4۔حیاءاورسوشل میڈیا

4-حیاءاورسوشل میڈیا

اللہ تعالیٰ نے انسان کواشرف المخلوقات بناکر فطری خوبیوں سے مالامال کیا ہے ان خوبیوں میں سے ایک خوبی شرم وحیا ہے۔ شرعی نقطہٴ نظرسے شرم وحیا اس صفت کا نام ہے جس کی وجہ سے انسان قبیح اور ناپسندیدہ کاموں سے پرہیز کرتاہے دین اسلام نے حیاء کی اہمیت کو خوب اجاگر کیا ہے تاکہ مومن باحیاء بن کر معاشرے میں امن وسکون پھیلانے کا ذریعہ بنے۔ نبی اکرم ﷺ نے ایک مرتبہ ایک انصاری صحابی کو  کو دیکھا جو اپنے بھائی کو سمجھا رہا تھا کہ زیادہ شرم نہ کیا کرو آپ ﷺ نے سنا تو ارشاد فرمایا : دعہ فان الحیاءمن الایمان ۔ (مشکوة -2-431) ترجمہ : اس کو چھوڑدو کیونکہ حیاء ایمان کا جز ء ہے۔ دوسری حدیث میں ہے : الحیاء لا یاٴ تی الا بخیر وفی روایة الحیا ء خیرکلہ ۔(2-421) ترجمہ : حیاء خیر ہی کی موجب ہوتی ہے اور ایک روایت میں ہے کہ حیاء سراسر خیر ہے ۔گو انسان جس قدر باحیاء بنے گا اتنی ہی خیر اس میں بڑھتی جائے گی ۔حیاء ان صفات میں سے ہے جن کی وجہ سے نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : الحیاء من الایمان والایمان فی الجنة والبذآء من الجفآءٰ فی النار۔(مشکوة۔431) ترجمہ : حیاء ایمان کا حصہ ہے اور ایمان جنت میں جانے کاسبب ہے اور بے حیائی جفاء(زیادتی) ہے اور جفا دوزخ میں جانے کا سبب ہے ۔ حیاء کی وجہ سے انسان کے قول و فعل میں حسن و جمال پیدا ہوتا ہے لہٰذا باحیاء انسان مخلوق کی نظر میں بھی پرکشش بن جاتا ہے اور پروردگار عالم کے ہاں بھی مقبول ہوتا ہے اور قرآن مجید میں بھی اس کا ثبوت ملتاہے۔ حضرت شعیب علیہ السلام کی بیٹی جب حضرت موسیٰ علیہ السلام کو بلانے کے لیے آئیں تو ان کی چال وڈھال میں بڑی شائستگی اور میانہ روی تھی اللہ رب العزت کو یہ شرمیلا پن اتنا اچھا لگا کہ قرآن مجید میں اس کا تذکرہ فرمایا ، ارشادِ باری تعالیٰ ہے : فجآتہ احدٰ ھما تمشیی علی استحیآء ۔(سورة القصص ۔25) ترجمہ : اور آئی ان کے پاس ان میں سے ایک لڑکی شرماتی ہوئی ۔ سوچنے کی بات یہ ہے کہ جب باحیاء انسان کی رفتاروگفتار اللہ تعالیٰ کو اتنی پسند ہے تو اس کا کردار کتنا مقبول اور محبوب ہو یہی وجہ ہے کہ حدیث میں حیاء کو ایمان کا ایک شعبہ قرار دیا گیا ہے۔ چنانچہ ارشاد مبارک ہے : الحیآ ء شعبة من الایمان ۔( مشکوٰة۔12) لہٰذا جو شخص حیاء جیسی نعمت سے محروم ہوجاتا ہے وہ حقیقت میں محروم القسمت بن جاتا ہے ایسے انسان سے خیر کی توقع رکھنا بھی فضول ہے ۔ چنانچہ نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے : اذالم تستحیی فاصنع ما شئت ۔(مشکوٰة ۔431) ترجمہ : جب شرم وحیا ء نہ رہے تو پھر جو مرضی کر۔ اس سے معلوم ہوا کہ بے حیاء انسان کسی ضابطہ ٴ اخلاق کا پابند نہیں ہوتا اور اس کی زندگی شترِ بے مہار کے طرح ہوتی ہے ۔حیاء ہی وہ صفت ہے کہ جس کی وجہ سے انسان پاکیزگی اور پاکدامنی کی زندگی گزارتاہے لہٰذا تمام مسلمانوں پر لازم ہے کہ وہ حیاء کی صفت کو اپنانے کی مکمل کوشش کریں تاکہ پاکیزگی اور پاکدامنی کے ساتھ زندگی گزاریں۔

دوسری طرف غیرمسلموں اور خصوصاً یہودیوں کی ہمیشہ یہی سازش رہی ہے کہ مسلمانوں میں بے حیائی عام کرکے ان کی ایمانی غیرت کو کمزور کیا جائے تاکہ وہ آسانی سے ان کو مغلوب کرکے ان پر حکومت کرے، اسی سلسلے میں وہ کافی حد تک کامیاب بھی نظر آرہے ہیں اور اس کامیابی میں بڑا ہاتھ سوشل میڈیا کا ہے جس کا صرف اور صرف مقصد فحاشی وعریانی پھیلانا ہے اگر چہ مجاہدین اور جہادی نظریہ رکھنے والوں کی مسلسل انتھک محنت اور کوششوں سے جہادی نظر پھیلنے کا ذریعہ بھی الحمدللہ بن چکی ہے ، لیکن عموماً یہ سادہ لوح عوام کیلئے انتہائی خطرناک بھی ہے اسی سوشل میڈیا کی وجہ سے ہم اپنے والدین ،بہن بھائیوں اور رشتے داروں کو وقت نہیں دے سکتےجس کی وجہ صلہ رحمی قطع ہوتی نظرآتی ہے جو انتہائی خطرناک ہے سوشل میڈیا خصوصاً فیس بک پر تو ہم پانچ ہزار دوست رکھتے ہیں مگر اپنے گھرمیں موجو د پانچ دس افراد سے بے خبر ہوتے ہیں کہ کون کس حال میں ہے؟سوشل میڈیا پر کھلی آزادی ہوتی ہے لوگوں کو کسی قسم کا کوئی ڈر نہیں ہوتا، جس کے دل میں جو بھی بات آتی ہے وہ شیئر کردیتاہے اس طرح بے حیائی کا کھلے عام اظہار ہوتا ہے اور بے معنی ، بے شائستہ، اور بے ہودہ زبان کا استعمال کیا جاتا ہےاور تو اور گالیوں اور غیبت کا تو ہر وقت بازار گرم رہتا ہے، اسی سوشل میڈیا کے ذریعے زیادہ تر لوگ جعلی اکاؤنٹ بناکر دوسروں کو گمراہ کرتے ہیں ۔ ایسے لڑکے لڑکیوں کے ناموں سے اپنا اکاؤنٹ بناکر دیگر لڑکوں کو بے وقوف بناتے ہیں جس کی وجہ سے بھولے بھالے لوگ نہ صرف بے وقوف بنتے ہیں بلکہ ذہنی طور پر مفلوج ہوتے ہیں اور آج کل پاکستان کے خفیہ ادارے بھی سوشل میڈیا کے ذریعے لڑکیوں کا استعمال کرکے جہادی نظریہ رکھنے والے بے چارے نوجوانوں کو دھوکہ دے کر گرفتار کرتے ہیں اور پھرانہیں کمانڈر کا نام دے کر ترقی کی راہ تکتے ہیں۔ سوشل میڈیا کی وجہ سے دنیا گلوبل ویلیج بن چکی ہے ، اور دوسری تہذیبوں کے اثرات ہماری زندگی پر پڑنے لگے ہیں۔ جس کی وجہ سے ہمارے نوجوان بے راہ روی کا شکار ہورہے ہیں۔اس کی وجہ سے پرائیویسی بالکل ختم ہوچکی ہے آجکل ہر فرد کے ساتھ یا گھر میں کم سے کم ایک فرد کے ساتھ تو سمارٹ فون موجود ہوتا ہے اگر گھر یا سکول مدرسہ میں کوئی بھی ذاتی یا نجی تقریب منعقد ہو تو اگلے دن آدھی دنیا ان کی تقریبات کی تصویریں یا ویڈیو جھلکیاں دیکھ رہی ہوتی ہے۔سوشل میڈیا نے ہمیں نہ صرف فیملی ، دوستوں اور رشتہ داروں سے دور کردیا ہے بلکہ اس کی وجہ سے ہم اپنے دین سے بھی دور ہوتے جارہے ہیں اس کی وجہ سے ذہنی ، اخلاقی اور جسمانی صحت کو بھی نقصان پہنچ رہاہے، نوجوان کی بڑی تعداد اس کے ذریعے بہت سے غلط کام کررہی ہے جس کی وجہ سے بیرونی اور غیرمسلم دنیا میں ہماری کوئی عزت نہیں رہتی۔
انٹرنیٹ ،موبائل اور سوشل میڈیا کی ترقی کی بدولت اب تو حالت یہ ہوگئی ہے کہ دو تین سال کا بچہ بھی گیمز میں مگن ہے، باپ واٹس ایپ پر چیٹ کررہا ہوتا ہے تو ماں فیس بک پر سٹیٹس اپڈیٹ کررہی ہوتی ہے اور بیٹی یوٹیوب پر ویڈیو سرچ میں مصروف ہے جبکہ ان کے پاس ایک دوسرے کیلئے وقت ہی نہیں ہے۔
ایک دن امیرمحترم مولانا فضل اللہ رحمہ اللہ کے ساتھ سوشل میڈیا پھر خصوصاً فیس بک پر بحث کرنے کا موقع ملا ایک آدھ خوبی اور دسیوں خامیاں بیان کرتے کرتے آپ رحمہ اللہ نے ایک عجیب بات کہی کہ جس طرح ایک مجلس ہوتا ہے اس میں ایک موضوع پر بحث چڑھتی ہے تو مجلس میں موجود ہر بندہ اپنی رائے کا اظہار کرتے ہیں بالکل اسی طرح فیس بک پر ایک ویڈیو نشر ہوتی ہے پوسٹر شائع ہوتا ہے کسی چیز کی کوئی تصویر شائع ہوتی ہے تو اس کے نیچے کمنٹ باکس میں اس ویڈیو یا پوسٹ کے متعلق لوگ اپنی رائے کمنٹ کی شکل میں دیا کرتے ہیں جو ایک مجلس کی شکل اختیار کرتی ہے اب اس مجلس میں صرف اسی ملک ہی سے نہیں بلکہ پوری دنیا اور اپنی ملک کے ہر شہر سے لوگ حصہ لیتے ہیں جس میں یہودونصاریٰ، ہندو، اہل تشیع، فرقہ احمدیہ مرتدین غرض تمام مذاہب مسلم اورغیرمسلم شامل ہوتے ہیں تو ایسی مجلس میں شامل ہونا کہاں کی عقلمندی ہے….
نوجوان نسل سے میں یہی التجا کرنا چاہتا ہوں کہ اگر خواہ مخواہ سوشل میڈیا کو استعمال کرنا ہے تو اسے مثبت طریقے سے اسلام کی سربلندی اور جہادی نظریے کو پھیلانے کی خاظر استعمال میں لائیں اور خصوصاً جہادی نشریات کو اتنی ترقی دینے کی کوشش کیجئے کہ یا تو دنیا میں مجاہدین کی حکمرانی ہو یا پھر یہ یہود ونصاریٰ مجبور ہوکر سوشل میڈیا کو ہی ختم کردے۔۔

اخوکم فی الاسلام
مکرم خراسانی

#Mukarram_Khurasani
@harfehaqeeqat

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

عمر ریڈیو نشریات پیر ۱۰ محرم الحرام ۱۴۴۱ ھ بمطابق۹ ستمبر ۲۰۱۹

آج کی نشریات میں …..

ہفتہ وار کالم حرف حقیقت از مکرم خراسانی
عنوان: ” حیا اور سوشل میڈیا ”

درس قرآن،سلسلہ اھل الثغور، آپ کے پیغامات و جوابات تبصرے، تجزیے اور خوبصورت نظمیں ……

اینکرز: مولانا یاسر صاحب، فیصل شھزاد صاحب

آرکائیو ڈائریکٹ ڈاونلوڈ لنک
https://archive.org/download/umarradionashryat10muharram1441h/umarradionashryat%2010muharram%201441h.mp3

پی کلاؤڈ لنک
https://my.pcloud.com/publink/show?code=XZoTtJkZavGWb9mFUz70sDg14RoN1jemg2By

@umarmedia18
@umarradiofm_1

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

About umar

Check Also

20۔سیکولرزم کا پرچار

20۔سیکولرزم کا پرچار پاکستان میں آج کل سیکولرزم عروج پر ہے اور یہ نظریہ عصری …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے