طاغوت کے ضمن میں ’’دارالحرب ‘‘اور ’’دار الاسلام‘‘کی تعریف

مکتبۃ عمر کی جانب سے پیش خدمت ہے

اعلائے کلمۃ اللہ کی خاطر جان کی بازی لگانے والے ابطال کے قلم سے لکھے گئے تلخ وشیریں، سنہرے الفاظ سے بھرپور مضامین کا سلسلہ بعنوان نورِھدایت

 

مضمون نمبر 31

 

طاغوت کے ضمن میں ’’دارالحرب ‘‘اور ’’دار الاسلام‘‘کی تعریف

 

آرکائیو ڈاونلوڈ لنک

https://archive.org/download/20200512_20200512_1049/%D8%AF%D8%A7%D8%B1%D8%A7%D9%84%D8%AD%D8%B1%D8%A8%20%D8%A7%D9%88%D8%B1%20%D8%AF%D8%A7%D8%B1%D8%A7%D9%84%D8%A7%D8%B3%D9%84%D8%A7%D9%85.pdf

 

پی ڈی ایف پی ڈاونلوڈ لنک

http://www.mediafire.com/file/16n9gf30ae3jf07/%25D8%25AF%25D8%25A7%25D8%25B1%25D8%25A7%25D9%2584%25D8%25AD%25D8%25B1%25D8%25A8_%25D8%25A7%25D9%2588%25D8%25B1_%25D8%25AF%25D8%25A7%25D8%25B1%25D8%25A7%25D9%2584%25D8%25A7%25D8%25B3%25D9%2584%25D8%25A7%25D9%2585.pdf/file

 

ون رار فائل لنک(جس میں پی ڈی ایف اور ورڈ دونوں فائلز موجود ہیں)

http://www.mediafire.com/file/x0j0itttrl560mn/%25D8%25AF%25D8%25A7%25D8%25B1%25D8%25A7%25D9%2584%25D8%25AD%25D8%25B1%25D8%25A8_%25D8%25A7%25D9%2588%25D8%25B1_%25D8%25AF%25D8%25A7%25D8%25B1%25D8%25A7%25D9%2584%25D8%25A7%25D8%25B3%25D9%2584%25D8%25A7%25D9%258532.rar/file

 

@umarmedia

 

https://t.me/nashir_umedia_bot

https://umarmediattp.co

 

#TTP

#Umar_Media

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

طاغوت کے ضمن میں ’’دارالحرب ‘‘اور ’’دار الاسلام‘‘کی تعریف:

ایک چیز جس کا یہاں تذکرہ ضروری ہے ،وہ یہ کہ دارالاسلام اور دارالحرب کی تعریف سلف نے کیا کی ہے ؟’’دارالحرب‘‘کی تعریف کرتے ہوئے علامہ ابن عابدین شامی ﷫اپنی شہرہ آفاق کتاب ’’رد المختار ‘‘ میں لکھتے ہیں :

((لا تصیردار الاسلام دارالحرب الا بأمور ثلاثة باجراء احکام ا ھل الشرک وبا تصالھابدارالحرب، وبان لایبقی فیھا مسلم او ذمی امنا بالامان الاول علی نفسہ ))         فتاویٰ شامی ،ص۱۷۴،ج۴۔

’’دارالاسلام دارالحرب میں تبدیل نہیں ہوتا مگر تین چیزوں کے پائے جانے :

(۱)اہل شرک کے احکام جاری ہونے سے اور

(۲) اس شہر کا دارالحرب سے متصل ہونے سے اور

(۳)یہ کہ وہاں کوئی مسلمان یا ذمی اپنی ذات اور دین کے اعتبار سے امن اول سے مامو ن رہے۔‘‘

اہل شرک سے اہل کفر مراد ہے یعنی اہل کفر کے احکام علی الاعلان بلادغدغہ جاری ہوں ، احکام اسلام وہاں جاری نہ ہوں اور دارالحرب سے متصل ہونے سے مراد یہ ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان کوئی اسلامی ملک واقع نہ ہو اور امن اول سے مراد یہ ہے کہ مسلمانوں کو اسلام کے سبب اور ذمی کو عہدِذمہ کی سبب کفار کے غلبے سے پہلے جو امن تھا وہ امن کفار کے غلبہ کے بعد مسلمان اور ذمی دونوں کے لئے باقی نہ رہے۔امام ابوحنیفہ ﷫کے نزدیک کوئی دارالاسلام یا اس کا کوئی شہر اس وقت تک دارالحرب نہیں بنے گا جب تک بیک وقت مذکورہ تین چیزیں (یعنیu:اہل شرک کے احکام کا اجراءv:دارالحرب سے اس کا اتصالw:امن اسلام کا خاتمہ)نہ پائی جائیں۔لیکن امام ابو یوسف ﷫اور امام محمد﷫کے نزدیک مذکورہ امور میں سے صرف ایک ہی امر سے دارالحرب بن جاتا ہے یعنی دارالاسلام میں صرف احکام کفر جاری ہونے سے دارالحرب ہوجاتا ہے اور یہی قول قرین قیاس ہے۔

دار الحرب ،’’دارالاسلام ‘‘میں کیسے تبدیل ہوتا ہے؟ اس کے لئے شرط یہ ہے کہ دارالحرب یا اس کا کوئی حصہ مسلمانوں کے قبضہ میں آنے کے بعد اس میں اسلامی احکام بھی جاری اور نافذ ہوں جیساکہ در مختار میں ہے۔

دراء الحرب تصیر دارالاسلام باجراء احکام اھل الاسلام فیھافتاویٰ شامی ۔ص۱۷۵،ج۴۔

’’اور دارالحر ب میں اہل ِ اسلا م کے احکامات جاری ہونے سے دارالاسلام میں تبدیل ہو جاتا ہے ۔‘‘

امام علاء الدین ابوبکر بن مسعود کاسانی متو فی ﷫۵۸۷ھ ،اپنی شہرہ آفاق تصنیف ’’بدائع الصنائع‘‘میں رقمطراز ہیں:

’’لاخلاف بین اصحابنافی ان دارالکفر تصیر دارالاسلام لظھوراحکام الاسلام فیھا‘‘بدائع الصنائع ۔ص۱۳۰،ج۷۔

’’ہمارے علماء میں اس بات کا کسی میں اختلاف نہیں ہے کہ دارالکفر، دارلاسلام میں تبدیل ہوتا ہے اس میں اسلامی احکام ظاہر ہونے سے۔‘‘

’’صارت الدار دار الاسلام بظھور احکام الاسلام فیھا من غیر شریطةاخری‘‘ بدائع الصنائع۔ص۱۳۱،ج۷۔

’’دارالکفر دارالاسلام میں تبدیل ہوتا ہے اس میں اسلامی احکام جاری ہونے سے دوسری کسی شرط کے بغیر۔‘‘

امام سرخسی ﷫نے لکھا ہے:

’’ وبمجردالفتح قبل اجراء احکام الاسلام لاتصیر دارلاسلام‘‘مبسوط سرخسی ،ص۳۲،ج۱۰۔

’’ صرف فتح کے بعد احکامِ اسلام کے اجرا ء کے بغیر دارالحرب، دارلاسلام میں تبدیل نہیں ہوتا۔‘‘

اس سے معلوم ہوا ’’دارالحرب‘‘یا ’’دارالکفر‘‘میں مسلمانوں کے غلبے اور تسلط قائم ہونے کے بعد جب تک اس میں اسلامی احکام جاری نہیں کئے جاتے تب تک اس کو ’’دارالاسلام‘‘نہیں کہا جائے گا۔

نام نہاد مفکرین سے سوال:

جب آج کے نام نہاد مفکرین سے پوچھا جاتا ہے کہ سلف وصالحین کے نزدیک بالاتفاق یہ طے ہے کہ کوئی بھی خطہ زمین اس وقت ہی’’دارالاسلام‘‘قرارپاتا ہے جب اس پر حکومت کرنے والا بھی مسلمان ہواور احکام و قوانین بھی مکمل طور پر شریعت کے نافذ ہوں۔تو موجودہ حالات میں مسلمان ممالک کی شرعی حیثیت کیا ہوگی؟تو فوراً بغلیں جھاکنے لگتے ہیں اور جھنجلاکر کہتے ہیں کہ’’دارالاسلام ‘‘اور ’’دار الحرب ‘‘کی اصطلاحیں’’کونسی آسمان سے نازل شدہ ہیں ‘‘جن کو قبو ل کیاجائے اور ان اصطلاحات کا شریعت سے کوئی تعلق نہیں۔

ہائے افسوس!ان کی عقلوں پر اور ان کی نئی نئی ریسرچ پر۔اگر اس طرح فقہاء اور سلف کی شریعت اسلامی کے لئے متعین کردہمتفقہ ’’اصطلاحات‘‘ کو رد کردیا جائے تو پھر دین وشریعت کا ’’اللہ ہی حافظ‘‘،کہ کل کوکوئی اٹھ کر یہ کہے گا کہ فرضِ عین و فرضِ کفایہ،مکروہِ تحریمی ومکروہِ تنزیہی ،سنت مؤکدہ و سنت غیر مؤکدہ ،مستحب و مباح کی اصطلاحات کونسی ’’وحی ‘‘کے الفاظ ہیں کہ جو ان کو قبول کیاجائے۔جان لیجئے یہ بات تو سوائے انحراف اورفرار کے سوا کچھ نہیں۔

بہرحال !سلف وصالحین اور مفسرین کے درجِ بالا اقوال سے یہ بات متفقہ طورپر واضح ہوجاتی ہے کہ ’’طاغوت ‘‘سے مرادہر وہ شخص یا ادارہ بھی ہے جوالحکم بغیر ما انزل اللّٰہ یعنی اللہ کے نازل کردہ شریعت کو چھوڑ کر اپنے وضع کردہ یا کسی اور کے بنائے ہوئے قوانین کونافذ کرے اور اسی کے مطابق لو گوں کے درمیان فیصلے کرے ۔

 

About umar

Check Also

مضمون نمبر 42 کرونا وائرس اللہ کے عذابوں میں سے ایک عذاب ہے از شیخ گل محمد حفظہ اللہ رکن اجرائی شوری تحریک طالبان پاکستان

مکتبۃ عمر کی جانب سے پیش خدمت ہے اعلائے کلمۃ اللہ کی خاطر جان کی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے