مضمون نمبر 31 طاغوت

مکتبۃ عمر کی جانب سے پیش خدمت ہے

اعلائے کلمۃ اللہ کی خاطر جان کی بازی لگانے والے ابطال کے قلم سے لکھے گئے تلخ وشیریں، سنہرے الفاظ سے بھرپور مضامین کا سلسلہ بعنوان نورِھدایت

 

مضمون نمبر 31

 

طاغوت

 

آرکائیو ڈاونلوڈ لنک

https://archive.org/download/20200508_20200508_0555/%D8%B7%D8%A7%D8%BA%D9%88%D8%AA.pdf

 

پی ڈی ایف پی ڈاونلوڈ لنک

http://www.mediafire.com/file/1fuq74912csiel3/%25D8%25B7%25D8%25A7%25D8%25BA%25D9%2588%25D8%25AA.pdf/file

 

ون رار فائل لنک(جس میں پی ڈی ایف اور ورڈ دونوں فائلز موجود ہیں)

http://www.mediafire.com/file/lk2r2edosoflrmo/%25D8%25B7%25D8%25A7%25D8%25BA%25D9%2588%25D8%25AA31.rar/file

 

@umarmedia

 

https://t.me/nashir_umedia_bot

https://umarmediattp.co

 

#TTP

#Umar_Media

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

      طاغوت:

اس سے پہلے کہ ہم لفظ’’طاغوت ‘‘کی کچھ وضاحت کریں،یہ واضح کردیں کہ طاغوت کے حوالے سے مسلمانوں کے پہلے طبقے کو اس معاملے کے حوالے سے کسی بحث کی حاجت ہی نہیں جبکہ مسلمانوں کے دوسرے طبقہ جوکہ دین کے بنیادی علم ہی سے نا آشناء ہوتا ہے، لہٰذا وہ کیا جانے ’’طاغوت ‘‘کس شے کا نام ہے،مگر جیسا کہ ’’جہاد فی سبیل اللہ ‘‘کے باب میں یہ وضاحت کی گئی تھی کہ الحکم بغیر ماانزل اللّٰہ’’یعنی اللہ کی نازل کردہ شریعت کے برخلاف دوسرے کفریہ قوانین کے ساتھ حکومت کرنا‘‘اوراہل ایمان سے دشمنی اوریہود و نصاری ٰ سے دوستی اور وفاداری نبھانے والے طاغوتی اور کافر و مرتد حکمرانوں پر ’’ظالم مسلمان خلیفہ ‘‘ کے احکامات لاگو کرنے والے یہ’’آئمة المضلّین‘‘دراصل مسلمانوں کے اس تیسرے طبقے کو ’’جہاد فی سبیل اللہ ‘‘کے فریضے سے ہی دور رکھنے کی خدمت انجام دیتا ہے۔چنانچہ اس حوالے سے یہ گروہ جو اصل فریب کاری اور عیاری کرتا ہے وہ یہ کہ اصول فقہ کے معروف قاعدے ((یتغیر الفتوی بتغیر الزمان))’’یعنی زمانے کے احوال کے بدل جانے سے فتاویٰ بد ل جاتے ہیں ‘‘کے برعکس وہ احادیث اور فتاویٰ جوکہ مسلمانوں کے اُن حکمرانوں کے بارے میںہیں جوکہ ظالم وجابر ہوں اوران کا نظامِ حکومت صحیح نہ چلارہے ہوں مگر اُن سے ابھی وہ ’’کفر بواح ‘‘ظاہر نہ ہواہوجس سے کفر و ارتداد لازم آتا ہے ،ان کو آج کےطاغوتی اور کافر ومرتد حکمرانوں پرلاگوکرتے ہیں اور وہ صریح احادیث مبارکہ اور سلف و صالحین کے فتاویٰ جو کہ ان حکمرانوں کے بارے میں ہیں جن سے وہ اقوال و افعال کفر ظاہر ہوجائیں جن کے بعد نہ صرف وہ کافر و مرتد قرار پاتے ہیں بلکہ جن کو حکمرانی سے ہٹانا مسلمانوں پر واجب اور ان کے خلاف ’’خروج‘‘فرضِ عین ہوجاتا ہے ،اس کو وہ اپنی تحریر وتقریر،مقالات وتحقیقات سے یکسر گو ل کرجاتے ہیں۔العیاذ باللہ

طاغوت سے مراد:

لہٰذا اس بات کی بھی اشد ضرورت ہے کہ ایک مسلمان ’’طاغوت‘‘ کی قرآنی اصطلاح کو بھی سمجھے ،جس سے انکار اور برأت کرنے کا حکم خود اللہ رب العزت نے دیاہے:

فَمَنْْ یَّکْفُرْْ بِالطَّاغُوتِ وَیُؤْْمِنْْ بِاﷲِ فَقَدِ اسْتَمسَکَ بِالْعُرْوَة الْوُثْقٰی لَا انْفِصَامَ لَھَاالبقرة : ۲۵۶۔

’’جس نے طاغوت کاکفر کیا اور اﷲپر ایمان لے آیا تو اس نے مضبوط سہارا تھا م لیا جو کبھی ٹوٹنے والا نہیں۔ ‘‘

اور اسی حکم قرآنی کے بارے میں امام ابن قیم﷫ فرماتے ہیں:

’’وھذاھو معنیٰ لاالہ الااللّٰہ‘‘الاصول الثلا ثة:ص۵۵، للشیخ محمد بن سلمان التمیمی ﷫۔

’’اور یہی معنی ہے لا الہ الا اللہ کے‘‘

شیخ الاسلام محمد بن عبد الوہاب ﷫فرما تے ہیں:

’’وافترض اللّٰہ علی جمیع العباد ،الکفر باالطاغوت والایمان باللّٰہ‘‘الاصول الثلاثة وادلتھا:ص۵۱، للشیخ محمد بن سلمان التمیمی ﷫۔

’’فرض قرار دیاہے اللہ تعالیٰ نے تمام بندوں پر یہ کہ وہ طاغوت کا کفر کریں اور اللہ پر ایمان لائیں‘‘۔

چنانچہ اب ہم مختصر طور پر یہ بھی سمجھ لیتے ہیں کہ سلف صالحین اور فقہاء کرام نے اس لفظ’’طاغوت‘‘سے کیا سمجھا ہے اور کس پر انہوں نے اس لفظ کا اطلاق کیا؟امام ابن القیم ﷫نے فرمایا:

’’طاغوت ہر اس معبود یا پیشوا یا واجب اطاعت کو کہتے ہیں جس کے ذریعے بندہ اپنی حد سے تجاوز کرجائے۔ لہٰذا ہر قوم کا ’’طاغوت‘‘وہ ہوا جس کے پاس وہ اللہ اور اس کے رسول کے سوا فیصلے کے لیے جاتے ہیں، یا اللہ کے سوا اس کی عبادت کرتے ہیں، یا اللہ کی جانب سے بلا بصیرت اس کی ابتاع کرتے ہیں، یا اس کی اس بات میں اطاعت کرتے ہیں جس کے متعلق وہ نہیں جانتے کہ وہ اللہ کی اطاعت ہے‘‘۔اعلام الموقعین عن رب العالمین : ۱/۵۰۔

شیخ الاسلام محمد بن عبد الوہاب﷫ فرما تے ہیں:

’’ہر وہ شخص جس کی اﷲکے علاوہ عبادت کی جاتی ہو،اوروہ اپنی اس عبادت پر راضی ہو ،چاہے وہ معبود بن کے ہو ،پیشوا بن کے ،یا اﷲاور اس کے رسول کی اطاعت سے بے نیاز ،واجب اطاعت بن کے ہو ، وہ ’’طاغوت‘‘ہوتا ہے ‘‘الجامع الفرید:۲۶۵۔

سلیمان بن عبداﷲ﷫کہتے ہیں:

’’مجاہد﷫ کا قول ہے کہ’’طاغوت‘‘انسان کی صورت میں شیطان ہوتا ہے جس کے پاس لوگ تنازعات کے فیصلے لیجاتے ہیں ۔‘‘تیسیر العزیز الحمید:۴۹۔

شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ ﷫فرماتے ہیں:

’’اسی لئے ہر حاکم جو کتاب اللہ کے بغیر فیصلہ کرتا ہو اسے طاغوت کہا گیا ہے ‘‘۔مجموع الفتاویٰ:۱۲۸/۲۰۔

طاغوت کے سرغنے:

اما م ابن قیم ﷫فرماتے ہیں:

’’والطواغیت کثیرون،ورؤسھم خمسة:ابلیس لعنہ اللّٰہ،ومن عبد وھو راض، ومن دعاالناس الی عبادة نفسہ ومن ادعی شیئاً من علم الغیب،ومن حکم بغیر ما انزل اللّٰہ‘‘الاصول الثلاثة وادلتھا:ص۵۱، للشیخ محمد بن سلمان التمیمی ﷫۔

 

’’طاغوت تو بے شمار ہیں مگر ان کے چوٹی کے سردار پانچ ہیں:

j   ابلیس لعین۔

k   ایسا شخص جس کی عبادت کی جائے اور وہ اس فعل پر رضامند ہو۔

l   جو شخص لوگوں کو اپنی عبادت کرنے کی دعوت دیتا ہواگرچہ اس کی عبادت نہ بھی ہوتی ہو۔

m     جو شخص علم غیب جاننے کا دعویٰ کرتا ہو۔

n   جو شخص اﷲکی نازل کی ہوئی شریعت کے خلاف فیصلہ کرے ‘‘۔

مفتی اعظم پاکستان مفتی محمد شفیع ﷫سورۃ النساء کی آیت۶۰ کی تفسیر میں ایک منا فق کا رسول کریم ﷺ کی طرف سے کئے گئے فیصلہ کو تسلیم نہ کرتے ہوئے یہودی سردار کعب بن اشرف کی طرف رجوع کرنے پر حضرت عمرفاروق ﷛ کا اس کی گردن اتارنے کا واقعہ ’’روح المعانی‘‘میں حضرت عبد اللہ بن عباس ﷛سے منقول روایت نقل کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

’’لفظ طاغوت کے لغوی معنی سرکشی کرنے والے کے ہیں اور عرف میں شیطان کو طاغوت کہا جاتا ہے۔اس آیت میں کعب بن اشرف کی طرف مقدمہ لے جانے کو ،شیطان کی طرف لے جانا قرار دیا ہے ، یا تو اس وجہ سے کہ کعب بن اشرف خود ایک شیطان تھا ، اور یا اس وجہ سے کہ شرعی فیصلہ چھوڑ کر خلافِ شرع فیصلہ کی طرف رجوع کرنا شیطا ن ہی کی تعلیم ہوسکتی ہے ،ا س کی اتباع کرنے والا گویا شیطان ہی کے پاس اپنا مقدمہ لے گیا ہے‘‘۔معا رف القرآن، جلد دوم،ص۴۵۷،۴۵۸

ابوالاعلیٰ مودودی﷫اسی آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں :

’’یہاں صریح طور پر ’’طاغوت ‘‘سے مراد وہ حکام ہیں جو قانونِ الٰہی کے سوا کسی دوسرے قانون کے مطابق فیصلہ کرتے ہیں اور وہ نظام عدالت ہے جو نہ اﷲکے اقتدار اعلیٰ کا مطیع ہو اور نہ کتاب اﷲکو آخری سند مانتاہو ‘‘۔تفھیم القرآن :ص:۳۶۷۔

علامہ شیخ سلیمان بن عبداللہ﷫ اپنی کتاب میں اس آیت کی تفسیر کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

’’ اس آیت میں دلیل ہے اس بات کی کہ طاغوت یعنی کتاب و سنت کے علاوہ دوسروں کے فیصلوں کو چھوڑنا فرائض میں سے ہے اور جو کتاب و سنت کے علاوہ کسی اور طرف فیصلے لیجاتا ہے وہ مومن نہیں بلکہ مسلمان تک نہیں ہے ۔‘‘تیسیر العزیز الحمید ص:۴۹۱۔

شیخ الاسلام محمد بن عبدالوہاب ﷫فرماتے ہیں:

’’پس جو شخص اﷲتعالیٰ اور رسول اﷲﷺکی مخالفت اس طرح کرتا ہے کہ وہ کتاب وسنت کے علاوہ کسی اور جگہ سے فیصلہ کراتا ہے یا اپنی خواہشات کی تکمیل میں مگن ہے تو گویا اس نے عملاً ایمان اور اسلام کی رسی کو گردن سے اتار پھینکا ۔اس کے بعد خواہ وہ کتنا ہی ایمان کا دعویٰ کرے بے کار ہے ،کیونکہ اﷲتعالیٰ نے ایسے لوگوں کو جھوٹا قرار دیا ہے ۔حقیقت یہ ہے کہ ’’طاغوت کا انکار کرنا ‘‘تو حید کا سب سے بڑا رکن ہے۔ جب تک کسی شخص میں یہ رُکن نہ ہوگا وہ موحد نہیں کہلاسکتا ‘‘ ھدایة المستفید:۱۲۲۳۔

 

About umar

Check Also

مضمون نمبر 42 کرونا وائرس اللہ کے عذابوں میں سے ایک عذاب ہے از شیخ گل محمد حفظہ اللہ رکن اجرائی شوری تحریک طالبان پاکستان

مکتبۃ عمر کی جانب سے پیش خدمت ہے اعلائے کلمۃ اللہ کی خاطر جان کی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے