9۔ففتھ جنریشن وار فیئر

9۔ففتھ جنریشن وار فیئر

ہر کچھ عرصے بعد نئی اصطلاحات کا فیشن شروع ہو جاتا ہے اور پھر ان کی جگہ مزید نئی اصطلاحات آ جاتی ہیں اور پرانی والی غیر محسوس طریقے سے غائب ہو جاتی ہیں۔جیسے جمِ غفیر ملین مارچ اور جنگوں میں بھاری مادی و جانی نقصان کولیٹرل ڈیمیج ہو گیا ، جھوٹ کے لیے متبادل سچائی ( آلٹر نیٹو ٹرتھ )کی اصطلاح ظہور میں آ چکی ہے۔جنگی طیارہ یا جنگی بحری جہاز اسٹرٹیجک پلیٹ فارم بن چکا ہے۔ اسی طرح پاکستان میں آج کل ‘ففتھ جنریشن وار فئیر’ کی اصطلاح کا استعمال کافی عام ہو گیا ہے۔ حکومت کے وزرا ہوں یا پاکستانی فوج کے ترجمان یا سوشل میڈیا پر صارفین، سب نے مخلتف مواقع پر اس بات کو دہرایا ہے کہ ہمیں ففتھ جنریشن وار فئیر کا مقابلہ کرنا ہوگا۔ اس طرح کی اصطلاحات کا استعمال بظاہر جمہوریت اور سول حکومتوں کو کمزور کرنے کے لیے کیا جاتا ہے۔ اس کو پاکستان، ہندوستان، امریکہ اور دنیا بھر میں مختلف ریاستیں استعمال کرتی ہیں۔ اگر کشمیر کو دیکھا جائے تو وہاں انڈیا اپنی فوج کی موجودگی کے لیے یہی جواز بناتا ہے کہ وہاں پر جنریشن وار فیئر لڑی جا رہی ہے جو کہ ان کے ملک کے لیے خطرے کا باعث ہے۔ جنریشن وار فیئر اصل میں جنگوں میں جدت اور جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کا نام ہے۔یہ بات بھی ذہن میں رہے کہ یہ اصطلاحات غیرمسلموں اور خصوصاً یہودیوں کے جاری کردہ ہیں ، مسلم ممالک میں یہ کیوں استعمال ہوتا ہے اس بارے میں محمدعربی ﷺ کے حدیث مبارک سے رہنمائی حاصل کی جاسکتی ہے ۔
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ
لَتَتْبَعُنَّ سَنَنَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ شِبْرًا شِبْرًا وَذِرَاعًا بِذِرَاعٍ حَتَّى لَوْ دَخَلُوا جُحْرَ ضَبٍّ تَبِعْتُمُوهُمْ قُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ الْيَهُودُ وَالنَّصَارَى قَالَ فَمَنْ
[ متفق عليه ] تم لوگ ضرور بالضرور اپنے سے پچھلے لوگوں کی اتباع کرو گے بالشت بر بالشت اور ہاتھ در ہاتھ. اگر ان میں سے کوئی گوہ کے بل میں داخل ہوگا تو تم بھی اس کی پیروی کروگے ہم نے دریافت کیا کہ کیا یہود و نصاریٰ کی؟تو آپﷺ نے فرمایا کہ پھر کس کی؟
چونکہ آج کل کے مسلماں بالخصوص حکمران طبقہ اسی حدیث کے مصداق ہیں تو ہم نے یہ جاننے کی کوشش کی ہے کہ یہ جنریشن وار فئیر آخر ہے کیا چیز؟ اور کیا واقعی پاکستان میں ایسی کوئی جنگ لڑی جا رہی ہے۔
وار فئیر ماڈل کا استعمال سنہ 1648 میں معاہدہ امن ویسفالیہ کے بعد شروع ہوا۔ یہ معاہدہ اس 30 سالہ جنگ کے بعد ہوا تھا جو اُس وقت کی جرمن سلطنت اور دوسرے ممالک کے درمیان مذہبی بنیاد پر شروع ہوئی تھی۔یاد رہے کہ یہ تیس سالہ جنگ کیتھولک عیسائیوں اور پروٹیسٹنٹ عیسائیوں کے درمیان مذہبی منافرت کی بنیاد پر شروع ہوئی تھی جس میں تقریباً 80 لاکھ لوگ ہلاک ہوئے تھے۔ جنگوں کے ماڈل یعنی وار فئیر ماڈل کی اصطلاح اسی معاہدے کے بعد سے شروع ہوئی اور اس 30 سالہ جنگی دور کو ‘فرسٹ جنریشن وار فئیر’ کہا گیا۔ ہنگری کی نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی کی ایک ریسرچ کے مطابق فرسٹ جنریشن وار فیئر جنگوں کی وہ شکل ہے جس میں بڑی سلطنتیں ایک دوسرے کے خلاف جنگ لڑ رہی ہوتی ہیں۔ ان جنگوں کو ‘فری انڈسٹریل وارز’ بھی کہا گیا ہے۔اس جنریشن میں انفنٹری یا فوج کے دستے ایک دوسرے کے آمنے سامنے ہوتے ہیں اور انسانی قوت کو کامیابی کا ضامن سمجھا جاتا ہے یعنی جتنی بڑی فوج ہوگی اتنی ہی زیادہ کامیابی ہوگی۔یہ پہلی جنریشن17 ویں صدی کے وسط سے لے کر 19 ویں صدی کے آخر تک چلتی رہیں اور انھی اصولوں پر دنیا بھر میں مخلتف جنگیں لڑی گئیں۔
اس کے بعد انیسویں صدی کے وسط سے سیکنڈ جنریشن وار کا آغاز ہوا ،امریکی پروفیسر رابرٹ جے بنکر کی لکھی ہوئی ایک تحقیق کے مطابق سیکنڈ جنریشن وار فیئر ٹیکنالوجی کی جنگیں تھیں جس میں فوج کے دستوں کی جگہ طاقتور ہتھیاروں نے لے لی اور جنگوں میں بڑا اسلحہ جیسا کہ مشین گن، میگزین رائفلز، توپوں نے لے لی۔ پروفیسر رابرٹ نے ان جنگوں کو ٹیکنالوجی کی جنگیں قرار دیا۔ پھر اسی پروفیسر کے ایک تحقیقی مقالے میں تھرڈ جنریشن وار فیئر کے بارے میں اس نے لکھا تھا کہ یہ جنگیں آئیڈیاز یعنی خیالات کی بنیاد پر شروع ہوگئیں۔پروفیسر رابرٹ کے مطابق اس دور میں جنگی چالوں کا استعمال عام ہوا۔ ان کے مطابق ان جنگوں میں مختلف چالوں سے دشمن قوتوں کی جنگی طاقت کو کمزور کیا جاتا ہے اور یا ایسی جگہوں سے حملہ کیا جاتا ہے جس میں مخالف فریق کو پتہ نہیں چلتا کہ کہاں سے حملہ ہوا ہے۔ ایک اور تحقیقی مقالے میں تھرڈ جنریشن وار فیئر کے بارے میں لکھا گیا ہے کہ اس میں ائیر کرافٹس یعنی جنگی طیاروں کا استعمال بھی شروع ہوگیا۔اس کے بعد جدید دور کی جنگوں کو فورتھ جنریشن وار فیئر کا نام دیا گیا ہے۔ مختلف تحقیقی مقالوں میں لکھا گیا ہے کہ فورتھ جنریشن وار فیئر کی اصطلاح سنہ 1989 کے بعد سے شروع ہوئی۔ اس جنریشن کی جنگوں میں دہشت گردی کے خلاف جنگ کو شامل کیا گیا ہے۔ رابرٹ بنکر نے اپنے مضمون

میں لکھا ہے کہ آج کل کی فوج ایک آبادی والی جگہ پربھی حملہ کرتی ہے اور اس چال کو فورتھ جنریشن وار فیئر کا ایک اہم عنصر گردانا جاتا ہے۔
اب آتے ہیں اپنی موضوع یعنی ففتھ جنریشن وار فئیر کی طرف جو آج کل بات کرنے کا ایک فیشن بن چکا ہے مخلتف یونیورسٹیوں کے ریسرچ پیپرز پڑھ کر یہ بات سامنے آئی ہے کہ یہ ماڈل ابھی ارتقائی دور سے گزر رہا ہے اور ابھی تک اس کو درست طور پر سکالرز کے سامنے نہیں رکھا گیا ہے۔ تاہم دنیا بھر میں بعض ادارے، باالخصوص ملٹری امور سے وابستہ ادارے اس قسم کی مختلف اصطلاحات استعمال کر کے اپنے مقاصد حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ڈاکٹر عرفان اشرف کا کہنا ہے کہ وار فیئر ماڈل کو مختلف سلطنتوں نے ہمیشہ کسی جگہ میں مداخلت کے لیے بطور ایک ہتھیار استعمال کیا ہے۔ دنیا بھر کی افواج اس کا استعمال کرکے لوگوں کے ذہنوں میں یہی بات ڈالنے کی کوشش کرتی ہیں کہ سول حکومتیں اور جمہوریت کو ففتھ جنریشن وار فیئر سے خطرات لاحق ہیں اور اسی لیے فوجوں کو کسی بھی جگہ مداخلت کرنے کی اجازت ہونی چاہیے۔ اسی مداخلت کیلئے راہ ہموار کرنے کی خاطر ایسے اصطلاحات استعمال کیے جاتے ہیں جیسا کہ کچھ عرصہ پہلے فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ کے سربراہ میجر جنرل آصف غفور نے مخلتف مواقع پر اس بات کو دہرایا ہے کہ ہمیں ففتھ جنریشن وار فئیر کا مقابلہ کرنا ہوگا جس کا مطلب اور مقصد اپنی موجودگی ظاہر کرنا اور اپنا تسلط منوانا ہے کیوں کہ ایک طرف عسکری قیادت سول اداروں میں مداخلت کرتی ہے سول حکومت کا کام خود اپنے ذمے لیا ہوا ہے جیسا کہ بیرون ملک دورے سول کانفرنسوں میں شرکت غیرعسکری تقریبات میں بطورمہمان خصوصی شرکت کسی بھی غیرعسکری موضوع پر تائید وتردید یا مذمتی بیان وغیرہ ۔۔ اور دوسری طرف یہودیوں کے نقش قدم پر چلتے ہوئے ایسے اصطلاحات کا استعمال کرتے ہیں۔
ففتھ جنریشن وار میں غیر اعلانیہ کم خرچ پراکسی جنگوں کو بھی شامل کر سکتے ہیں جو روایتی کمر توڑ مہنگی جنگوں کے مقابلے میں برس ہا برس جاری رکھی جا سکتی ہیں۔ پراکسی جنگوں کا مقصد تیز رفتار کامل فتح حاصل کرنے سے زیادہ دشمن کو مسلسل مصروف رکھنا ہے تاکہ دشمن جھنجھلاہٹ اور خوف کے عالم میں حواس باختہ ہو کر ایسی حرکتیں شروع کر دے کہ جن کے بارے میں مزید پروپیگنڈہ کر کے علاقائی و عالمی سطح پر مزید تنہا اور بدنام کر کے الگ تھلگ اور کمزور کیا جا سکے۔ ففتھ جنریشن وار کا ایک حصہ ذہنی خلفشار ، احساس عدم تحفظ یا احساسِ کمتری پیدا کرنا بھی ہے۔کامیابی کی صورت میں دشمن کو زیر کرنا اور آسان ہو جاتا ہے۔یہ جنگ سائبر اسپیس سے لے کر جعلی خبروں و تصاویر کے ذریعے نفاق اور کنفیوژن پیدا کرنے تک ہر محاذ پر لڑی جاتی ہے۔
اب یہ فیصلہ عوام پر چھوڑدیتا ہوں کہ کیا پاکستان میں ففتھ جنریشن وار فیئر جنگ لڑی جارہی ہے یا نہیں؟؟

مکرم خراسانی
حرف حقیقت

About umar

Check Also

18۔کرونا وائرس یا لشکر جبار؟

18۔کرونا وائرس یا لشکر جبار؟ ہر مرض اللہ تعالیٰ کا حکم ہوتا ہے اللہ کے …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے