امیر تحریک طالبان پاکستان کا عید الفطر 1441-2020 کے موقعہ پر امتِ مسلمہ کیلئے پیغام

امیر تحریک طالبان پاکستان کا عید الفطر 1441-2020 کے موقعہ پر امتِ مسلمہ کیلئے پیغام

بسم اللہ الرحمن الرحیم

السلام علیكم ورحمۃ اللہ وبركاتہ

تمام اُمتِ مسلمہ كو بالعموم اور انقلاب كے زخم خوردہ لوگوں كو بالخصوص عید الفطر كی مبارك باد پیش كرتا ہوں، اللہ تعالى ہم سب كی عبادات كو اپنے دربارِ عالیہ میں قبول فرمائے۔

پوری دنیا میں اپنے دین، ایمان، عزت وناموس كے دفاع كی خاطر لڑنے والوں كی خدمت میں عرض كرتا ہوں كہ وہ حالات كے شدائد سے دل برداشتہ نہ ہوں۔ محكوم، مظلوم، مغلوب اورمقہور زندگی سے شہادت كی موت بہت اعلىٰ واَرفع ہے، لہذا دنیا میں باعزت جینے اور خدا كے حضور میں سرخ رُو اُٹھنے كے لیے اپنی مبارك ومقدس جد وجہد جاری ركھیں۔

البتہ! انقلابات میں كامیابی كے لیے تین باتوں كا خیال واجب كے درجے میں ہے:

۱- اپنی صفوں میں وحدت قائم ركھنا۔

۲- معتدل اور حالات كے مناسب سیاست اختیار كرنا۔

۳- معتدل افكار وپالیسی كو ہاتھ سے جانے نہ دینا۔

ہم نے دیكھا كہ جن مبارك جہادی قوتوں نے اپنی صفوں كو متحد ركھ كر بین الاقوامی حالات كے تناظر اور شریعت كی روشنی میں اپنے خطے كے مناسب سیاست كی اور غیر سنی پُر تشدّد افكار وپالیسی سے احتراز كیا اُن كے قافلے منزل تك پہنچتے ہوئے نظر آرہے ہیں، اور جنہوں نے ہر چیز میں تشدّد وغلو سے كام لیا اور اہل السنۃ والجماعۃ كے معتدل فكری، نظریاتی اور سیاسی منہج سے دوری اختیار كی تو انہوں نے اُمتِ مسلمہ كا بھی شیرازہ بكھیر دیا اور اپنی سواری كے پیر بھی خود كاٹ ڈالے اور ان كے سامنے سے منزل كے نشان تك مٹ گئے، لہذا عبرت كے لیے یہی مشاہدہ ہی كافی ہے۔

اپنے جگر گوشوں كو خدا كے حضور میں پیش كركے بے كسی، بے بسی اور تنہائی میں آنسوں بہانے والى ماؤں، بہنوں اور بیٹیوں كی خدمت میں عرض ہے كہ اللہ كی قسم! ان كی آہوں، سیسكیوں اور رخساروں پر بہتے ہوئے آنسوں سے ہم ہر گز غافل نہیں، ان كے ساتھ درد وغم میں برابر كے شریك ہیں، مگر ساتھ ساتھ ان كی خدمت میں یہ بھی عرض ہے كہ اپنے زخمی دلو ں پر صبر كا مرہم ركھ كر دشمن كو خوش كرنے كی بجائے ہمت وحوصلہ كا مظاہرہ كریں۔

پاكستانی قوم اور بالخصوص دیندار طبقے كی خدمت میں یہ عرض ہے كہ الحمد لله! ہم نہ تو ملك كے دشمن ہیں اور نہ ہی قوم كے۔ الحمد لله! ہم علماء دیوبند (كثر اللہ سوادهم وعظم اللہ اجرهم) كے بیٹے ہیں، جن كى مسلسل اجتماعی كوششوں نے خطے كی دینی ومذہبی اقدار كو بچانے میں اصل كردار ادا كیا ہے اور ہمارا یہ مبارك جہادی قیام اُن مبارك كوششوں كا تسلسل ہے جن كی بدولت (ان شاء اللہ) ہم ایك مبارك اسلامی معاشرے كی تشكیل میں كامیاب ہو جائیں گے۔

پاكستان پر جنگ ان بكے ہوئے جرنیلوں اور غلام حكمرانوں نے ذاتی مفادات كی خاطر مسلط كر ركھى ہے[جوکہ ان کے نابود ہونے تک جاری رہے گا (ان شاء اللہ)] ، مجاہدین كے گھر بار، عزت وناموس پر اغیار كے اشارے سے حملہ كركے مجاہدین كو اپنے خلاف لڑنے پر مجبور كر دیا، دوسری طرف ان ظالموں نے عوامی مقامات كو از خود نشانہ بنا كر مجاہدین كو قوم اور ملك كے دشمن ثابت كرنے كی كوشش كی۔ مجاہدین كی طرف سے ان بے سر وپا ذمہ داریوں كو قبول كرنے والوں كا حال بھی پوری دنیا نے دیكھ لیا كہ وہ كون تھے؟ اور كہاں چلے گئے؟

ہم پوری پاكستانی قوم سے اپيل كرتے ہیں كہ اپنے دین، ایمان، قوم اور ملك كی حفاظت كے لیے ان بكے ہوئے اور اَغیار كے مسلط كردہ جرنیلوں اور حكمرانوں كے خلاف متحد ہو جائیں اور مجاہدینِ اسلام كا ساتھ دیں۔ ہم دیكھ رہے ہیں كہ ملك وقوم کے ساتھ وفادار لوگ دھیرے دھیرے غائب یا بر سرعام شہید كئے جا رہے ہیں، اور ملك پر قابض طبقہ بڑی تیزی كے ساتھ ملك كو بے دینی اور بے حیائی كی طرف لے جا رہا ہے، اور ہمارا یہ بھی كھلے عام مشاہدہ ہوا كہ پاكستان كے ساتھ وفا كا بدلہ نسل كشی یا پھر غلامی كی زنجیریں ہے۔

اس كی روشن مثال پختون اور قبائلی عوام ہیں، انہوں نے اس ملك كی حفاظت كی خاطر سب كچھ داؤ پر لگادیا ، جہاں سے ملك كو خطرہ درپیش ہوا وہاں كا رخ كیا، مگر نتیجتاً آج قبائل اور پختونوں كی بے دردی سے نسل كشی ہو رہی ہے، چُن چُن كر ان میں كام كے بندوں كو شہید كیا جا رہا ہے، حتىٰ كہ ان سے اپنی قربانیوں كے عوض حاصل كردہ آزادی كو چھین كر ”كے، پی، كے“ میں ضم كركے غلامی اور محكومی كی زنجیروں میں جكڑ دیا، ان كے گھروں كو ملیاميٹ كیا، بازاروں كو لوٹا، اقتصاد كا بیڑا غرق كیا، اور اس تمام ظلم وجبر كو ”گریٹ ویكٹری“ (بڑی كامیابی) كا نام دیا۔

گریٹ ویكٹری كا مطلب اس كے سوا اور كیا ہو سكتا ہے كہ ان جرنیلوں كی جنگ ڈالر كے عوض اور امریكہ كی خوشنودی كے لیے راسخ العقیدہ اور قبائل كے خلاف تھی،دہشت گردی فقط ایك بہانہ تھا۔

اہلیانِ پاکستان! بہت سوچ بیچار كے بعد آدمی اس نتیجے پر پہنچتا ہے كہ جب تک تمام پاكستانی عوام (جو مختلف عسكری، غیر عسكری، سیاسی اور غیر سیاسی تحریكوں اور تنظیموں میں بٹی ہوئی ہے) مل كر متحد نہ ہو جائیں، انفرادی مفادات كو بالائے طاق ركھ كر (وہ اجتماعی مفادات جن كی خاطر بڑی قربانیوں كے عوض یہ ملك حاصل ہوا تھا كو سامنے ركھ كر) اجتماعی طور پر اِن جرنیلوں سے چھٹکارے کی کوشش نہ كریں تب تك تمام پاكستانی عوام اِن زرخرید جرنیلوں كے ہاتھوں پٹتے رہیں گے اور جب تک موجودہ نظام کے ساتھ پاکستان قائم رہے گا تمام پاكستانی ان كے غلام بنے رہیں گے۔

اگرچہ ہماری بات قوم كو سیاست سے بہت زیادہ ناواقفیت پر مبنی لگے گی اور محال نظر آئے گی، مگر نجات كا راستہ یہی ہے۔

قبائل كی خدمت میں بالخصوص بڑی لجاجت كے ساتھ عرض كرتا ہوں كہ

خدارا! اپنے باپ دادا كے ستانوے سالہ جہادِ آزادی كے ثمرات كو خاك میں نہ ملاؤ، اُن كی اَن گنت قربانیوں كے عوض حاصل شدہ آزادی كو غلامی كی زنجیریں مت پہناؤ، اپنے گھروں كے سامنے تھانہ، كچہری كو لا كر اپنی ماؤں، بہنوں اور بیٹیوں كی عزتوں كو ان بے حیاؤں كے سپرد مت كرو، قبائلی پُر غیرت كلچر كو بے حیا جمہوریت كے حوالے مت كرو، اپنے ذخائر پر ان بے انصاف جرنیلوں اور حكمرانوں كو قبضہ مت كرنے دو۔

علماء كرام كی خدمت میں عرض ہے كہ ہم آپ حضرات كے پُرجوش نعروں اور جلوسوں كا ثمرہ ہیں، آپ حضرات نے فتوىٰ دیا كہ قبائل میں امریكہ كے ایماء پر جاری آپریشنوں میں مرنے والے فوجی مردار اور آپ حضرات شہید ہیں، ہم نے آپ حضرات كی آرزؤں اور امنگوں كو عملی جامہ پہنایا، جبکہآج بعض حضرات تو ہمیں دہشت گرد اور ملك دشمن كہنے سے بڑھ كر اس مردار فوج كے ساتھ مل كر ہمیں شكست دینے كے دعویدار ہیں گویا وہ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ قبائل كی نسل كشی اور ہمارے ہی تربیت یافتہ مجاہدین كو صفحۂ ہستی سے مٹانے میں ہمارا كردار فوج سے بھی بڑھ كر ہے، مگر افسوس كہ فوج كے ساتھ اتنی وفادری اور ان كو مجاہدین كے خلاف استعمال كرنے كے باوجود فوجی آقاؤں نے انہیں انتہائی بے اعتنائی كے ساتھ نظر انداز كیا، جو كہ حضرت كے ایك پرشكوہ شعر كے بار بار پڑھنے سے معلوم ہوتا ہے:

خون ہم نے دیا گردنیں پیش کیں پھر بھی كہتے ہیں ہم سے یہ اہل چمن یہ چمن ہمارا، تمہارا نہیں۔

یہ تو ان ظالموں كے ساتھ دوستی كا دنیاوی حال ہے، معلوم نہیں آخرت میں اللہ تعالیٰ كے سامنے حضرت والا كیا جواب دے گا؟ جب اللہ تعالى پوچھیں گے كہ تیرے فتوؤں كے نتیجے میں جان كی بازی لگانے والوں كے خلاف كفری قوانین كے ركھوالوں كا ساتھ كیوں دیا؟

اللہ تعالىٰ ہم سب کی حفاظت فرمائیں۔ (آمین)

امیر تحریك طالبان پاكستان

مفتی ابو منصور عاصم

https://justpaste.it/3zu6l

 

About umar

Check Also

02-اللہ کے عذاب کیوں آتے ہیں؟

02-اللہ کے عذاب کیوں آتے ہیں؟ بیان:شیخ گل محمد باجوڑی حفظہ اللہ مترجم:مولانا عفّان صدیقی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے