7۔سقوط ڈھاکہ سے سقوط پختونستان تک

7۔سقوط ڈھاکہ سے سقوط پختونستان تک

سقوط ڈھاکہ نے پاکستانی فوج کی تاریخ میں ایک اور سیاہ باب کا اضافہ کیا۔ قیامِ پاکستان کے چوبیس سال گزر جانے کے بعد بھی فوج کی غلامانہ اورظالمانہ ذہنیت ذرّہ برابر نہیں بدلی تھی۔انگریز نے اس فوج کو پہلی مرتبہ اس وقت استعمال کیا تھا جب اسے 1857ء میں بنگال سے پھوٹنے والی بغاوت کچلناتھی۔1971ء میں اہلِ بنگال پرتوڑے جانے والے مظالم بھی درحقیقت نفرت وتعصب کے انہی جذبات کا شاخسانہ تھے جو انگریز نے اس فوج کے خمیر میں 1857ء میں ڈال دیئے تھے۔پاکستان کی فوجی قیادت اور بیورو کریسی کے اسی متعصبانہ رویے کے سبب بلوچستان،سندھ،سرحد اورجنوبی پنجاب میں علیحدگی پسند تحریکوں نے جنم لیا؛اور انہی تعصبات کے سبب مشرقی پاکستان علیحدہ ہوا۔
مشرقی پاکستان کے مسلمانوں سے معاملہ کرتے ہوئے فوج نےبنگالی مسلمانوں کی طرف حقارت سے دیکھنے اور انہیں دبا کر رکھنے کا وہ مکروہ رویہ بھی اپنائے رکھا جو اسے 1857ء کے بعد اپنے آقاؤں سے ورثے میں ملا تھا۔جنگ کے بعد بنگالی مسلمانوں کے خلاف فوج کے مظالم کی جانچ پڑتال اور جنگ میں ناکامی کے ذمہ دار افراد کی نشاندہی کے لئے چیف جسٹس پاکستان جسٹس حمود الرحمان کی سر براہی میں ایک کمیشن ترتیب دیا گیا۔جن کی رپورٹ اس فوج کے مکروہ حرکتوں سے پردہ اٹھاتی ہے۔ اس کی رپورٹ ہر پاکستانی کی آنکھیں کھول دینے کے لئے کافی ہے۔ پاکستانی فوج نے دشمن کے مقابلے میں اس شرمناک بزدلی و بے ہمتی کا مظاہرہ کیا؛لیکن دوسری طرف پوری جنگ کے دوران یہ بدبخت فوج نہتے بنگالی مسلمانوں پر اپنی پوری قوت کے ساتھ یوں ٹوٹی گویا اس کا اصل ‘جہاد’یہی ہو۔ جیسا کہ آج کل کی صورتحال ہے، 25 اور 26 دسمبر کی رات کو ڈھاکہ شہر پر بھاری توپخانے سے وحشیانہ بمباری کر کے لا تعداد نہتے شہریوں کو شہید کیا گیا، عین اسی تاریخ کو دہراتے ہوئے یہ بے غیرت فوج بھارت کے خلاف غیرمسلح احتجاج اور ٹی وی پر اعلان کرکے آدھا گھنٹہ کھڑاےہوکر مقابلہ کرتی ہے اور سوات ، دیر اور بونیر سمیت فاٹا میں بے گناہ مسلمانوں پر بم برساتے ہیں، ستمبر اور اکتوبر کے درمیان “دھوم گھاٹ” کے علاقے میں مقامی لوگوں کو قطار در قطار کھڑا کر کے فائرنگ سکواڈ کےذریعے قتل کیا گیا، جیسا کہ سوات میں نہتے بے گناہ بچوں کو کھڑا کرکے کلمہ پڑھوایا اور پھر گولیاں چلا کر خون میں نہلادیا ، 28 مارچ 1971ء کو لیفٹیننٹ جنرل یعقوب خان کے حکم پر کومیلا چھاؤنی میں 17 بنگالی افسروں اور 915 بنگالی سپاہیوں کو ایک ہی دن میں مار ڈالا گیا،سلد اناسی کے علاقے میں بھی 500 لوگوں کو قتل کیا گیا، پشتون قوم کے ساتھ یہ سلوک خڑ کمر واقعے تک محدود نہیں یہ پاکستان کے براہ نام وجود میں آنے کے فوراً بعد ہی شروع ہوگیا تھا، جب بابڑا میں پرامن جلوس پر فائرنگ کرکے چھ سو سے زائد بے گناہ پشتونوں کو شہید کیا گیا، مارنے والے ایک اہلکار کا یہ بھی کہنا خاصا مشہور ہوا کہ ان کی قسمت اچھی تھی کہ گولیاں ختم ہوئیں ورنہ ہم ان میں سے ایک کو بھی نہیں چھوڑنے والے تھے، نمایاں بنگالی مصنفین،ڈاکٹروں،انجنیئروں،پروفیسروں اور سیاست دانوں کو چن چن کرمارا گیا،آج بھی لاپتہ افرا د میں اکثریت کو کالجوں ، یونیورسٹیوں اور ہسپتالوں سے اٹھا یا گیا ہے جو تاحال لاپتہ ہیں ، الغرض اہلِ بنگال کے خلاف مظالم کی ایک سیاہ داستان رقم کی گئی۔
بنگلادیشی حکومت کا دعویٰ تھاکہ اس پوری جنگ کے دوران فوج نے 30 لاکھ بنگالی قتل کئے،جبکہ جی ایچ کیو نے 1972ء میں خود چھبیس ہزار(26،000) بنگالیوں کے قتل تسلیم کئے تھے۔ وہاں چھبیس ہزار تسلیم کیے تھے یہاں ۷۰ ہزار مان رہے ہیں ، تو کیا یہ ایک اور تقسیم کیلئے راہ ہموار کرنا نہیں ہے؟؟ مذکورہ بالا کمیشن کے ایک گواہ برگیڈیئر اقبال الرحمان شریف کے مطابق،پاکستانی فوج کا ایک نہایت اعلیٰ عہدیدار جنرل گل حسن فوجی مراکز کے دوروں کے دوران سپاہیوں سے پوچھا کرتا تھا کہ:
“How many Bengalis have you shot?”
“تم نے کتنے بنگالی مارے ہیں؟”
بنگلہ دیشی حکومت کا دعویٰ تھا کہ کل 2 لاکھ خواتین کی عصمت دری کی گئی۔ لیفٹیننٹ کرنل عزیز احمد خان نے حمود الرحمان کمیشن کے سامنے گواہی دیتے ہوئے کہا کہ فوجیوں میں یہ جملہ عام تھا کہ:
“When the Commander (Lt. Gen. Niazi) was himself a raper,how could we be stopped”!
“جب ہمارا کمانڈر (جنرل نیازی)خود عزتیں لوٹتا تھا،تو پھر ہمیں کیسے روکا جاسکتا تھا”؟!
میجر منور خان نے کمیشن کے سامنے گواہی دیتے ہوئے بتایا کہ 11 اور 12 دسمبر کی درمیانی شب جب مقبول پور سیکٹر میں بھارتی فوج کے گولے پاکستانی مورچوں پر گر رہے تھے،عین اس وقت بھی برگیڈیئر حیات اللہ کے زیرِ زمین مورچے میں ایک بدکار عورت اس کے ساتھ موجود تھی۔جنرل راؤ فرمان علی کی گواہی کے مطابق جنرل نیازی نے مشرقی پاکستان میں فوج کی کمان سنبھالنے کے فوری بعد کہا کہ:

“میں راشن کی کمی کا ذکر کیوں سن رہا ہوں؟کیا اس علاقے کے لوگوں کے پاس گائے بکریاں نہیں ہیں؟یہ دشمن کی سر زمین ہے، جوجی چاہے چھین لو!ہم(دوسری جنگ ِعظیم کے دوران)برما میں یہی کرتے تھے”۔
جرنیلوں کی اسی تحریض کا نتیجہ تھا کہ فوج کے افسر و سپاہی سرچ آپریشنوں کے دوران خوب لوٹ مار کرتے۔بعض مرتبہ جب بیرکوں کی تلاشی لی گئی تو(حمود الرحمان کمیشن رپورٹ کے مطابق)وہاں سے ٹی وی،فریج،ایئر کنڈیشنر، ٹائپ رائٹر،سونا،گھڑیاں اور بہت سی دیگر قیمتی اشیاء برآمد ہوئیں۔ایک موقع پر 57 ویں برگیڈ کے کمانڈر برگیڈیئر جہانزیب ارباب،چار کرنل سطح کے افسران اور ایک میجر نے ایک مشترکہ منصوبے کے تحت سراج گاج میں واقع نیشنل بینک کےخزانے سے ایک کروڑپینتیس لاکھ (1،3500،000) روپے چرائے۔ کرنل بشیر احمد خان کی گوہی کے مطابق میجر جنرل محمد جمشید کی بیوی ڈھاکہ سے فرار ہوتے ہوئے بہت سی چوری شدہ نقدی مغربی پاکستان لے کر گئی،جبکہ جنرل نیازی تو جنگ کرنے کی بجائےاس پورے عرصے پان کی اسمگلنگ میں مصروف رہا۔
قارئین کرام ! یہاں بنگالی مسلمانوں کے تذکرے کا مقصد صرف یہی تھا کہ اس وقت کے حالات اور آج کل کے حالات میں مماثلت کتنی ہے ؟ کیا یہی سب کچھ تقسیم بنگال کا سبب بنی؟ اگر ہاں تو کیا ایک اور تقسیم جنم لینے والی ہے؟ اس فوج نے گزشتہ چندسالوں کے دوران سوات سے لے کر وزیرستان تک دس بیس نہیں،کئی سو مساجد و مدارس شہید کئےہیں؛لاکھوں مسلمانوں کو ہجرت پرمجبور کیا ہے،جیٹ طیاروں اور توپخانے کی بمباری سے ہزار ہا معصوم لوگوں کو قتل کیا ہے،ڈرون حملوں کے لئے جاسوسی کر کے سینکڑوں مسلمانوں کا لہو بہانے میں براہِ راست شرکت کی ہے،پوری پوری بستیوں کو جلا ڈالا گیا،بازاروں کو اجاڑا ہے،حق گو علمائے کرام کو برہنہ کرکے ان پر وحشیانہ تشدد کیا ہے،شریعت کے نام لیواؤں کو قطاروں میں کھڑا کر ے گولیوں سے بھونا ہے،چادر و چاردیواری کی حرمت پامال کرکے مجاہدین کی ماؤں ،بہنوں، بیٹیوں کو اغواء کیا ہے،سوات ،بونیر ،دیر باجوڑ ،درہ آدم خیل اورفاٹا سمیت کئی دیگر علاقوں میں عام آبادی کے گھروں سے سامان لوٹ کر، ٹرکوں میں بھر بھر کر ساتھ لے کر گئے ہیں،امت کے مجاہد بیٹوں کو گلیوں اور چوکوں میں گھسیٹا ہے،آئی ایس آئی کے قید خانوں میں ان پر ظلم کے پہاڑ توڑے ہیں،حتیٰ کہ ان کو ذہنی اذیت دینے کے لئے اللہ جل شانہ کی شان میں گستاخی تک کرنے سے دریغ نہیں کیا۔
۲ مئی ۲۰۱۹ ء کو مھمند ایجنسی میں ایک اہلکار گھر میں گھسنے کی کوشش کرتے ایک غیرتمند عورت کے ہاتھوں مارا گیا دوسری طرف اسی سال فروری میں شمالی وزیرستان کے علاقے خیسور میں ایک تیرہ سالہ لڑکے کی ویڈیو وائرل ہوئی تھی جس میں اس نے کہا تھا کہ سکیورٹی اہلکار ان کے گھر داخل ہو کر خواتین کو ہراساں کرتے ہیں۔ اسی سال “خڑ کمر” میں پرامن احتجاجی ریلی پر فائرنگ کرکے ۱۲ بے گناہ لوگوں کو شہید کیا ، ابھی چند دن پہلے ہی ایک فوجی اہلکار قومی باشندوں کے ہاتھوں اس حال میں مارا گیا کہ وہ راتوں کو گھروں میں گھس کر لوٹ مار کرتا اور بے گنا ہ لوگوں کی ٹارگٹ کلنگ بھی کرتاتھا۔ یقیناً ان میں سے کوئی بات بھی قابل ِ حیرت نہیں۔حیرت تو اس سادہ لوحی پر ہے کہ جس کے سبب اب بھی کوئی صاحبِ ایمان شخص اس فوج کو’اپنی فوج’سمجھتا ہو اور اب بھی اس سے خیرکی امیدیں لگائے بیٹھاہو۔ایک ایسی فوج جسے برطانوی راج اپنا دایاں بازو قرار دیتا ہو،جس نے کبھی دہلی میں علماء و مجاہدین کا خون بہایاہوتوکبھی سوات و قبائلی علاقہ جات میں،کبھی بنگال میں عزتیں پامال کی ہوں تو کبھی بلوچستان میں،کبھی انگریز کو بغداد فتح کرکے دیاہو تو کبھی یہود کو فلسطین ،کبھی خلافت ِ عثمانیہ گرائی ہو تو کبھی افغانی امارت……….
اسی ملک میں گزشتہ تقریباً دس سال کے دوران جو کچھ اس فوج کے ہاتھوں ہوا او ر تاحال ہورہا ہے یہ بالکل اسی تاریخ کو دہرانے کیلئے کافی ہے جس قوم کی کمان فوج کے ہاتھ میں ہو وہ ملک ترقی تو درکنار اپنے حال پر بھی نہیں رہ سکتی بلکہ تنزل میں ثانی نہیں رکھتی۔ تقسیم بنگال کے وقت ملکی کمان فوج کے ہاتھ میں تھی اب بھی فوجی قیادت پورے ملک پر قابض نظر آرہی ہے ۔ غیرملکی دورے ، کسی بھی سانحے پر مذمتی بیان ، کرکٹ، ہاکی ہو یا پھر فنکاروں کی تقریبات میں شرکت ،یہ فوجی قیادت ہی کرتی ہے ، ان تمام صورتحال کا اگر بغور جائزہ لیا جائے تو اس دَہائی اور ستر کی دَہائی میں ذرہ برابر بھی فرق نہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ پشتون اکثریت آبادی پاکستان سے الگ ہوکر سقوط ڈھاکہ دوم یعنی سقوط پختونستان واقع ہونے کو ہے ۔۔۔۔ ان شاءاللہ
اللہ ہمیں حق کو پہچاننے اور اس کی اتباع کرنے کی توفیق دے؛اور باطل کو پہچاننے اور اس سے بچنے کی توفیق دے،آمین!

#Mukarram_Khurasani
@harfehaqeeqat

 

About umar

Check Also

20۔سیکولرزم کا پرچار

20۔سیکولرزم کا پرچار پاکستان میں آج کل سیکولرزم عروج پر ہے اور یہ نظریہ عصری …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے