5۔مسئلہ کشمیر اور پاکستانیوں کی ہمدردی

5۔مسئلہ کشمیر اور پاکستانیوں کی ہمدردی

پاکستان میں آج کل میڈیا پر کشمیر ہی کشمیر زیربحث ہے اصل حقائق کیا ہیں یہ جاننے کیلئے کشمیر کی جغرافیائی صورتحال کو جانچنا ضروری ہے یاد رہے کہ کشمیری بہن بھائیوں کیلئے ہماری ہمدردی اتنی ہی ہے جتنی اپنے بہن بھائیوں کیلئے ہے، نہ کہ پاکستان کے براہ نام حکمرانوں کی طرح صرف سیاست چمکانے کی حد تک ۔۔۔۔
پاکستان دنیا کے نقشے پر ایسی جگہ واقع ہے جو بہت زیادہ زمینی’ سیاسی اور تزویراتی اہمیت کی حامل ہے۔ پاکستان کے مستقبل میں کشمیر کس قدر اہمیت کا حامل ہے؟ اس حوالے سے آج سے کئی دہائیاں قبل 1951ء میں پاکستان کے پہلے وزیراعظم لیاقت علی خان نے کہا تھا کہ ”کشمیر پاکستان کے سر کا تاج ہے’ اگر ہم نے یہ تاج انڈیا کو دے دیا تو ہم ہمیشہ کے لئے اس کے رحم و کرم پر ہوں گے۔کشمیر پاکستان کی بقاء کے لئے ضروری ہے’ کشمیر کی جیوپولیٹیکل پوزیشن ایسی ہے کہ اگر مستقبل میں انڈیا کی حکومت نے کشمیر کے ذریعے حملہ کردیا تو ہمارا زمینی دفاع ختم ہوجائے گا۔”
کشمیر کی پاکستان کے لئے اہمیت کا اندازہ اس بات سے بھی ہوتا ہے کہ پاکستان اب تک انڈیا سے تین جنگیں اس کی آزادی کے لئے لڑ چکا ہے۔ جبکہ ستر کی دہائی میں ملک کے پہلے منتخب وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو نے کہا تھا کہ کشمیر کے لئے ہزار جنگیں بھی لڑنا پڑیں تو لڑیں گے۔
آخر اتنی اہمیت کی وجہ کیا ہے؟؟
اصل وجہ کشمیر کا پاکستانی معیشت پر اثر ہے.
زراعت پاکستانی معیشت میں سب سے زیادہ اہمیت کی حامل ہے۔ ملک کی70فیصد آبادی کا روزگار زراعت سے ہی وابستہ ہے۔ ملک کا 80فی صدزرعی رقبہ نہری پانی سے ہی سیراب ہوتا ہے اور زرعی پیداوار کا 90 فیصد اسی پانی سے حاصل ہوتا ہے۔ پاکستان میں دنیا کا سب سے بڑا اور مربوط نہری نظام موجود ہے جوکہ 44 بڑی نہروں اور89ہزار چھوٹی نہروں اور کھالوں پر مشتمل ہے۔ ان کی کل لمبائی16لاکھ50ہزار کلومیٹر ہے۔ ان نہروں کا یہ جال پورے ملک میں پھیلا ہوا ہے اور یہ 40 ملین ایکڑ اراضی کو سیراب کرتی ہیں۔ ان زمینوں سے پیدا ہونے والی گندم’ کپاس’ چاول’ گنا اور دیگر اجناس 18 کروڑ انسانوں کی غذائی ضروریات کو پورا کررہی ہیں۔
پاکستان میں بہنے والے پانچوں دریاؤں کا پانی کشمیر سے آتا ہے۔ ان میں سے جہلم’ چناب اور سندھ کا پانی پاکستان کے پاس ہے۔ یہ پانی صرف زراعت ہی نہیں صنعتی پیداوار کی بھی بنیاد ہے کیونکہ پاکستان میں توانائی کی ضروریات پن بجلی سے ہی پوری ہورہی ہیں۔ پاکستان کے تین بڑے ڈیم کشمیر سے آنے والے دریاؤں پر قائم ہیں۔ کشمیر سے آنے والا پانی پاکستان کی معیشت میں اہم ترین عامل ہے۔ اگر یہ پانی رک جائے تو ملک کی صنعت اور زراعت دونوں ہی بند ہوجائیں گی جبکہ ملک قحط سالی کا شکار ہوجائے گا۔
تو اصل مقصد یہی ہی ہے …. ورنہ کشمیری بہن کے ساتھ آج تک وہ سلوک ہی نہیں کیا گیا جو پاکستانی بہنوں کے ساتھ ہوا اور ہورہا ہے آج تک ان کے گھروں پر اس طرح بمباری نہیں کی گئی جو اس ناپاک فوج نے اپنی ہی قوم پر کی ہے، ان کے نوجوانوں بچوں اور بوڑھوں کو غائب نہیں کیا جبکہ اس حکومت، فوج اور خفیہ ایجنسیوں کے ہاتھوں ہزاروں مسلمان لاپتہ ہیں … اس فوج اور پولیس کے ہاتھوں اپنی ہی قوم کی بیٹیاں لٹتی رہتی ہیں جس کی زندہ مثال چند ماہ قبل مھمند ایجنسی میں ایک غیرتمند عورت کے ہاتھوں فوجی اہلکار کا قتل ہے ..اس کے علاوہ سینکڑوں ایسے واقعات ویڈیو ثبوت کے ساتھ موجود ہیں جن میں اکثریت سوشل میڈیا پر وائرل ہوچکی ہیں، سینکڑوں ویڈیوز میں فوج اور پولیس کی غنڈہ گردی سوشل میڈیا کی زینت بن چکی ہے اور ہزاروں تصاویر میں پولیس گردی کی مثالیں بھی وافر مقدار میں موجود ہیں.
انڈیا نے پاکستان کے خلاف کشمیری دریاؤں سے نکلنے والے پانی کو استعمال کرنا شروع کردیا ہے۔ سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے وہ پاکستان کے پانیوں پر 62ڈیم تعمیر کرچکا ہے۔ جن سے30ہزار میگاواٹ سے زائد بجلی پیدا کی جارہی ہے۔ تازہ ترین اقدام میں انڈیا نے دریائے نیلم پر بھی کشن گنگا ڈیم کی تعمیر شروع کررکھی ہے. کتنے تعجب کی بات ہے کہ ایک طرف انڈیا پاکستان کے پانیوں سے بجلی پیدا کررہا ہے اور پاکستان توانائی کے بحران کا شکار ہے جبکہ دوسری طرف حکومت کی جانب سے انڈیا سے بجلی درآمد کرنے کی سمری کابینہ کو بھجوائی جاچکی ہے۔ ڈیموں کی تعمیر اور واٹر ٹنلز پروجیکٹ کے ذریعے انڈیا اس پوزیشن میں ہے کہ چاہے تو دریاؤں کا پانی بند کرکے پاکستان کو ایتھوپیا بنادے اور جب چاہے پانی چھوڑ کر ملک کو سیلاب سے دوچار کردے۔
یہ وہ منصوبے ہیں جو بھارت نے افغانستان میں نیٹو کی موجودگی کا فائدہ اٹھاکر مکمل کئے ہیں۔ اس دور میں پاکستان پر امریکہ کا دباؤ موجود رہا۔ پاکستان کو اپنی توجہ مغربی بارڈر پر کرنا پڑی اور مشرقی بارڈر پر بھارت کھیل کھیلتا رہا اور اس وقت کی فوجی حکومت نے کشمیر پالیسی سے خوفناک یوٹرن لیااور بھارت سے دوستی کی پالیسی اپنائی۔

کپتان خان کے حالیہ دورہ امریکہ سے لگتا ہے کہ کشمیر پر گریٹ گیم کھیلا جارہا ہے ؟ کیا یہ سب کچھ پہلے سے طے تھا کہ وزیراعظم عمران خان سے وائٹ ہاؤس میں ملاقات کے دوران ڈونلڈ ٹرمپ کو اچانک مظلوم کشمیریوں کی یاد آئی ۔ اتنا انتظار بھی نہ کیا کہ پاکستان کا وزیراعظم کسی موقع پر کشمیر کا مسئلہ حل کرنے کی بات کرتاتو وہ پھر اپنی ثالثی کی پیشکش کرتے ۔ کپتان یہ کہتے ہوئے امریکا سے لوٹتاہے کہ “یوں لگ رہا ہے ، ایک بار پھر ورلڈ کپ جیت کر آرہاہوں۔” ایسے میں اچانک مقبوضہ کشمیر میں اضافی فوجی تعینات ہونے لگتے ہیں اور ایک صبح بھارتی وزیرداخلہ کشمیر کی تقسیم اور خصوصی حیثیت ختم کرنے کا بل پیش کردیتے ہیں ۔ ابھی ووٹنگ بھی شروع نہیں ہوتی ، ایوان صدر سے حکمنامے کے ذریعے مقبوضہ کشمیر سے الگ ریاست کا درجہ چھین لیا جاتا ہے ۔
کپتان خان لوٹتے ہی اسمبلی میں احتجاج کرکے سادہ لوح عوام کوغزوۃ الھند کا جھانسہ دینے کی کوشش میں لگے ہوئے ہیں اور بے چارے عوام ان کے سیاسی پروپیگنڈوں میں آکر جہاد جہاد کا نعرہ لگاتے ہیں جن میں اکثریت پختونخواہ سے تعلق رکھنے والے گل خانوں کی ہے، جو اصل جہاد والے اور ملک کا دفاع کرنے والے افراد ہیں وہ حکمرانوں اور خفیہ ایجنسیوں کے ہاتھوں لاپتہ ہیں. ہزاروں افراد معلوم عقوبت خانوں میں قید احد احد کی صدا لگاتے اس آس میں بیٹھے ہیں کہ کب ان سلاخوں سے نکل کر اپنے مظلوم بہن بھائیوں کی مدد کرسکیں، اور ہزاروں کی تعداد میں ان محافظینوں کے ہاتھوں مختلف قبرستانوں کی زینت بنے ہوئے ہیں ۔ کشمیر کیلئے لڑنے والوں کو یہ بات ذہن میں رکھنا چاہیئے کہ جنگ جیتنے کیلئے تین چیزیں بہت ضروری ہوتی ہیں، سب سے پہلی چیز اس میں ایمان ہے، دوسری غیرت ہے اور تیسری پھر عقل ہے، اور بدقسمتی سے پاکستانی سیاسی اور عسکری قیادت سمیت تقریباً 90 فیصد عوام ان تینوں چیزوں سے کوسوں دور ہیں، ہماری قوم کی غیرت کا تو یہ حال ہے کہ جب بقول ان کے ان کی شہ رگ کاٹی جارہی تھی تب بھی ان کی یوٹیوب پر ٹرینڈنگ میں انڈین گانے اور فلمیں تھیں، غزوہ ہند کا نعرہ لگانے والوں کی اکثریت چوراور ڈاکو ہیں. کیا احادیث مبارکہ میں غزوہ ہند کا ذکر ایسے لوگوں کے بارے میں ہے جن کی 80 فیصد آبادی حرام کھاتی اورکماتی ہے جس قوم کے چھوٹے بڑے ، رعایا ، امراء اور وزراء جھوٹ بولتے ہوئے فخر محسوس کرتے ہیں، جس قوم کی بیٹیاں سوشل میڈیا کے مختلف فورم پر ناچتی ہیں، اوراس قوم کے شاہین ان کو دیکھتے نہیں تکتے ، پھر جب یہی ناچنے والے بڑے ہوکر ماں باپ بنیں گے تو انہی ناچ گانے والوں کو ہی پیدا کریں گے پھر ایسی حالت میں وہ اولاد کی کیا تربیت کریں گے؟؟ حقیقت تو یہ ہے کہ پاکستانی عوام بے غیرتی میں ہندو اور یہودونصاریٰ سے بھی اگے جاچکے ہیں،
پاکستانی قوم بھی عجیب قوم ہے پورا سال جہاد کے خلاف فتویٰ بازی کرتے نہیں تھکتے کہ اسلام امن کا درس دیتا ہے اسلام اخلاق سے پھیلا ہے تلوار سے نہیں وغیرہ ۔۔۔ مگر جب بھارت کے ساتھ ملکی مفاد کی خاطر کشمیر میں مسئلہ بنتاہے تو پھر ہر خاص وعام کی زبان پر یہی ایک کلمہ ہوتا ہے کہ جہاد فرض ہے کشمیر میں ظلم منظور نہیں کشمیر کی بہنیں ہماری بہنیں ہیں، ہم لیکے رہیں گے آزادی، کشمیر بنے گا پاکستان وغیرہ ۔۔۔ دوسری طرف اگر سوشل میڈیا پر نظر دوڑائی جائے تو اکثریت ایسی ویڈیوز کی ہے جس میں یہی غزوہ ہند کے مجاہدین پاکستانی ناپاک فوج اور پولیس وغیرہ اپنے ہی عوام پر ایسے مظالم ڈھارہے ہیں جس کا بھارتی فوج سوچ بھی نہیں سکتی کہ کوئی اپنی قوم کو بھی اس طرح قتل کرسکتا ہے۔ گزشتہ روز فیصل آباد کے صلاح الدین کے ساتھ ہونے والا واقعہ اور اس کے علاوہ ہزاروں کیسز ان کی بے غیرتی اور ظلم کا منہ بولتا ثبوت ہے. یہ وہ مثالیں ہیں جواس دجالی لشکر کے دجالی میڈیا کے نزد ظلم اور بربریت ہے، اس کے علاوہ دہشت گردی کے نام پر کیا کچھ کیا اورکر رہے ہیں وہ توسننا بھی قابل برداشت نہیں، سمجھ میں نہیں آرہا کہ ان تمام بے غیرتیوں کے باوجود یہ لوگ کس منہ سے کشمیر کیلئے آواز اٹھا رہے ہیں وہ بھی اس حال میں اب تو کشمیری بھی نعرہ بدل چکے ہیں کہ
پاکستانی فوجیو! چھوڑدو کشمیر کو
ہندوستانی فوجیو ! چھوڑدو کشمیر کو
یہ جو دہشت گردی ہے اس کے پیچھے وردی ہے
یہ جو مارا ماری ہے اس کے پیچے وردی ہے
یہ کشمیریوں کے موجودہ نعرے ہیں جس کی ویڈیو کلپ بھی آج کل سوشل میڈیا پر وائرل ہے ۔۔ کشمیر بنے گا پاکستان کا وقت گزرچکا ہے اب لوگ سمجھ چکے ہیں کہ جو لوگ اپنے ہی ملک کو سنبھال نہیں پارہے ، وہ کشمیر کو کیا سنبھالیں گے حقیقت تو یہ ہے کہ کشمیریوں کیلئے پاکستان سے زیادہ بھارت کے تسلط میں فائدہ ہے کیوں کہ جو ظلم وستم پاکستان نے اپنے مظلوم عوام پر کیا چند ڈالروں کے عوض وہ بھارتی فوج کی بھی سمجھ سے باہر ہے بھارتی فوجی اگر کشمیریوں پر ظلم کرتے ہیں تو وہ اس حال میں کرتے ہیں کہ کشمیری عوام پاکستان کے نعرے لگاتے ہیں ۔۔۔

یہ تحریر لکھنے کا شوق بھی ایسے ہوا کہ سینکڑوں ایسی ویڈیوز سوشل میڈیا پر دیکھیں جس میں پاکستانی فوج اور پولیس کو اپنے پاکستانی بہن بھائیوں کے ساتھ ظلم اور بداخلاقی کرتے دکھایا گیا ہے. تو سوچنے پر مجبورہوا کہ یہ نام نہاد محافظین کس منہ سے کشمیری بہن بھائیوں کیلئے آواز اٹھاتے ہیں؟؟ اور آواز اٹھانا بھی ایسا کہ واللہ خود کو پاکستانی کہہ کر بھی شرم محسوس کرتے ہیں جو خود کو ایک طرف تو ایٹمی طاقت سمجھتے ہوئے دھمکی دیتے ہیں کہ پاک بھارت جنگ برصغیر کا نقشہ بدل دے گی یہ کرے گی وہ کرے گی اور دوسری طرف کشمیریوں کیلئے صرف آدھا گھنٹہ کھڑا ہوکر ان کو تسلی دیتے ہیں عجیب غیرت ہے تو ایسے حکمرانوں کے زیر تسلط فوج بھی ایسے ہی ہوں گے جو غیرمسلح احتجاج کرکے کشمیریوں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہیں بس اسی کی کمی تھی اس بے غیرت فوج میں وہ بھی کرڈالے شاید ہی کوئی کام بے غیرتی کا ایسا ہو جو ان کے حصے میں نا ہو۔۔۔
اللہ ان بے غیرت حکمرانوں اور ان نام نہاد محافظین کے شر سے پاکستان اور کشمیر سمیت تمام دنیا کے مسلمانوں کو محفوظ رکھے آمین ۔۔۔

اخوکم فی الاسلام
مکرم خراسانی

#Mukarram_Khurasani
@harfehaqeeqat

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

[Forwarded from UMAR RADIO FM] عمر ریڈیو نشریات پیر ۱۷ محرم الحرام ۱۴۴۰ ھ بمطابق ۱۶ ستمبر ۲۰۱۹

آج کی نشریات کا بڑا موضوع ….

جنوبی وزیرستان میں تحریک طالبان پاکستان کا مائن حملہ تین اہلکار ہلاک …..
حملے کی تازہ صورتحال ذیشان محسود کی زبانی

ہفتہ وار کالم حرف حقیقت از مکرم خراسانی

عنوان ” مسئلہ کشمیر کی اہمیت ”

درس قرآن، سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم میں نماز کے احکامات ،آپ کے پیغامات و جوابات، تبصرے، تجزیے اور خوبصورت نظمیں …..

اینکرز : مولانا یاسر صاحب ،فیصل شھزاد صاحب

ڈاونلوڈ لنکس

http://www.multcloud.com/share/ba1ce71e-2ea7-4e9f-8a99-2708b07938d3

http://www.mediafire.com/file/19k7j2gbjosf8pp/umarradionashryat17muharram1441h%25282%2529.mp3/file

 

@umarmedia19
@umarradiofm_1

About umar

Check Also

20۔سیکولرزم کا پرچار

20۔سیکولرزم کا پرچار پاکستان میں آج کل سیکولرزم عروج پر ہے اور یہ نظریہ عصری …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے