11۔روشن خیالی یا فرقہ پرستی؟

11۔روشن خیالی یا فرقہ پرستی؟

اسباب کا تجزیہ کرنا بہت مشکل ہو رہا ہے ۔۔۔
مخلوط تعلیم کی بات کروں تو خواتین کو استقبالیے پر بٹھانے والے چیخیں گے، میڈیا کا رونا روؤں تو جدیدیت کے مشعل بردار بھاگتے ہوئے آئیں گے۔والدین کی بے توجہی کا تذکرہ کروں تو غم ہائے روزگار کا ماتم کرنے والے اٹھ کھڑے ہوں گے،اسلام سے دوری کی بات کروں تو مذہب سے بیزار لبرلز آسمان سر پر اٹھالیں گے، اور اگر بھارتی فلموں اور ڈراموں کے ذریعے ہماری روحوں تک اترتے کلچر کا رونا روؤں تو امن کی آشا کا دم ٹوٹنے لگے گا خواتین کو مردوں کے شانہ بشانہ کھڑا کر کے خوش ہونے والو خوش رہو،۔۔غم ہائے روزگار پر پروردگار کائنات سے شاکی لوگو کرتے رہو شکوے گلے۔۔۔اے موم بتی بردار آزاد خیال آنٹیو جلالو موم بتیاں ان معصوم عشاق کی یاد میں۔ ۔اور اے امن کے داعیو، اے گلوبل ولیج کے باسیو ۔ ذرا سوچو تو سہی۔۔۔۔
تمہاری ایک ٹانگ مذہب میں اڑی ہوئی ہے تو ایک انگلی بالی ووڈ کی فلمی طوائفوں پر اٹھی ہوئی ہے ایک آنکھ مشہورانڈین گانے پر ہے تو دوسرے کان میں حوریا رفیق کی نعت رس گھول رہی ہے۔موبائیل کی رنگ ٹون پر تو تم نے شیخ السدیس کی تلاوت لگائی ہوئی ہے لیکن وال پیپر پر ننگے لباس میں ملبوس کسی ماڈل کی چٹی کلائیاں چمک رہی ہوتی ہیں، تم لڑکیوں کو ریسپشن پر بٹھانے کے حق میں صفحات کے صفحات کالے نیلے کر دیتے ہو لیکن اپنی بیٹھک میں آئے ہوئے مہمانوں کیلیے چائے کی ٹرے پردے کے پیچھے سے خود پکڑ تے ہو۔ تم ایک طرف کم عمری کی شادی کے خلاف فائیو سٹار ہوٹل میں سیمینار منعقد کروا تےہو تو دوسری طرف کم عمری کے عشق کو فطری اور الہامی جذبہ گردانتے ہوئے نہیں تھکتے۔ رزق بزور رشوت کشید کرتے ہو اور قصائی کے گدھا ذبح کرنے پر سیخ پا ہو جاتے ہو۔خود چینل وی دیکھتے ہو اور امید رکھتے ہو کہ بچے پیس انٹرنیشنل دیکھیں گے۔
تم تمہ کھا کر سمجھتے ہو کہ ڈکار خربوزے کا آئے گا۔تم کانٹے بو کر پھولوں کے متمنی ہو ۔
جدید دنیا میں دو قسم کے لوگ رہتے ہیں ایک قسم کو لبرل مائنڈڈیا ماڈریٹ یعنی روشن خیال اور آزاد خیال کہتے ہیں جبکہ دوسرے قسم کو نیرومائنڈڈ یعنی تنگ ذہن ،تنگ نظر اور انتہا پسند محدود نظر رکھنے والا کہتے ہیں لیکن مسئلہ یہ ہے کہ کسی کو اس کی پہچان نہیں ہے بلکہ غلط العام کے طور پر استعمال ہوتے ہیں یعنی ایسی غلطی جو ہرخاص وعام محسوس ہی نہیں کرتے۔
مغربی دنیا کی تو ہم بات ہی نہیں کریں گے کیونکہ مسئلہ ہمارے ہاں برائے نام اسلامی ممالک کا ہے جہا ں روشن خیال کو انتہا پسند جبکہ خودغرض اور تنگ نظر کو روشن خیال تصور کیا جاتا ہے۔ یعنی جو لوگ صرف اور صرف خود کو سہولت میں رکھنے کیلئے عزت تک کو قربان کرتے ہیں اپنے ہی مستقبل کی خاطر اپنا چین سکون ،گھریلومحبت،والدین کی عزت ادب واحترام حتٰی کہ ماں بہن کی عزت تک کو قربان کرتے ہیں صرف اپنے ہی مستقبل کی خاطر تاکہ مجھے اچھی نوکری ملے اور میری آنے والی زندگی آرام اور سہولت کے ساتھ گزرے نہ ان کو اپنے ماں باپ کی فکر ہوتی ہے نہ بہن بھائی نہ کسی دوسرے رشتے کی بس اپنی بیوی بچوں تک ایک محدود نظر رکھتے ہیں یہی سوچ اسی روشن خیال گھر کے ہر فرد کی ہوتی ہے بہن اپنا مستقبل بنانے کیلئے نکلتی ہے بھائی اپنا مستقبل بنانے کیلئے نہ بہن کو بھائی کی فکر ہوتی ہے اور نہ ہی بھائی کو بہن کی فکر ہوتی ہے۔دونوں ایک دوسرے سے بے خبراپنے اپنے کام سے جاتے ہیں آگے کیا ہوتا ہے وہ تو روزانہ اخبارات میں آپ سنتے ہوں گے غیرت کے نام پر قتل ،ہوٹلوں میں پھانسی گاڑی میں لڑکی کی لاش وغیرہ بہت سارے ایسی خبریں روزانہ دیکھنے کوملتی ہیں۔
دوسری طرف انہی روشن خیال لوگوں کی نظر میں جو تنگ ذہن اور تنگ نظر ہوتے ہیں جن کو دوسری نظر میں طالبان بھی کہتے ہیں ،وہ بے چارے تو اپنے گھر میں ماں باپ کی عزت واحترام اپنی ماں بہن کی عزت کا خیال تو کیا پڑوس میں کسی کو ماں باپ سے بدسلوکی کرتے دیکھتے ہیں تو ان کو بھی منع کرتے ہیں کسی کی ماں بہن کو بلاضرورت باہر دیکھنے پر بھی ان کے گھر والوں سے الجھتے ہیں اس کے علاوہ ملک کے اندر اگر اسلام آباد جامعہ حفصہ کی بہنیں ہو ں،کشمیری بہنیں ہو یا برمی ،فلسطینی اور شامی بہنیں ہو سب کی فکر میں اپنے مستقبل کو داؤ پر لگائے ہوئے ہیں اپنے مستقبل کو دوسروں کیلئے قربان کرنے والے طالبان کو بھی مستقبل کی فکر ہوتی ہے مگر وہ اصل مستقبل ہے جو مرنے کے بعد ہوتاہے۔ اپنے لیے تو سب جیتے ہیں مگر زندگی تو وہ ہوتی ہے جو دوسروں کیلئے گزاری جائے ان کے نظر اور خیال میں اپنا اپنے بھائی بہن اور پڑوسی کا مستقبل ایک ہی ہوتا ہے بلکہ پوری دنیا کے مسلماں کو وہ جسد واحد کی طرح تصور کرتے ہیں دنیا کے کسی بھی کونے میں کسی مسلمان کو تکلیف ہوتی ہے تو طالبان غم کے ساتھ ساتھ ان کے حق میں اپنا کردار بھی ادا کرتے ہیں جو کہ اصل روشن خیالی ہے

پاکستان ایک ایسا ملک ہے کہ جہاں روشن خیالی اور فرقہ پرستی کے مابین فرق نہیں ہے۔ روشن خیال طالبان پر تنقید کرتے ہیں، جبکہ حقیقت میں ان کی تنقید کا محرک ان کی روشن خیالی نہیں بلکہ ان کی فرقہ پرستی ہے۔
کیوں کہ یہی روشن خیال فرقہ پرست سیاسی جماعتوں کی دہشت گردی، لوٹ مار، بد عنوانی اور غنڈہ گردی پر یکسر خاموشی اختیار کرلیتے ہیں۔ وجہ اس کی صاف ظاہر ہے کہ طالبان پر تنقید کے دوران ان کے اندر کا فرقہ پرست جاگ اٹھتا ہے اور وہ روشن خیالی کا لبادہ اوڑھ لیتا ہے۔ لیکن حکومتی دہشت گردی پر ان کے اندر کا فرقہ پرست مکمل طور پر مطئمن رہتا ہے۔ کراچی میں پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم کی دہشت گردی کے حوالے سے یہ روشن خیالی کا لبادہ اوڑھے ہوئے فرقہ پرست ہمیشہ خاموش رہتے ہیں اسی طرح فوجی دہشت گردی پر بھی الٹا طالبان پر تنقید کرکے ان سیاسی جماعتوں اور عسکری وسول اداروں کی دہشت گردی کی پردہ پوشی کرتے رہتے ہیں۔۔ کیا یہ سچ نہیں ہے کہ بعض سیاسی جماعتوں نے سندھ (کراچی) میں بارہ سے پندرہ ہزار لوگوں کا قتال کرکے بدترین دہشت گردی کا ارتکاب کیا ہے؟ کیا ان جماعتوں نے کراچی شہر کو خوف و ہراس کا گہوارہ نہیں بنا رکھا تھا؟
کیا ان جماعتوں نے دہشت گردی کے علاوہ بھتہ خوری، منی لانڈرنگ، ٹارگٹ کلنگ اور زمینوں پر قبضے نہیں کیے ہیں؟
کیا ان سیاسی جماعتوں نے اسلحے کے ذخائر جمع نہیں کررکھے ہیں اور دہشت گردوں کو فنڈنگ کا باقاعدہ انتظام نہیں کررکھا ہے؟
اگر ان سب سوالوں کا جواب اثبات میں ہے تو یہ روشن خیالی کا لبادہ اوڑھے ہوئے دہشت پسند فرقہ پرست ان سیاسی جماعتوں کو ان کے قبیح افعال کا جواز کیوں فراہم کرنے میں مگن ہیں؟ صرف اس وجہ سے کہ کراچی کی ان دہشت گرد جماعتوں سے ان کی فرقہ ورانہ ہم آہنگی ہے؟ یا پھر وہ سمجھتے ہیں کہ اگر یہ سیاسی جماعتیں دہشت گردی، منی لانڈرنگ، بھتہ خوری، زمینوں پر قبضے میں ملوث ہے تو کیا ہوا، فوج بھی یہی کام کرتی رہی ہے۔ تو کیا اس سے یہ نتیجہ اخذ کیا جائے کہ صورتحال ہمیشہ کے لیے جوں کی توں رہے؟ سب خاموشی سے اور مکمل ’’مفاہمت‘‘ کے ذریعے عوام کا قتال کرتے رہیں، لوٹ کھسوٹ کا سلسلہ جاری رہے اور غیر ملکی بنکوں کو یہ سیاسی وعسکری دہشت گرد بھرتے رہیں؟

#Mukarram_Khurasani
@harfehaqeeqat

About umar

Check Also

18۔کرونا وائرس یا لشکر جبار؟

18۔کرونا وائرس یا لشکر جبار؟ ہر مرض اللہ تعالیٰ کا حکم ہوتا ہے اللہ کے …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے