6۔میرا جسم میری مرضی

6۔میرا جسم میری مرضی

پوری دنیا میں 8 مارچ “یومِ حقوقِ نسواں” کے عنوان سے منایا جاتا ہے۔ یہ دن پاکستان میں بھی ایک عرصے سے منایا جا رہا ہے، مگر گذشتہ برس پاکستان میں اس دن کو منانے والوں نے عورت مارچ کے دوران متنازع پلے کارڈز اٹھا کر نئے انداز میں اپنی شناخت بنائی، اس “عورت آزادی مارچ” کو “ننگ مارچ” کا نام دیا جائے تو بے جا نہ ہوگا، کیونکہ یہاں شریک خواتین کے ہاتھوں میں جو پلے کارڈز اور بینرز آویزاں تھے، ان پر بے شرمی و بے حیائی پر مبنی ایسے نعرے درج کئے گئے تھے کہ جنہیں زباں بیان کرنے سے قاصر ہے۔ عورت آزادی مارچ کے نعروں سے مقاصد واضح ہوچکے ہیں کہ دراصل ان کا ایجنڈا پاکستان میں بے حیائی اور فحاشی کا کلچر عام کرنا ہے۔ گذشتہ برس بھی اس طرح کے بے ہودہ اور فرسودہ نعروں کا استعمال کیا گیا تھا، تاہم اس برس بات حد سے آگے نکل چکی ہے اور صورتحال یہاں تک آپہنچی ہے کہ خواتین نے ہی اس خواتین مارچ کو مسترد کر دیا، اور اس وقت سوشل میڈیا پر خواتین کی بہت بڑی تعداد اس عورت آزادی مارچ یا ننگ مارچ پر شدید تنقید کر رہی ہے، کیونکہ کوئی بھی باعزت اور غیرت مند عورت اس طرح کی توہین کو برداشت نہیں کرسکتی۔
“عورت مارچ” نے صرف متنازع پلے کارڈ ہی نہیں اٹھائے بلکہ اسلامی اقدار تک کی نفی کی۔ کراچی میں ہونےوالی مارچ میں شریک ایک “بزرگ” جنہوں نے اپنا نام سوچ کر محمد مظاہر بتایا، کہہ رہے تھے کہ پاکستان سے نکاح ہی ختم کر دینا چاہیئے، یہ نکاح ہی ہے جو عورت کو “قیدی” بنا دیتا ہے۔ یہ پہلے نہیں تھا بلکہ انگریز نے 1825ء میں ہم پر ایسے ہی مسلط کر دیا، جیسے اس نے ہم پر انگریزی مسلط کی تھی۔
تو حضور یہ کون سے نظریات پھیلائے جا رہے ہیں۔؟ ہم نبئ رحمت ﷺ کے ماننے والے ہیں۔ نکاح انگریز کا مسلط کردہ قانون نہیں بلکہ سنت رسول ﷺہے۔ عورت مارچ کی انتظامیہ اس پر خاموش ہے کہ یہ نظریات کیسے ہیں، ان کے پیچھے کون ہے، کس لئے ایسا کیا جا رہا ہے، جبکہ زمینی حقائق یہ بتا رہے ہیں کہ مارچ کا اہتمام کرنےوالے پاکستان دشمن قوتوں کے ہاتھوں میں کھیل رہے ہیں۔ یہ پاکستان کی اسلامی شناخت مٹانے کے درپے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ایسے بے ہودہ اور غیر اسلامی و غیر اخلاقی پروگرامز میں شدت آتی جا رہی ہے۔ یہ کیسا لبرل ازم ہے کہ اسے بھی شدت پسندی کیساتھ نافذ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ جبکہ دوسری طرف اسلامی احکامات کا پرچار کرنے والوں کو پابندسلاسل اور شہید کیا جارہا ہے ۔
اسی “عورت مارچ” کے ایک نعرے کو خاصی شہرت ملی، جو “میرا جسم میری مرضی” تھا، اس نعرے کے پس پردہ حقائق یہ ہیں کہ عورت کو مکمل آزادی دےدی جائے، یہ اس کی اپنی مرضی ہے کہ وہ اپنا جسم کس کے سامنے پیش کرتی ہے، جبکہ اسلام نے عورت کو تقدس اور احترام دیا ہے۔ ان لبرلز نے تو عورت کو “شوپیس” بنا دیا ہے۔ اس سے تصویر کائنات میں رنگ بھر کر اس کی اپنی رنگینیاں لوٹنے کیلئے محافل میں سجا دیا ہے، جبکہ اسلام نے ایسے افعال کی مخالفت کی ہے۔ اسلام نے عورت کو بہن، بیوی اور ماں کا درجہ دے کر احترام سے مالا مال کر دیا ہے۔ لبرلز کے اس مارچ کے اثرات اب سامنے آنا شروع ہوگئے ہیں۔ آئے روز مختلف قسم کے دل دہلادینے والے واقعات سب کے سامنے ہیں جن کا ذکر کرنا یہاں ممکن نہیں ۔
عورت مارچ میں لگائے جانیوالے نعرے نجانے اور کتنے گھروں میں بدامنی کی آگ لگائیں گے، نہ جانے کتنی خواتین کو طلاقیں دلوا کر سڑکوں اور محفلوں کی “جان” بنائیں گے۔ اگر اس بے ہودگی کی لہر کے سامنے بند نہ باندھا گیا تو اس کے ثمرات اور نتائج انتہائی بھیانک نکلیں گے۔
آج پاکستانی معاشرہ اسلامی طرزِ حیات بھلا چکا ہے ۔ آج لبرل اگر حقوق نسواں کو لے کر ہمیں ہدف تنقید بناتے ہیں تو قصور وار ہم خود ہیں ۔ اگر ہمارا معاشرہ ایک مثالی اسلامی معاشرہ ہوتا تو عورت کا معاشرتی استحصال نہ ہوتا اور نہ ہی اس کی آڑ لے کر ” میرا جسم، میری مرضی ” جیسے مغربی نظریات جنم لیتے ۔ آپ کسی بھی لبرل سے بحث کرلیں، وہ اپنے مادر پدر آزاد نظریات کا دفاع کرنے کےلیے حقوق نسواں کی آڑ لے گا ۔ آخر حقوق نسواں کے لیے ان بے ہودہ الفاظ کا چناؤ کیوں کیا گیا؟ چادر اور چار دیواری کو بوجھ قرار دینے والی لبرل آنٹیاں ” میرا جسم , میری مرضی ” کے نعرے کے دفاع میں عورت کے معاشرتی استحصال کی طرف توجہ دلا کر حقوق نسواں کے تحفظ کے لیے بظاہر بہت فکر مند نظر آئیں گی مگریہ انتہائی خطرناک اور تباہ کن ہے ۔ جب ” میرا جسم , میری مرضی ” کا اصولِ زندگی اپنے نقطۂ کمال پر پہنچے گا تو فحاشی، عریانی اور بے راہ روی کا ہر در آزادی سے کھل جائے گا، اور جب آپ اپنی بہن، بیٹی کو روکنا چاہیں گے تو جواب ملے گا ” میرا جسم , میرضی ” آپ ہوتے کون ہیں پوچھنے والے؟؟؟ لہٰذا اس سے پہلے کہ یہ نظریہ طرزِ زندگی کا حصہ بن جائے، اسے روکنا ہو گا ۔

رکن سندھ اسمبلی اور متحدہ مجلس عمل کے رہنما سید عبدالرشید کی جانب سے درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ 8 مارچ کو کراچی کے فرئیر ہال میں عورت مارچ کے نام پر ایسی سرگرمیاں منعقد کی گئیں جس میں اسلامی شعائر، قرآن و سنت اور خاندانی نظام کی کھلے عام توہین کی گئی اور مذہبی اشتعال انگیزی کو فروغ دیا گیا۔
درخواست گزار کے مطابق عورت مارچ میں ایسے بینرز اور پلے کارڈز بھی شامل تھے جس میں اسلامی معاشرے میں بے حیائی و فحاشی پھیلانے اور خاندانی نظام کو متنازع بنانے کی کوشش کی گئی۔ اس درخواست گزار سے ہمارا ایک سوال ہے کہ کیا اس درخواست سے آپ کا ذمہ فارغ ہوگیا ؟ کیا اس کی روک تھام کےلئے یہ درخواست ہی کافی تھی؟ کیا صرف درخواست گزاری کیلئے آپ نے ووٹ لیا تھا وہ اسلام اسلام کا نعرہ اسلام آباد میں تبدیل ہوگیا؟؟ قیامت کے دن کیا جواب دوگے رب ذوالجلال کو کہ سربازار اسلام کا تقدس پامال ہوتا رہا اور آپ صاحب اقتدار ہوکر بھی خاموش رہے ؟
عورتوں کی اس بےہودہ مارچ پر اگر تنقید ہوئی ہے تو صرف کالم نگاری ،مضمون نگاری یا محض درخواست گزاری کی حد تک، کسی بھی صاحب اقتدار کی طرف سے اس پر تنقید نہیں کی گئی کیوں کہ یہ ملک میں مغربی کلچر لاگو کرنے کیلئے کیا گیا ہے، جو کہ موجودہ حکمرانوں کے ایجنڈوں کے عین مطابق ہے ، عورت مارچ کے اس نعرے ’’میرا جسم میری مرضی ‘‘ کو فروغ دینے والوں، اس نظریہ سے متفق لوگوں اور اس پر خاموش رہنے والوں کو یہ بات بھی ذہن نشین کرلینی چاہیئے کہ طالبان بھی اسی نعرے کو لے کر اٹھے ہیں، ان کو بھی تنقید کا نشانہ نہ بنایا جائے، ان کا بھی اپنا ہی جسم ہے، اور وہ اپنی ہی مرضی سے اس پر بارود باندھیں یا اسے بندوق کی گولیوں سے چھلنی کریں ،اس جسم کو وہ اعلائے کلمۃ اللہ کی خاطر پہاڑوں میں روندیں، یا اس جسم کو سلاخوں کے پیچے قید رکھیں۔ اگر ایک عورت کےلئے آپ اس نعرے کو پسند کرتے ہیں تو پھر ایک مرد کیلئے اپنے جسم کو اپنی مرضی سے استعمال کرنا کیوں دہشت گردی ہے؟؟ اگر کوئی کہتا ہے کہ طالبان اگر خود کو جیکٹ کے ذریعے اڑادیتے ہیں تو اس سے صرف ان کو نقصان نہیں پہنچتا بلکہ بہت سے لوگ بھی مارے جاتے ہیں، تو ان کیلئے عرض ہے کہ عورت کے جسم کا بے جا استعمال بھی صرف اس عورت کو ہی نہیں بلکہ اس سے منسلک جتنے بھی مرد حضرات ہیں ان کو بھی ماردیتا ہے۔ طالبان کے ہاتھوں مارا جانے والا دین دشمن ہوتا ہے، اللہ تعالیٰ نے ان کو مارنے کا حکم دیا ہے قیامت کے دن ان سے ان کے اعمال کے بارے میں پوچھا جائے گا، ان سے حساب کتاب ہوگا، مگر عورت کے اس بےہودہ نعرے کے مطابق مارا جانے والا تو دنیا و آخرت میں ذلیل و خوار ہوگا، دنیا میں اس کی ہزاروں مثالیں موجود ہیں، آئے روز کسی نہ کسی جگہ دل دہلادینے والے واقعات رونما ہوتے ہیں جو صرف اور صرف اسی نعرے کا شاخسانہ ہیں، روزانہ سوشل میڈیا پر ایسی خبریں سننے کو ملتی ہیں کہ سن کر پاؤں تلے زمین نکل جاتی ہے، مقدس رشتوں کا تقدس پامال ہوتا جارہا ہے، کوئی بھی رشتہ محفوظ نہ رہا، نہ باپ کی موجودگی میں بیٹیاں محفوظ رہ سکتی ہیں نا ہی بھائیوں کی موجودگی میں بہن کی عزت۔ کون سے رشتے کا تقدس کہاں پامال ہوا یہ سب آن ریکارڈ موجود ہے، یہاں لکھنے کی گنجائش نہیں۔
اس کالم کے لکھنے کا مقصد ہرگز یہ نہیں ہے کہ میں خواتین کی عزت و عظمت اور آبرو سمیت ان کے بنیادی حقوق کے خلاف ہوں بلکہ پاکستان میں “عورت آزادی مارچ” کے نام پر یا “خواتین کے حقوق” کے نام پر جو کچھ “ننگ مارچ” یا بے حیائی کا کلچر عام کرنے کی مغربی کوشش کی جا رہی ہے، اس کا کسی نہ کسی طرح راستہ روکنے کی ضرورت ہے ، یقیناً عورت ذات معاشرے کا ایک اہم جزو ہے ، ایک بہت ہی نازک مسئولیت ان کے ذمے ہے، معاشرے کے اکثر افراد دینی مدارس اور عصری اداروں، کالجوں اور یونیورسٹیوں سے فارغ ہوتے ہیں مگر بہت سے ایسے لوگ بھی ہیں جو کسی بھی اسلامی یا غیر اسلامی ادارے سے فارغ نہیں بلکہ ماں کی گود وہ مدرسہ ہے جس سے ہرخاص وعام بلکہ معاشرے کا ہر فرد فارغ ہوتا ہے۔ اب اگر ما ں کی یہ گود نیک ہوگی تو اس کی گود میں پلنے والا بھی نیک ہی ہوگا، تو اس لحاظ سے ایک اچھے معاشرے کےلئے عورت کی اہمیت کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا، اس لئے اسلامی معاشرے میں فسادپھیلانا یعنی عورتوں کو آزادی کے نام پر گھر سے نکلوانااسلامی معاشرے کو کمزور کرکے اسلام کو مغلوب کرنے کی مذموم کوشش ہے ۔۔۔

حرف حقیقت
از:مکرم خراسانی

#Mukarram_Khurasani
@harfehaqeeqat

About umar

Check Also

18۔کرونا وائرس یا لشکر جبار؟

18۔کرونا وائرس یا لشکر جبار؟ ہر مرض اللہ تعالیٰ کا حکم ہوتا ہے اللہ کے …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے