3۔مسنگ پرسنز(لاپتہ افراد) مسئلہ یا بدمعاشی؟؟

3۔مسنگ پرسنز(لاپتہ افراد) مسئلہ یا بدمعاشی؟؟

پاکستان میں لاتعداد مسائل میں سے ایک اہم مسئلہ لاپتہ افراد کا ہے، لوگوں کو لاپتہ کرنے کا یہ سلسلہ کب اور کیوں شروع ہوا‘ یہ لوگ کہاں ہیں۔ یہ سوال ابھی تک حل طلب ہے تاہم پاکستان میں لوگوں کو لاپتہ کرنے کا سلسلہ 2001ء میں شروع ہوا جب خفیہ طریقے سے سینکڑوں افراد کو امریکی ایجنسی سی آئی اے کے حوالے کیا گیا۔ لاپتہ ہونے والے افراد چاروں صوبوں سے تعلق رکھتے ہیں، غیر سرکاری اعداد و شمار کے مطابق لاپتہ افراد کی تعداد ہزاروں میں ہے، جن کے زندہ یا مردہ ہونے کی تصدیق نہیں ہو سکی۔ لاپتہ ہونے والے افراد کا تعلق خیبر پی کے میں سوات، دیر، پشاور، مردان، پنجاب میں بہاولپور، بھکر اور میانوالی، سندھ میں کراچی، حیدرآباد اور سکھر، بلوچستان کے کئی اضلاع، اسلام آباد، فاٹا، آزاد جموں وکشمیر اور گلگت بلتستان سے ہے۔
ان میں سے اکثر کو مسجد ، مدرسہ، سکول اور کالج سے غائب کردیئے گئے ہیں بعض کو مزدوری کرتے کام کی جگہ سے خفیہ اداروں یا وردی میں ملبوس ناپاک فوج نے لاپتہ کردی ہیں، لاپتہ افراد کی اصل تعداد کتنی ہے حتمی اعداد وشمار سرکاری اور غیر سرکاری اداراوں دونوں کے پاس دستیاب نہیں ہیں۔گذشتہ ایک دہائی میں لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے چار تنظیمیں وجود میں آ چکی ہیں، جس میں آمنہ جنجوعہ کی ہیومن رائٹس ڈفینڈر کا اندازہ ہے کہ دس ہزار کے قریب لوگ لاپتہ ہیں۔وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کا دعویٰ ہے کہ 20 ہزار کے قریب بلوچ لاپتہ ہیں، جب کہ وائس فار سندھی مسنگ پرسنز کا تخمینہ ہے کہ 2001 سے سندھ سے 50 سندھی کارکن تاحال لاپتہ ہیں۔دوسری طرف حال ہی میں جنم لینے والی پشتون تحفظ موومنٹ کا کہنا ہے کہ آٹھ ہزار پشتون لاپتہ ہیں ، بہرحال یہ تو کنفرم ہے کہ تعداد ہزاروں میں ہے۔ سرکاری ادارے یہ تعداد ماننے سے انکار کرتے ہیں تاہم بی بی سی کے ایک رپورٹ کے مطابق متاثرہ خاندانوں میں سے اکثریت ایسے ہیں جو کیس چلانے کیلئے وکلاء کی فیس دینے سے قاصر ہیں ان کا کہنا ہے کہ وکلاء کی کم ازکم فیس ایک لاکھ روپے ہے جو اکثریت کی بس میں نہیں۔انسانی حقوق کمیشن نے بھی اپنی 2017 کی جائزہ رپورٹ میں قرار دیا ہے کہ جبری گمشدگیوں کے متعدد واقعات نے پاکستان میں انسانی حقوق کو شدید خطرات سے دوچار کیا ہے۔جبری گمشدگیوں سے متعلق تحقیقاتی کمیشن کو اپنے مینڈیٹ کے حصول کے لیے جو آزادی اور مالی وسائل درکار تھے وہ پاکستان حکومت کے لیے چیلنج بنے رہے اور کمیشن جبری گمشدگیوں میں ملوث افراد کے خلاف قانونی کارروائی کرنے میں ناکام رہا
آج ملک کی صورتحال ایسی ہے میڈیا والے بھی حقیقت کو سامنے لانے کی کوشش میں ہیں اور براہ راست فوج اور خفیہ اداروں کو تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں کیونکہ لاپتہ افراد کے خاندانوں کی آہ وفریاد اور فوج و خفیہ اداروں کے خلاف گواہی ویڈیوز میں بطور ثبوت بارہا پیش کی جا چکی ہے اور یہ ویڈیوز سینکڑوں کی تعداد میں موجود ہیں ، اس کے علاوہ جوڈیشری بھی خفیہ اداروں کی بدمعاشی سے تنک آکر آخر کار حق بولنے لگے لاہور ہائی کورٹ کے ایک جج نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ جوڈیشری آئی ایس آئی کے ہاتھوں یرغمال ہے وہ ایسے فیصلے نہیں کرسکتے جو آئی ایس آئی سے تائید نہ ہو، یہ سٹیٹمنٹ دینے کے بعد وہ جج بھی لاپتہ ہوگئے اور ملک میں ایک اور نعرے نے جنم لیا ’’ یہ جوریفرنس گردی ہے اس کے پیچھے وردی ہے‘‘ اس کے علاوہ جو جمہوری پارٹیاں ہیں وہ بھی مرکزی حکومت کے خلاف بولنے میں سخاوت سے کام لے رہی ہیں تقریباً تمام پارٹیاں حکومت فوج اور خفیہ اداروں کے خلاف ایک ہوتے نظر آرہے ہیں اور مہنگائی کے مارے عوام تو پہلے سے حکومتی پالیسی کے خلاف احتجاجی مظاہرے کرتے کرتے تھک گئے ہیں اور ’’یہ جو دہشت گردی ہے اس کے پیچے وردی ہے‘‘ نعرہ تو سنا ہوگا کہ عوام فوج اورخفیہ اداروں سے کتنی محبت کرتے ہیں؟ غرض حکومت ،فوج اور خفیہ ادارے بری طرح پھنس چکی ہیں اس صورتحال سے نکلنے کیلئے کوشش کرتے کرتے حکومت اور فوج کے مشترکہ ترجمان بوکھلاہٹ کا شکار ہوگئے ہیں،
کچھ دن پہلے لاپتہ افراد کی بازیابی کیلئے بنائے گئے تنظیم ہیومن رائٹس ڈیفینڈر کے چیئرپرسن امنہ مسعود جنجوعہ کو جی ایچ کیو میں اسی بدنام زمانہ ترجمان کی طرف سے مدعو کیا گیا طویل ملاقات میں اس کو بھی چپ کرانے کیلئے ایک اور حربہ ازمایا گیااور بے چاری کو یہ باور کرانے کی کوشش کی گئی کہ فوج خود بھی لاپتہ افراد کے بازیابی کیلئے کوشش کر رہی ہے اور اس کیلئے انہوں نے جی ایچ کیو میں سیل بھی قائم کیا ہے جو ان لاپتہ افراد کی بازیابی کیلئے محنت کررہی ہے، اور بعض اداروں کی طرف سے جو تعداد بتائی جارہی ہے وہ اکثر تحریک طالبان پاکستان کے پاس ہیں یا جنگوں میں مصروف ہیں۔۔۔

تحریک طالبان پاکستان نے آصف غفور کے اس بیان کو بچگانہ بیان قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’’ لاپتہ افراد سے مراد وہ لوگ ہیں جو بدنام زمانہ ڈالرخور ادارے آئی ایس آئی یا ایم آئی کے ہاتھوں خفیہ عقوبت خانوں میں موت کا انتظار کر رہے ہیں یا ماورائے عدالت قتل ہوکر جعلی مقابلوں کی نذر ہوتے ہیں یا پھر خفیہ طور پر دفنائے جاتے ہیں اور بس لاپتہ ہوتے ہیں، آجکل چونکہ حکومت چاروں طرف سے پھنسی ہوئی ہے، میڈیا اور جوڈیشری سمیت تقریباً تمام اداروں پر ان ملک دشمن عناصر کی حقیقت واضح ہوچکی ہے اور تمام مکتبہ فکر اس کا اظہار کرچکے ہیں اور عوام کے احتجاجی مظاہرے تو چڑھتی سورج کی طرح روشن ثبوت ہے،جو صرف پاکستان ہی میں نہیں بلکہ یورپی ممالک میں بھی زور وشور سے جاری ہیں
….فوجی ترجمان بوکھلاہٹ کا شکار ہے اس لیے آئے روز بیانات بدلتا رہتا ہے
لاپتہ افراد طالبان نہیں آصف غفور اپنے جھوٹے بیان پر غور کریں‘‘
اسی سلسلے کو جاری رکھتے ہوئے عمر ریڈیو پر مسنگ پرسنز کے حوالے سے ایک پروگرام بھی نشرہوئی جس میں لاپتہ افراد کے والدین ،بھائی اور اولاد وغیرہ کے ریکارڈشدہ بیانا ت بھی بطور ثبوت اور فوجی ترجمان کے بیان کی تردید کی خاطر شامل کیے گئےان مظلوم عوام کے بیانات ویڈیوز میں موجود ہیں یہاں لکھنے کی ضرورت نہیں ہوگی ، پروگرام میں تحریک طالبان پاکستان کے شعبہ نشرواشاعت سے تعلق رکھنے والے سینئر تجزیہ نگاروں کوبھی مدعو کیاگیا، ایک سوال کے جواب میں محترم اسلام مھاجر صاحب نے عمرریڈیو کے اینکر سے کچھ یوں کہا
’’ پاکستان میں کافی عرصے سے بے گناہ لوگوں کو لاپتہ کرنا اور پھر انہیں جعلی مقابلوں میں قتل کردینا یا مختلف ناموں سے بیچ ڈالنے کا سلسلہ چلتا چلا آرہا ہے،دراصل یہاں پر رائج ظلم پر مبنی کفری طاغوتی جمہوری نظام کو برقرار رکھنے کیلیے ان لوگوں کو خوامخواہ ظلم کرنا پڑتا ہے اور یہ لوگ بالکل فرعون کے نقش قدم پر رواں دواں ہیں لیکن اتنا فرق ہے کہ فرعون علی الاعلان ظلم کیا کرتا تھا اور یہ لوگ چھپ چھپا کر کرتے ہیں لیکن اس نے جب حق سے ٹکر لی تو اللہ نے اسے نشان عبرت بنا ڈالا ان شاءاللہ ان کا انجام بھی اس ہی کی طرح ہوگا اللہ رب العزت انکو بھی نشان عبرت بنا ڈالیں گے،رہ گئی بات لاپتہ افراد کی تو انکے بارے میں ایک عمومی بیداری کی لہر اٹھی اور مظاہرے شروع ہوئے بلکہ پوری دنیا میں مظاہرے شروع ہوئے جس کی وجہ سے اس فوج پر دباؤ آیا تو فوجی ترجمان نے اپنے سر سے پانی ہٹانے کیلیے انسانی حقوق کیلیے کام کرنے والی تنظیم کی ذمہ دار آمنہ مسعود جنجوعہ کے ساتھ پریس کانفرنس میں ایک بے حقیقت بے بنیاد الزام لگایا کہ لاپتہ افراد سب کے سب ہمارے پاس نہیں ہیں بلکہ کچھ تو تحریک طالبان پاکستان کے ساتھ مل کر جنگوں میں مصروف ہیں یا پھر انکے پاس قیدیوں کی صورت میں ہیں حالانکہ تحریک طالبان پاکستان کی صفوں میں موجود لوگ جو مختلف علاقوں یا شہروں میں ہیں وہ تو گمشدہ افراد کی لسٹ میں آتے ہی نہیں ہیں خود آمنہ مسعود جنجوعہ نے بھی یہی کہا ہے اور کسی مظاہرے میں تحریک طالبان پاکستان سے یہ مطالبہ نہیں کیا گیا کہ فلاں فلاں گمشدہ فرد کو بازیاب کروایا جائے ،حقیقت یہ ہے کہ جہاد مجاھدین اور اس کفری طاغوتی نظام کے خلاف آواز اٹھانے والوں کے علاوہ ہزاروں بے گناہ لوگ اس فوج اور خفیہ اداروں نے لاپتہ کیے ہیں جو خود انکے کفری طاغوتی نظام کے تحت بھی جائز نہیں کہ ایک آدمی کو تھانے،کچہری کے علاوہ اٹھا کر غائب کردیا جائے اور تشدد و تعزیب کا نشانہ بنادیا جائے اور تعزیب خانوں میں ڈال دیا جائے ، یہ تو اس مرتد ظالم فوج کی تاریخ چلی آرہی ہے کہ اس سے قبل بلوچ قوم سے لیکر دیگر کئی اقوام کے خلاف بھی ایسے مظالم روا رکھے گئے انہیں لاپتہ کیا گیا،پھر جعلی مقابلوں میں قتل کرکے انہیں اور نام دے دیے گئے، خلاصہ کلام یہ ہے کہ فوجی ترجمان کے اس جھوٹے دعوے کا حقیقت کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے‘‘
عمرمیڈیا سے تعلق رکھنے والے ایک اور ساتھی سے لاپتہ افراد کی جرم کے بارے میں سوال کیا گیا جس کہ جواب میں انہوں نے کچھ یوں کہا
’’ اصل جرم تو ان بیچاروں کی بے بسی ہے اس کے علاوہ اکثریت ان لوگوں کی ہے جو دیندار تھے جیسا کہ آپ ماؤں بہنوں بوڑھوں بچوں کی آہ و فریاد سنیں تو اکثریت لاپتہ افراد کا قصور بس انکی مسلمانی ہے وہ نماز پڑھتے تھے سنت کے مطابق داڑھی تھی شریعت کے پابند تھے اس لیے کسی کو مسجد کسی کو مدرسے اور کسی کو سکول سے اٹھا کر لاپتہ کیا گیا،بکچھ ایسے بھی تھے جن پر اپنا رعب جھاڑنے کی خاطر انہیں لاپتہ کیا گیا اور بعض ایسے بھی تھی جن کے پاس مخصوص راز تھے انکو اس لیے غائب کیا گیا تاکہ راز افشاء نہ ہوجائیں ،اب واللہ اعلم وہ غریب لوگ جیل کی اندھیری کوٹھڑیوں میں بند ہیں یا شہید کیے جاچکے ہیں ‘‘
ہم اللہ تعالیٰ سے دعاکرتے ہیں کہ اللہ رب العزت ان لاپتہ افراد کو منظرعام پر لائے اورمجاہدین کے ہاتھوں اللہ ان کو بازیاب کرائے، اور پاکستان میں موجود علمائے کرام ،طلبائے کرام اور اور اساتذہ غرض ہر طبقہ سے تعلق رکھنے والے مسلمانوں کو اپیل کرتے ہیں کہ یہ ہم سب کی ذمہ داری ہے کل بارگاہ خداوندی میں جواب بھی دینا ہے اپنی عاقبت کی فکرکیجئے اپنے آپ پر اور اپنی اولاد پر رحم کرکے اس ظالم اور جابر حکمرانوں اور نام نہاد محافظینوں کے خلاف اپنا کردار اداکریں ورنہ کل آپ بھی لاپتہ ہوسکتے ہیں۔۔۔۔۔

اخوکم فی الاسلام
مکرم خراسانی

#harf_e_haqeeqat
#mukarram_khurasani

About umar

Check Also

18۔کرونا وائرس یا لشکر جبار؟

18۔کرونا وائرس یا لشکر جبار؟ ہر مرض اللہ تعالیٰ کا حکم ہوتا ہے اللہ کے …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے