8۔پیغمبروں کے جانشینوں کا کام

8۔پیغمبروں کے جانشینوں کا کام

تقریباً ہر دور میں غافلین یا منافقین اپنی کثرت یا دنیاوی لیاقت یا کوششوں یا محض وراثت سے مسلمانوں کی مسند حکومت پر قابض ہو جاتے ہیں اور مسلمانوں کی امامت ان کے ہاتھ میں آ جاتی ہے۔پھر ہر طرف اسلام مخالف سرگرمیاں زور پکڑتی اور بدامنی کا گراف آسمان سے باتیں کرنے لگتا ہے ان تمام حالات میں پھر پیغمبروں کے جانشینوں کو کام کرنا پڑتا ہے۔ شاید انسانوں کی کوئی جماعت اتنی مشغول، اور فرائض و ذمہ داریوں سے اتنی گراں بار نہیں ، جتنی نائبانِ رسول ﷺ اور علماء و مصلحین اسلام کی جماعت ہے۔
بہت سی جماعتیں ایسی ہیں کہ جب ان کی اپنی حکومت قائم ہو جاتی ہے تو ان کی جد و جہد ختم ہو جاتی ہے اور ان کا مقصود حاصل ہو جاتا ہے۔ لیکن علماء حق کی جماعت کا کام بعض مرتبہ مسلمانوں کی حکومت میں ختم ہونے کے بجائے اور بڑھ جاتا ہے۔ کچھ چیزیں ہیں جو حکومت و طاقت اور دولت و فراغت ہی کے زمانہ میں پیدا ہوتی ہیں، اور علماء اسلام ہی کا فرض ہوتا ہے کہ ان کی نگرانی کریں۔ وہ اپنے فریضہ احتساب، نگرانی، اخلاقی اور دینی راہنمائی کے منصب سے سبکدوش نہیں ہوتے۔ اس وقت بھی ان کا جہاد، اور ان کی جدوجہد جاری رہتی ہے.
کہیں مسلمانوں کی مسرفانہ زندگی پر روک ٹوک کر رہے ہیں، تو کہیں سامان عیش و غفلت پر ان کی طرف سے قدغن ہے، کہیں چوری کی شراب کو گرفتار کیا ہے تو کہیں باجوں اور موسیقی کے آلات کو توڑ رہے ہیں، کہیں مردوں کے لیے ریشم کے لباس اور سونے چاندی کے برتنوں کے استعمال پر چیں بجبیں ہیں، تو کہیں بے حجابی اور مردوں و عورتوں کے آزادانہ اختلاط پر معترض ہیں، کہیں حماموں کی بے قاعدگیوں اور بد اخلاقیوں کے خلاف آواز بلند کر رہے ہیں، تو کہیں اپنے زمانے کے خلاف اخلاق اور خلاف شرع باتوں اور عادتوں کے خلاف وعظ کہہ رہے ہیں، کہیں غیر مسلموں اور عجمیوں کے عادات و خصوصیات اختیار کرنے پر ان کی طرف سے مخالفت ہے، تو کبھی مسجدوں کے صحن اور مدرسوں کے ایوانوں میں حدیث کا درس دے رہے ہیں اور”قال اللہ اور قال الرسول“کی صدا بلند کر رہے ہیں، کبھی خانقاہوں میں اپنے گھروں اور مسجدوں میں بیٹھے ہوئے دلوں کا زنگ دور کر رہے ہیں، اللہ کی محبت و طاعت کا شوق پیدا کر رہے ہیں۔ امراض قلب؛ حسد، تکبر ،حرصِ دنیا اور دوسری نفسانی اور روحانی امراض کا علاج کر رہے ہیں، تو کبھی منبر پر کھڑے ہوئے جہاد کا شوق دلا رہے ہیں اور اسلامی سرحدوں کی حفاظت یا اسلامی فتوحات کے لئے آمادہ کر رہے ہیں۔
پوری اسلامی تاریخ میں زندہ اور ربانی علماء، جو حکومت وقت کے دامن سے وابستہ بھی نہیں تھےانہیں مشاغل میں منہمک نظر آئیں گے۔ مسلمانوں کا کوئی دور حکومت ان علمائے حق اور ان کی جد و جہد سے خالی نہیں رہا۔
بنو امیہ کا دور مسلمانوں کا شاہانہ عہد ہے۔ بظاہر مسلمانوں کو تمام کاموں سے فرصت ہو گئی ہے، مگر علماء کو فرصت نہیں۔ حضرت حسن بصری رحمہ اللہ کی مجلس وعظ گرم ہے، جس میں اپنے زمانہ کی معاشرت، نظام اور اہل حکومت کی بے دینی پر تنقید ہے۔ نفاق کی علامات، اور منافقین کے اوصاف بیان ہو رہے ہیں اور موجودہ زندگی پر ان کو منطبق کیا جا رہا ہے۔ خشیت الٰہی اور آخرت کا بیان ہے، جس سے آنسوؤں کی جھڑیاں لگ گئی ہیں اور روتے روتے حاضرین کی ہچکیا ں بندھ گئی ہیں۔ بنو عباس کےدور میں امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ شاہ وقت کے ذوق و رجحان اور مسلک کی خلاف مذہب اعتزال کی صاف صاف تردید کر رہے ہیں، اور بدعات کا رد، خالص سنت اور عقائد سلف کی تبلیغ فرما رہے ہیں۔ اور یہ سب اس جرات و اطمینان کے ساتھ کہ گویا مامون و معتصم کی حکومت نہیں ہے بلکہ حضرت عمر بن عبد العزیز رحمہ اللہ کی خلافت ہے۔ ایسے وقت میں جب بغداد، اپنے اَوج پر اور بغداد کی تہذیب، دولت اور بے فکری اور آزادی عروج پر ہے۔ ہر طرف عیش و غفلت کا سمندر رواں ہے۔ بازاروں میں بڑی چہل پہل ہے۔ لیکن سیکڑوں آدمی، ان تمام دلچسپیوں اور تفریحات سے آنکھ بند کئے، ایک طرف چلے جا رہے ہیں۔ آج جمعہ کا دن ہے، محدث ابن جوزی رحمہ اللہ کا وعظ ہے۔ وعظ ہو رہا ہے، سیکڑوں آدمی تائب، اور بیسیوں غیر مسلم مسلمان ہو رہے ہیں، لوگ خلاف شرع امور سے توبہ کر رہے ہیں۔ اسی پر شور اور ہنگامہ زدہ بغداد میں نہایت سکون و اطمینان کے ساتھ حضرت شیخ عبد القادر جیلانی رحمہ اللہ کا درس، وعظ اور روحانی فیض بھی جاری ہے۔ جس سے عرب و عجم کے لوگ فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ بڑے بڑے امراء اور شہزادے اپنے عیش و دولت کو خیر باد کہہ کر زہد و فقر کی زندگی اختیار کرتے ہیں۔ بڑے بڑے سرکش اور نشۂ دولت میں مغمور تائب ہوتے ہیں۔ خلافت عباسی کے عین دار الخلافہ میں، اور خلیفہ بغداد کی حکومت کے بالکل مقابل اس درویش کی روحانی اور دینی حکومت قائم ہے، جس کا سکہ عرب و عجم پر رواں ہے۔

لیکن یاد رہے کہ ایسا بھی نہیں ہے کہ یہی پیغمبروں کے جانشین صرف وعظ و نصیحت کرکے اپنا ذمہ فارغ سمجھتے ہیں اس تمام ترتبلیغات کے بدلے ان کو حکومت وقت سے اذیتیں بھی برداشت کرنی پڑی ہیں. علماء کے اسی گروہ کو مسلمان بادشاہوں اور ان کے کارکنان حکومت کے ہاتھوں دار ورسن اور تازیانے کے انعامات ملے۔ اسی گروہ کے کتنے افراد کو، ایک مسلمان حاکم (حجاج) کے ہاتھوں شہادت کا سرخ خلعت ملا۔ پھر اسی گروہ کے ایک مقتدر فرد حضرت امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کو امیر المؤمنین منصور عباسی کے ہاتھوں زہر کا جام نوش کرنا پڑا۔ پھر اسی گروہ کے دوسرے امام حضرت امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کو مسلمان بادشاہ (مامون) کے زمانہ میں اسیرِ زندان ہونا پڑا۔ اور اس کے جانشین (معتصم) کے ہاتھوں تازیانے کھانے پڑے۔
آخر زمانہ میں بھی کیسے کیسے عادل و دادگر مسلمان فرمانرواؤں کے ہاتھوں کیسے کیسے جلیل القدر علماء پر بیداد ہوئی۔ جہانگیر کی زنجیر عدل مشہور ہے، مگر حضرت شیخ احمد سر ہندی مجدد الف ثانی رحمہ اللہ کے پاؤں میں بھی زنجیر پڑی، اور ان کو اپنے اظہار حق کے صلہ میں گوالیار کے قلعہ میں محبوس ہونا پڑا۔
موجودہ دور میں بھی برائے نام اسلامی سربراہان کے ہاتھوں ہزاروں علماء و شیوخ شہید ، لاپتہ اور پابند سلاسل کئے گئے لیکن الحمدللہ انہی جانشینوں نے اسلاف کے نقش قدم پر چلتے ہوئے ان کی تاریخ کو زندہ کیا اور اسی دین کے سربلندی کی خاطر قیدوبند ،علاقہ بدر، کھل عام سڑکوں پر گھسیٹنے اور برملا شہید ہونے جیسی اذیتیں برداشت کیں اور تاحال کر رہے ہیں اللہ ان کو استقامت عطافرمائے اور ہم پر ان کی سرپرستی قائم رکھے ۔ آمین
الحمدللہ تحریک طالبان پاکستان کو اللہ تعالیٰ نے سینکڑوں علماء سے نوازا ہے اللہ ان کی تعداد میں مزید بھی اضافہ فرمائیں ہم ان کیلئے دعا بھی کرتے ہیں اور یہ التجا بھی کرتے ہیں کہ جو خدمت آپ لوگ کررہے ہیں اس کو اور بھی بڑھائیں اور تحریک طالبان پاکستان کے مجاہدین کیلئے اگر روزانہ ممکن نہیں تو کم از کم ہفتہ وار پروگرامات منعقد کئے جائے جس میں ان کی روحانی تربیت پر توجہ دی جائے تاکہ ان کی اخلاقیات کو چارچاند لگیں ، اس کے علاوہ الحمدللہ تحریک کو اللہ تعالیٰ نے ایف ایم جیسی نعمت سے بھی نوازا ہے جو باقاعدہ طور پر انتہائی احسن طریقے سے نشریات کر رہی ہے جس میں قرآن وحدیث کے مستقل دروس کے ساتھ ساتھ مختلف علماء کے اصلاحی بیانات اور تحریک طالبان کے تھنک ٹینک کے حالات حاضرہ پر دلچسپ تبصرے وغیرہ بھی شامل ہیں، تمام حلقہ جات کے مسئولین کو چاہیئے کہ وہ تحریک طالبان کے مجاہدین پر ایف ایم سننا لازم ٹھہرائے ۔۔۔

قرآن و حدیث اسلام کی طاقت کا اصلی سرچشمہ ہیں جن سے ہمیشہ طاقت اور روشنی حاصل کی جا سکتی ہے اور جن کے ذریعے سے ہر زمانے میں مسلمانوں کے کمزور سے کمزور ڈھانچے میں روح پھونکی جا سکتی ہے، شرک ، کفر و بدعت اور غفلت کے خلاف سب سے کار گر حربہ، قرآن و حدیث کا علم اور ان کی اشاعت ہے۔ اللہ ہمیں دعوت کا حق اداکرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔۔۔۔۔ آمین

#Mukarram_Khurasani
@harfehaqeeqat

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

عمر ریڈیو نشریات پیر ۸ صفر المظفر ۱۴۴۱ ھ بمطابق ۷ اکتوبر ۲۰۱۹

آج کی نشریات کے اہم موضوعات …….

معاشرے کی اصلاح میں علماء کرام کے کردار پر مبنی تفصیلی تبصرہ

کالم حرف حقیقت از مکرم خراسانی
عنوان
پیغمبروں کے جانشینوں کا کام

درس قرآن، آپ کے پیغامات و جوابات اور خوبصورت نظمیں …..

اینکرز : مولانا یاسر صاحب ،فیصل شھزاد صاحب،حسان مھاجر

ڈاونلوڈ لنکس
https://archive.org/details/8safr1441h

 

https://my.pcloud.com/publink/show?code=XZvMqLkZ813ILq7Hx1bsllQE729W3mnPicsy

@umarmedia20
@umarradiofm_1
@umarmediabot

About umar

Check Also

18۔کرونا وائرس یا لشکر جبار؟

18۔کرونا وائرس یا لشکر جبار؟ ہر مرض اللہ تعالیٰ کا حکم ہوتا ہے اللہ کے …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے