2۔امریکی ایجنٹ کون؟؟؟

عمر ریڈیو نشریات منگل ۲۶ ذوالحجہ ۱۴۴۰ ھ بمطابق ۲۷ اگست ۲۰۱۹

آج کی نشریات میں …….

کالم حرف حقیقت از مکرم خراسانی عنوان عمران خان کا دورہ امریکہ ………

درس قرآن،سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم میں نماز کے احکامات، سلسلہ اھل الثغور،آپ کے پیغامات و جوابات اور خوبصورت نظمیں ……

اینکرز مولانا یاسر صاحب،فیصل شھزاد صاحب

آرکائیو ڈائریکٹ ڈاونلوڈ لنک
https://archive.org/download/umarardionashryat26zilhajja1440h/umarardionashryat26zilhajja1440h.mp3

پی کلاؤڈ لنک
https://my.pcloud.com/publink/show?code=XZuu8kkZ4sIgU91wzd04IdzPplbR44YksASy

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

2۔امریکی ایجنٹ کون؟؟؟
۲۰ جولائی ۲۰۱۹ ء وزیراعظم پاکستان عمران خان کے دورہ امریکہ کے حوالے سے مختلف افکار سامنے آئے ہیں. سادہ لوح عوام تو حکومت کی طرف سے ہر نئے کام کو ایک اچھے مستقبل کی امید پر اچھا تصور کرتے ہیں ، مگر ان بے چاروں کو یہ نہیں پتہ کہ یہ اجرتی قاتل فوج اور مسلمانوں کے خون پر سٹہ بازی کرنے والے برائے نام حکمران ایک بار پھر ملک کا سودا کرنے اپنے آقاؤں کے پاس پہنچے ہیں ۔ امریکی صدر اور پاکستانی وزیراعظم کی ملاقات وائٹ ہاؤس کے اوول آفس میں ہوئی ۔ ملاقات دو ملکوں کے سربراہان کے درمیان نہیں بلکہ ایک امیر اور مامور کے درمیان تھی، جیسے ایک تشکیل شدہ مامور اپنے امیر کو کارگزاری سنانے گیا ہو۔۔۔
ٹرمپ عمران خان کو بچوں کی طرح ٹریٹ کرتا رہا اور عمران مجرمانہ خاموشی کے ساتھ اس کی ہاں میں ہاں ملاتا رہا۔۔ ٹرمپ نے افغانستان کا ذکر کرتے ہوئے پاکستان کو بھی خاموش دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ افغانستان کو دس دن کے اندر صفحہ ہستی سے مٹا سکتا ہوں. اس بات پر بھی عمران سر ہلاتا ہوا خاموش رہا۔۔۔ چونکہ دورے کا مقصد دہشت گردی کے نام پر خیرات لانا تھا اس لئے پیشہ ور قاتلوں کے سرگروپ باجوہ کو بھی ساتھ لے جایاگیا. دونوں نے ٹرمپ کے آگے خاموشی اختیار کرتے ہوئے یہ ثابت کردیا کہ ان کی حیثیت ان کی نظر میں کیڑے مکوڑوں سے زیادہ اور کچھ نہیں، ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ ہم پاکستان کو سالانہ 1.3 ارب ڈالر کی امداد دیتے رہے اور انہوں نے دہشت گردی کے خلاف کچھ بھی نہیں کیا اور جب ہم نے امداد بند کی تو وہ ہماری تمام باتیں ماننا شروع ہوگئے اور عمران بدستور سرہلاتا رہا۔۔۔ پورا وقت کھری کھری سنانے کے بعد اب لولی پاپ کی ضرورت پڑی توڈومور مطالبے کیلئے راہ ہموار کرنے کی خاطر ٹرمپ نے پاکستان کی وفاداری کو سراہتے ہوئے کہا کہ پاکستان افغانستان کے حوالے سے ہماری بہت معاونت کررہا ہے۔
امریکی صدر ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ انہوں نے پاکستان کی جو امداد بند کی تھی وہ بحال ہو سکتی ہے، انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کی امداد اس لیے بند کی گئی تھی کیوں کہ وہ امریکہ کی مدد نہیں کر رہا تھا. یہ بات عمران خان کی حکومت بننے سے پہلے کی ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ پاکستان ماضی میں امریکہ کا احترام نہیں کرتا تھا لیکن اب ہماری کافی مدد کررہا ہے.
آخر کار عمران بول ہی پڑے اور کہا کہ وزیراعظم کا عہدہ سنبھالنے کے بعد سے میں صدر ٹرمپ سے ملاقات کا خواہشمند تھا، پاکستان کیلئے امریکہ بہت اہمیت رکھتا ہے، روس کے خلاف افغان جنگ میں پاکستان فرنٹ اسٹیٹ تھا۔ ایک طرف روس کو بھی آقا بناکر وزیرستان کے دورے کراتے اور ان کے ساتھ فوجی مشقیں کرتے ہیں اور دوسری طرف امریکہ کو کہتے ہیں کہ روس کے خلاف بھی پاکستان نے آپکا ساتھ دیا ۔۔۔۔
عمران خان نے مزید کہا کہ پاکستان نے نائن الیون کے بعد دہشت گردی کے خلاف جنگ میں امریکہ کا ساتھ دیا۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان نے دہشتگردی کے خلاف جنگ میں 70 ہزار جانوں کی قربانی دی، اور ایک سو ارب ڈالر سے زیادہ کا معاشی نقصان بھی اٹھایا، اور یہ سب تو کچھ بھی نہیں کئی سال گزرنے کے بعد پاکستان نے اس بات کا بھی اعتراف کرلیا کہ اسامہ بن لادن شہید رحمہ اللہ کا ٹیلی فونک لنک بھی پاکستانی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی نے امریکہ کو فراہم کیا تھا، صرف اور صرف خیرات لینے کی خاطر۔۔ عمران خان اور ڈونلڈ ٹرمپ کی واشنگٹن میں ملاقات سے ایک دن قبل وائٹ ہاؤس کے ایک عہدیدار نے اس دورے سے متعلق چند صحافیوں کو ٹیلی فونک بریفنگ دی، جس میں مذکورہ عہدیدار نے اپنا نام ظاہر کیے بغیر کہا کہ پاکستانی وزیراعظم کے دورے میں ان پر افغان امن عمل میں ٹھوس کردار اور ان کی سرزمین پر دہشت گردوں کے خلاف کارروائی پر دباؤ ڈالا جائے گا۔
عہدیدار نے واضح کیا: ’پاکستان کے ساتھ تعلقات کی تجدید کے دروازے کھلے ہیں، اگر پاکستان دہشت گرد جہادی تنظیموں کے حوالے سے اپنی پالیسی تبدیل کرلے۔‘
اس بیک گراؤنڈ بریفنگ میں چار بھارتی صحافیوں سمیت آٹھ صحافیوں کے سوالات شامل تھے۔ حیران کُن طور پر پاکستانی وزیراعظم عمران خان کے دورے سے متعلق دی جانے والی اس بریفنگ میں ایک بھی پاکستانی امریکی صحافی موجود نہیں تھا۔
حافظ سعید کی گرفتاری سے متعلق وائٹ ہاؤس عہدیدار نے کہا کہ ’یہ گرفتاری پہلی بار نہیں ہے۔ 2001 سے لے کر اب تک پاکستان سات بار حافظ سعید کو گرفتار کر چکا ہے لیکن بعد میں چھوڑ دیا جاتا ہے۔‘ انہوں نے کہا کہ ’ہم پاکستان سے ٹھوس کارروائی چاہتے ہیں۔ اس لیے امریکہ تمام حالات کا بغور جائزہ لے رہا ہے۔‘
ڈاکٹر شکیل آفریدی کے متعلق سوال پر وائٹ ہاؤس کے عہدیدار نے جواب دیا کہ ’شکیل آفریدی ہمارے ہیرو ہیں کیونکہ انہوں نے القاعدہ سربراہ اسامہ بن لادن کو پکڑنے میں امریکہ کی مدد کی ہے۔ وہ پاکستانی جیل میں ہیں اور ہم دیکھیں گے کہ شکیل آفریدی کے ساتھ جیل میں کیسا سلوک روا رکھا جا رہا ہے۔‘ انہوں نے کہا کہ ’شکیل آفریدی کے معاملے پر پاکستانی حکام سے بات کیجائے گی۔

کولیشن سپورٹ فنڈ کی بحالی کے حوالے سے امریکی عہدیدار نے کہا کہ ’ابھی تک اس بارے میں فیصلہ نہیں کیا گیا۔
ساتھ ہی وائٹ ہاؤس کے عہدیدار نے واضح کیا کہ ’پاکستان کی جانب سے کیا جانے والا تعاون کافی نہیں ہے، پاکستان مزید تعاون کرے۔‘
وائٹ ہاؤس کے عہدیدار نے میڈیا سے متعلق ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ’پاکستان میں میڈیا پر جو پابندیاں لگائی جا رہی ہیں، امریکہ کو اُس پر تخفظات ہیں۔‘
انہوں نے کہا کہ پاکستانی حکومت سے میڈیا پر لگائی جانے والی پابندیوں پر بھی بات چیت کی جائے گی۔
پوری قوم عمران کے اس دورے کو کامیاب قرار دیتے ہوئے عمران کی کوششوں کو سراہ رہی ہے اور ایسا کیوں نہ ہو کیوں کہ ٹرمپ بیہودہ بیان بازی کرتا رہا، بار بار اسلامی ملک کے سربراہ کی غیرت کو چیک کرتا ہوا ان کے منہ میں دانت ڈھونڈتا رہا مگر انہیں ایسا کچھ نظر نہیں آیا کیوں کہ عمران تو پھر عمران ہے اس کی نظر اپنے ساتھ لے جائے گئے کشکول پر تھی ٹرمپ چاہے کچھ بھی کہے بس انہیں تو کشکول میں کچھ لے کر جانا ہے۔۔۔۔
دونوں سربراہان نے متضاد بیانات داغے شاید دونوں حکمران نشے میں تھے عمران خان ایک طرف امریکی صدر کو یہ باور کرانا چاہتے تھے کہ اسامہ بن لادن کو شہید کرنے میں آئی ایس آئی نے امریکہ کا ساتھ دیا تو دوسری طرف وائٹ ہاؤس کے عہدیدار کا کہنا ہے کہ شکیل آفریدی ہمارے ہیرو ہیں ہم ان کا حال لیں گے، ٹرمپ نے بھی شروع شروع میں متکبرانہ اندازاپناتے ہوئے کہا کہ دس دن کے اندر اندر افغانستان کو صفحہ ہستی سے مٹا سکتاہوں، کچھ ہی دیر بعد عمران خان سے کہتاہے کہ
امریکہ پاکستان کے ساتھ مل کر افغان جنگ سے باہر نکلنے کی راہ تلاش کررہا ہے
پاکستان کے وزیراعظم ، وزیرخارجہ اور فوجی جرنیل میں کسی نے یہ پوچھنے کی جرأت نہیں کی کہ کیا امریکہ پندرہ بیس سال سے افغانستان میں ٹوورزم کو فروغ دینے آیا تھا ؟ جو اب وہ اس کو دس دن میں ختم کرسکتا ہے؟ یہ جملہ شاید افغانستان پر حملے سے پہلے سابق صدر جارج ڈبلیو بش نے بھی کہاتھا اور اب ٹرمپ نے شاید پاکستان کیلئے یہ جملہ کہاہو کیوں کہ امریکہ جانتا ہے کہ امریکہ کو نکلنے پر مجبور کرنے میں سب سے بڑا ہاتھ پاکستان کا ہے اور اب پاکستان ہی امریکہ کو افغانستان سے نکال سکتا ہے ۔۔ ایک ویڈیو رپورٹ کے مطابق امریکہ اگر اپنا سامان نکالنا چاہے تو اس پر چھ ارب ڈالر کا خرچہ آئے گا اور اس سامان کا ساٹھ فیصد حصہ پاکستان کے راستے نکالا جائے گا ۔۔
امریکی مفادات کی خاطر امریکہ سے سالانہ ایک اعشاریہ تین ارب ڈالر لے کر اپنی ہی قوم پر بمباری کرنے والے، ان کو لاپتہ کرنے والے ، ستر ہزار جانوں کی قربانی اور ایک سو سے زیادہ ارب ڈالر کا نقصان اٹھانے والے محب وطن ہیں اور اپنے دفاع اور اعلائے کلمۃ اللہ کی خاطر بندوق اٹھانے والے اور امریکی ڈرون حملوں کا شکار ہونے والے طالبان امریکی ایجنٹ اور ملک دشمن ہیں؟؟؟

#Mukarram_Khurasani
@harfehaqeeqat

About umar

Check Also

20۔سیکولرزم کا پرچار

20۔سیکولرزم کا پرچار پاکستان میں آج کل سیکولرزم عروج پر ہے اور یہ نظریہ عصری …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے