوش، کیوں کہ یہ ان کے چندوں کا ایک ذریعہ ہے، تو ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ اپنے ظلم سے توبہ کرلیتے، مجاھدین پر ظلم کیا، قبائل پر ظالمانہ آپریشن مسلط کیے، چاہیے تو یہ تھا کہ تمام مسلمانوں سے عموما اور مجاھدین سے خصوصا معافی مانگتے، لیکن اس کے بجائے انہوں نے اس وباء کو اپنی تجارت کا ذریعہ بنالیا، لوگوں سے مانگنا شروع کردیا کہ ہمیں چندے دیے جائیں اور ہمارے قرضے معاف کردیے جائیں۔

غرض یہ کہ اس سے پہلے جب بھی ایسی وباء مسلمانوں پر آئی تو انہوں نے اپنے رب کی طرف رجوع کیا، اور ان وباؤں اور مصائب کو اس کے ذریعے ختم کیا اور واپس کیا۔

اس لیے ہم پوری دنیا کو توبہ اور ایمان کی دعوت دیتے ہیں کہ آؤ اپنے رب پر ایمان لاؤ، توبہ کرو، تمھارے پاس مادیات و سرمایہ ہے ، ہمارے پاس اسلام و ایمان اور قرآن ہے، آؤ پوری انسانیت کی مل کر خدمت کریں،  اپنے وسائل انسانیت اور بشریت کی خدمت میں استعمال کریں، اسی طرح ایمان و اسلام اور قرآن کے ذریعے اللہ کی مخلوق کو خیر اور فائدے پہنچائیں۔ اگر تم ایمان لے آئے اور اللہ پر عقیدہ مضبوط ہوگیا تو  ان عذابوں سے تم اتنے پریشان نہیں ہوگے، تمھارے پاس ایمان نہیں ہے ،  تم نے اللہ کی تقدیر  اور  اللہ کے تقدیری فیصلوں کو نہیں مانا، اگر تم ایمان لے آؤ تو یہ مرض  تمھاری اتنی پریشانی کا سبب نہیں بنے گا، کیوں کہ اگر کوئی شخص ایمان لے آئے تو اس کے لیے  اس کے بہت سے علاج موجود ہیں۔

مؤمن کا جب ایمان مضبوط ہو تو وہ ان مرضوں کی اتنی پرواہ نہیں کرتا  اور  نہ ان کے لگنے  سے ڈرتا ہے، کیوں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ لاعدویٰ (امراض میں تعدیہ یعنی ایک سے دوسرے کو لگنا نہیں ہے) ، اسی طرح فرمایا لایعدی شیئ شئیا (امراض ایک سے دوسرے کو نہیں لگتے)، اسی طرح فرمایا کہ فمن اعدی الاول (پہلے شخص کو کس نے مرض لگایا)، مثلا دو تین لو گ ہیں ، ایک سے دوسرے کو مرض لگ گیا تو سوال یہ ہے کہ پہلے کو مرض کس نے لگایا۔  لہذا اس سے اتنا ڈرنا اور اتنا پریشان ہونا اس کی وجہ یہی ہے کہ ان لوگوں کو اپنے رب پر ایمان نہیں ہے، اپنے رب پر عقیدہ نہیں ہے۔

اس لیے ہم تمام کفریہ ممالک سے یہ مطالبہ کرتے ہیں کہ آؤ اور اپنے رب کو پہچانو۔ ان حالات میں فرعون کی طرح نہ بنو جس کے بارے میں اللہ تعالی فرماتے ہیں:

وَ جَحَدُوۡا بِہَا وَ اسۡتَیۡقَنَتۡہَاۤ  اَنۡفُسُہُمۡ ظُلۡمًا وَّ عُلُوًّا(النمل:14)

اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ انہوں نے انکار کیا معجزوں سے، ایمان سے اور اسلام سے، حالاں کہ  انہیں پورا یقین حاصل ہوچکا تھا لیکن ظلم اور تکبر کی وجہ سے انہوں نے ماننے سے انکار کردیا۔ لہذا اگر فرعون کی طرح تم لوگ بھی اس بات پر مطمئن ہوچکے ہیں کہ یہ سب رب کی طرف سے ہے ، اُس کا عذاب ہے ، ہمارےگناہوں اور  ظلموں  کی وجہ سے ہم پر مسلط کیا گیا ہےتو آؤ اپنے رب کی طرف رجوع کرو،  اپنے رب کو پہچانو ، ایمان آؤ اور اللہ تعالی کے سامنے پورے اخلاص سے توبہ کرو۔

ہم تم سے یہ وعدہ کرتے ہیں کہ ہم ان وائرس والے دس لوگوں کے ساتھ ایک ہی برتن میں کھانا پینا کریں گے، ہمیں یہ وائرس متاثر نہیں کرے گا، کیوں کہ اللہ کے نبی ﷺ نے ہمیں اس کے علاج بتائے ہوئے ہیں، اللہ کے بنی کے مختلف اذکار اور مختلف دعائیں ہیں، مثلا :

  • بسم اللہ الذی لایضر مع اسمہ شیئ فی الارض ولا فی السماء وھو السمیع العلیم
  • اعوذ بکلمات اللہ التامات من شر ماخلق

انشاء اللہ تعالی اللہ تعالی کی خصوصی مدد کے ذریعے یہ وائرس هم پر اثر نہیں کرسکتے۔ یہ اتنی پریشانی اور ٹینشن اپنے اعمالوں کی وجہ سے پیدا ہوگئی ہے۔اس لیے ہم تمہیں ایمان کی اور اسی طرح توبہ کی دعوت دیتے ہیں۔

پھر ایک بات یہ کہ ایسے موقع پر مسلمانو ں کی کیا ذمہداریاں بنتی ہیں تو سب سے پہلے تو یہ کہ مسلمان ایسے حالات سے عبرت حاصل کریں۔ بنو نضیر پر اللہ کا عذاب آیا تو اللہ تعالی نے فرمایا کہفَاعۡتَبِرُوۡا یٰۤاُولِی الۡاَبۡصَارِ (اے عقلمندوں ان بنو نضیر کی حالت سے عبرت پکڑو)، ہم کہتے ہیں کہ اے مؤمنوں ان کفار کی حالت سے عبرت حاصل کرو۔

اسی طرح ایسے موقع پر مسلمانوں کی ایک ذمہ داری یہ بنتی ہے کہ پوری دنیا کو ایمان اور توبہ کی دعوت دیں، جس کی آواز پہنچ سکتی ہو تو اسے چاہیے کہ پورے میڈیا پر ایمان اور اسلام کی دعوت چلائے، یہ دعوت کا ایک موقع ہے، اس موقع سے فائدہ اٹھائیں اور اسے ضائع نہ کریں۔

پھر مسلمانوں کو ایسے موقع پر ایک کام یہ بھی کرنا چاہیے کہ کفار کی ان ہلاکتوں پر شکر کریں، بعضے لوگ الٹا انہیں تعزیتیں بھیجتے ہیں، ان کے لیے دعائیں کرتے ہیں، یہ غلط ہے، بلکہ ان کی ہلاکت پر تو اللہ کا شکر اداء کرنا چاہیے، اللہ تعالی فرماتے ہیں:

فَقُطِعَ   دَابِرُ الۡقَوۡمِ الَّذِیۡنَ ظَلَمُوۡا ؕ وَ الۡحَمۡدُ  لِلّٰہِ  رَبِّ الۡعٰلَمِیۡنَ(الانعام:45)

اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ میں نے ظالمو ں کی جڑیں اکھاڑدیں ، تم لوگ اللہ کا شکر اداء کرو کہالۡحَمۡدُ  لِلّٰہِ  رَبِّ الۡعٰلَمِیۡنَ۔ اس لیے ہم بھی اللہ کا شکر اداء کرتے ہیں کہ الحمد للہ اللہ تعالی نے ان کفار پر یہ مرض اور وائرس مسلط کردیا، کیوں کہ مسلمانوں کے ساتھ کون سا ایسا ظلم ہے جو انہوں نے نہ کیا ہو، کون سا ایسا ظلم باقی بچا ہے، کسی جگہ بھی مسلمان اور مجاھد کو رہنے نہیں دیتے، دنیا کی بالشت بھر زمین پر شرعی نظام نہیں مانتے نہیں برداشت کرتے، اسلامی نظام کسی صورت میں بھی برداشت نہیں کرتے۔ اس لیے ہم اللہ کا شکر اداء کرتے ہیں کہ الحمد للہ اللہ تعالی نے ان پر یہ عذاب مسلط کردیا۔جب ابو جہل مرگیا اور اس کا سر تن سے جدا کردیا گیا تو رسول اللہ ﷺ نے اللہ تعالی کے سامنے شکرانے کا سجدہ کیا، جب مسیلمہ کذاب مارا گیا تو ابوبکر صدیقرضی اللہ عنہ نے اللہ کے سامنے شکرانے کا سجدہ کیا، خوارج کا سربراہ جب مارا گیا تو علی رضی اللہ عنہ نے اللہ تعالی کے سامنے سجدۂ شکر ادا کیا، لہذا ان کی ہلاکت پر اللہ کا شکر ادا کرنا چاہیے، یہ بھی ایسے حالات میں مسلمانوں کی مسؤولیت ہے۔

چوتھا یہ کہ ایسے موقع پر مسلمانوں کو کافروں پر مسخرے کرنے چاہییں، جیسا کہ نوح علیہ السلام فرماتے ہیں:

فَاِنَّا نَسۡخَرُ  مِنۡکُمۡ کَمَا  تَسۡخَرُوۡنَ (ھود:38) ( ہم بھی تم پر ایسے ہی مسخرے کریں گے جیسا کہ تم مسخرے کرتے ہو)

قیامت کے دن بھی مسلمان ان کفار کا مذاق اڑائیں گے، جیسا کہ اللہ تعالی فرماتے ہیں:

فَالۡیَوۡمَ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا مِنَ الۡکُفَّارِ یَضۡحَکُوۡنَعَلَی الۡاَرَآئِکِ ۙ یَنۡظُرُوۡنَ(المطففین:34،35)

دنیا میں مسلمانوں پر ظلم کیے جاتے تو کفار تماشہ کرتے، آخرت میں کفار پر عذاب ہوگا اور مسلمان تماشہ کریں گے۔ یعنی یہ حالت قیامت میں بھی آئے گی، اس لیے اگر دنیا میں بھی ان پر یہ حالت آجائے تو ان پر مسخرے اور ان کا مذاق اڑانے کی ضرورت ہے۔

پانچواں یہ کہ کفار کو مزید بددعائیں دینی چاہییں کہ اللہ تعالی ان پر اس سے بھی  زیادہ خطرناک عذاب مسلط کریں۔نوح علیہ السلام کی بد دعاء قرآن میں مذکور ہے:

رَّبِّ لَا تَذَرۡ عَلَی الۡاَرۡضِ مِنَ  الۡکٰفِرِیۡنَ دَیَّارًا(نوح:26)

“اے اللہ زمین پر کفار کا ایک گھر بھی نہ چھوڑیں”

موسی علیہ اسلام کی بد دعائیں قرآن میں مذکور ہیں:

رَبَّنَا اطۡمِسۡ عَلٰۤی اَمۡوَالِہِمۡ وَ اشۡدُدۡ عَلٰی قُلُوۡبِہِمۡ فَلَا یُؤۡمِنُوۡا حَتّٰی  یَرَوُا  الۡعَذَابَ  الۡاَلِیۡمَ (یونس:88)

“اے اللہ ان کے مال تباہ کردے، یا اللہ ان کے دل سخت کردے،  جب تک یہ عذاب نہیں دیکھیں گے ایمان نہیں لائیں گے۔”

اس لیے ہم بھی اللہ تعالی سے دعاء کرتے ہیں کہ اے اللہ ان پر مزید عذاب بھیج تاکہ یہ اپنے ظلموں سے باز آجائیں۔ ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں مسلمان ان کی جیلوں میں قید ہیں،ان کے ہاتھوں کتنےبچے یتیم ہوگئے، کتنی عورتیں بیوا ہوگئیں،  ان کے ظلموں اور وحشی بمباریوں کی وجہ سے کتنے لوگ اپاہج ہوگئے۔ اس لیے ہم بھی یہی کہتے ہیں کہ جب تک ان پر یہ عذاب مسلط نہ ہوئے تو اس وقت تک یہ ایمان نہیں لائیں گے۔  اس لیے ہم اللہ سے سوال کرتے ہیں کہ ان پر مزید اپنے عذاب مسلط کریں۔

ہمارے مشفق نبی ﷺ نے بھی کفار کو بد دعائیں دیں ہیں :

ملء اللہ بیوتھم وقبورھم نارا

“اے اللہ ان کے گھر اور قبریں آگ سے بھردیں۔”

اسی طرح اللہ کے بنی ﷺ نے اس طرح بھی بد دعاء دی:

اللھم اشدد وطئک علی مضر اللھم سنین کسنی یوسف

“اے اللہ مضر قبیلے کو پکڑ اور اے اللہ یوسف علیہ السلام کے قحط کی طرح قحط ان پر مسلط کر۔”

لہذا ہم بھی یہی کہتے ہیں کہ اے اللہ ان کفار پر قحط مسلط کر، جو بد دعاء ہمارے نبی نے کی تھی وہی بد دعاء ہم بھی کرتے ہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے یہ بد دعاء بھی کی تھی:

اللھم اہزم الاحزاب

“یا اللہ ان اتحادیوں کو شکست دے۔”

ہم بھی اسی طرح دعاء کرتے ہیں کہ اے اللہ ان اتحادیوں کو جو کہ سب مسلمانوں کے قتلِ عام میں شریک ہیں، سب نے اس میں حصہ لیا، سب نے مسلمانوں کے خلاف ایک مضبوط اتحاد کیا ، اور بعض اس پر فخر کرتے ہیں کہ ہم کفر کے فرنٹ لائن اتحادی ہیں۔اس لیے ہم بھی یہ دعاء کرتے ہیں کہ اے اللہ تو ان سب اتحادیوں کو اپنی پکڑ میں لے۔

نبی ﷺ نے تین دفعہ یہ بد دعاء کی تھی :

اللھم علیک بالقریش

” اے اللہ قریش کو اپنی پکڑ میں لے”

لہذا ہمیں بھی ایسی ہی بد دعائیں کرنی چاہییں۔

امام بخاری رحمہ اللہ نے باب ذکر کیا ہے بخاری شریف میں “باب الدعاء علی المشرکین بالھزیمۃ والزلزلۃ”  یعنی مشرکین کے لیے بد دعائیں کرنا کہ اللہ تعالی ان کو شکست دے اور ان پر زلزلے برپا کرے۔

اسی طرح مسند ابوعوانہ میں باب مذکور ہے “بیان اباحۃ القنوت علی اعداء الذین یصیبون بعض المسلمین بالقتل” یعنی ان کفار کو بد دعائیں دینا جو مسلمانوں کو شہید کرتے ہیں، ایسے کفار کو بد دعائیں دینی چاہییں۔

آج اگر کوئی ایسی حکومت ہےجو آپ کو شہید نہیں کرتی  مگر آپ کا ایک اور مسلمان بھائی ہے جسے وہ پکڑتی ہے  اور شہید کرتی ہے ، اس پر ظلم ہوتا ہے، اس پر وحشیانہ بمباری ہوتی ہے، اس کے گھر کو مسمار کیا جاتا ہے،  اس کو ہجرتوں پر مجبور کیا جاتا ہے، بچے یتیم ہوتے ہیں، بیویاں بیوا ہوتی ہیں، تو اگر آپ کو نہیں مارا، آپ  پر ظلم نہیں کیا تو آپ کے ایک مسلمان بھائی پر تو ظلم و زیادتی کی جاتی ہے۔

اس لیے مسند ابو عوانہ میں ہے کہ جن کفار کے ہاتھوں مسلمان شہید ہوں تو انہیں بددعائیں دینی چاہییں۔ اس لیے میرے محترموں ہمیں بھی یہ بد دعائیں دینی چاہییں کہ اے اللہ  تعالی یہ شرعی نظام کے دشمن تباہ و برباد کردیں اور اللہ تعالی مسلمان اور مجاھدین کے دشمنوں کو پکڑیں اور تباہ کریں، اور جو لوگ شرعی نظام اور جہاد کے عاشقان ہیں اللہ تعالی ان کی ہر قسم کی حفاظت اور نصرت کریں۔ آمین

اقول قولی ھذا استغفر اللہ لی ولکم ولسائر المسلمین

وصلوا علی نبیکم محمد وعلی آلہ واصحابہ اجمعین

About umar

Check Also

مضمون نمبر 39 جہاد فی سبیل اللہ کے حوالے سے پیدا کئے جانے والے مختلف شبہات کا رد

مکتبۃ عمر کی جانب سے پیش خدمت ہے اعلائے کلمۃ اللہ کی خاطر جان کی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے