مضمون نمبر 28 آئمۃ المضلین کی گمراہیاں

مکتبۃ عمر کی جانب سے پیش خدمت ہے
اعلائے کلمۃ اللہ کی خاطر جان کی بازی لگانے والے ابطال کے قلم سے لکھے گئے تلخ وشیریں، سنہرے الفاظ سے بھرپور مضامین کا سلسلہ بعنوان نورِھدایت

مضمون نمبر 28

آئمۃ المضلین کی گمراہیاں

آرکائیو ڈاونلوڈ لنک
https://archive.org/download/1_20200417_20200417_1156/%D8%A7%D9%93%D8%A6%D9%85%DB%83%20%D8%A7%D9%84%D9%85%D8%B6%D9%84%DB%8C%D9%86%20%DA%A9%DB%8C%20%DA%AF%D9%85%D8%B1%D8%A7%DB%81%DB%8C%D8%A7%DA%BA.pdf

پی ڈی ایف پی ڈاونلوڈ لنک
http://www.mediafire.com/file/n5y84oez32lyd9v/%25D8%25A7%25D9%2593%25D8%25A6%25D9%2585%25DB%2583_%25D8%25A7%25D9%2584%25D9%2585%25D8%25B6%25D9%2584%25DB%258C%25D9%2586_%25DA%25A9%25DB%258C_%25DA%25AF%25D9%2585%25D8%25B1%25D8%25A7%25DB%2581%25DB%258C%25D8%25A7%25DA%25BA.pdf/file

ون رار فائل لنک(جس میں پی ڈٰی ایف اور ورڈ دونوں فائلز موجود ہیں)
http://www.mediafire.com/file/dm3amlshqaiti54/%25D8%25A7%25D8%25A6%25D9%2585%25DB%2583_%25D8%25A7%25D9%2584%25D9%2585%25D8%25B6%25D9%2584%25DB%258C%25D9%2586_%25DA%25A9%25DB%258C_%25DA%25AF%25D9%2585%25D8%25B1%25D8%25A7%25DB%2581%25DB%258C%25D8%25A7%25DA%25BA28.rar/file

@umarmedia

https://t.me/nashir_umedia_bot
https://umarmediattp.co

#TTP
#Umar_Media

………………………………………….

آئمۃ المضلّین کی گمراہیاں اور سلف کا منہج

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
((وَاِنَّ مِمَّا اَتَخَوَّفُ عَلٰی اُمَّتِیْ اَئِمَّة مُضِلِّیْنَ))رواہ ابن ماجہ ،کتاب الفتن
’’مجھے سب سے زیادہ خوف اپنی امت کے بارے میں گمراہ کرنے والے قائدین سے ہے‘‘۔
’’حضرت ابو ذر غفاری نے فرمایا کہ میں رسول اللہﷺکے ساتھ جارہا تھا کہ آپ ﷺنے فرمایا :’’اپنی امت کے اوپر دجال کے علاوہ ایک اور چیز سے ڈرتا ہوں ۔آپﷺ نے یہ بات تین دفعہ دہرائی ۔میں نے پوچھا کہ یا رسول اللہ!دجال کے علاوہ وہ کون سی چیز ہے جس کے تعلق سے اپنی امت کے بارے میں آپ ڈرتے ہیں ۔آپ ﷺ نے فرمایا: ’’آئمة المضلّین‘‘گمراہ کرنے والے قائدین۔
‘‘مسند احمد جلد:۵،صفحہ ۱۴۴

’’میں اپنی امت کے بارے میں جس چیز سے سب سے زیادہ ڈرتا ہوں وہ گمراہ کرنے والے قائدین ہیں ‘‘۔ابی داؤد
((أَیُّ شَیْئٍ اَخْوَفُ عَلیٰ اُمَّتِکَ مِنَ الدَّجَّالِ؟قَالَ:الَأَ ئِمَّة الْمُضلِّیْنَ))مسند احمدج:۵ص:۱۴۵۔
’’(کسی نے پوچھا )دجال سے بھی زیادہ آپ کواپنی امت پرکس چیز کا ڈر ہے؟آپ ﷺنے فرمایا گمراہ کرنے والے اماموں کا‘‘۔

شیخ ابو قتادہ الفلسطینی﷾ فرماتے ہیں:
’’اس حدیث میں رسول اللہ ﷺ کا ارشاد اس بات کو واجب کرتا ہے کہ’’آئمة المضلّین‘‘ کو ظاہر کیا جائے جیسے کہ خود رسول اللہ ﷺنے دجال کے معاملے کو واضح کیا اس کے تمام فتنو ں کے ساتھ،جبکہ دجال دنیا میں واقع ہونے والا سب سے بڑا فتنہ ہے جیسے کہ بعض احادیث میں آیا ہے۔تو یہ حدیث ظاہر کرتی ہے کہ’’آئمة المضلّین‘‘اس دجال سے بھی زیادہ بُرے اور امت کے لئے فساد کا باعث ہیں ‘‘۔
رسول اللہ ﷺکے ان ارشادات اور اس کے علاوہ اس موضوع سے متعلق دیگر احادیث کا مطلب یہ ہے کہ دجال کی آمد سے قبل ایک زمانہ ایسا آئے گاکہ ایسے گمراہ کرنے والے قائدین ،دانشور اور نام نہاد محققین پیدا ء ہوں گے کہ ان کی فتنہ پراندازی اور شرانگیزی دجال کے فتنہ سے بھی زیادہ مہلک ثابت ہوگی ،لہٰذا رسول اللہ ﷺ نے اپنی امت کو اس خطرناک فتنے سے خبردار کیا ہے۔

’’آئمة المضلّین‘‘سے مراد:
یہاں یہ امر واضح رہے اور عامۃ الناس بھی اس بات کو اچھی طرح ذہن نشین کرلیں کہ یہ’’آئمة المضلّین‘‘’’گمراہ کرنے والے آئمہ‘‘سے صرف وہ رہنما ،قائدین اور دانشور مراد نہیں جوکہ کھلم کھلا اور واضح طور پر اسلام سے بیزار ہوں اور اسلام کے احکام و قوانین سے اور اس کے نفاذ سے شدید بغض و عناد رکھتے ہوں ،کیونکہ ایسے لوگوں کی اسلام دشمنی عوام الناس پر واضح ہوتی ہے اور ان سے بہت کم ہی لوگ گمراہی کی طرف جاتے ہیں،بلکہ ان سے مراد وہ رہنما ،قائدین ،دانشور ،اسکالر ،محققین اور وارثین انبیاء کے دعوے دار وہ علماء سوء ہیں جو بظاہر تو اپنا ناطہ و رشتہ قرآن وحدیث سے جوڑنے کے دعوے دار ہوتے ہیں ،اس کے ساتھ عقل ودانش ،فصاحت وبلاغت اور خطیبانہ انداز میں اپنا کوئی ثانی نہیں رکھتے، مگر شریعت اسلامی کے وہ احکام و قوانین جن پر امت کے عروج وزوال بلکہ موت و زندگی کا سوال ہے اور جن کے بارے میں قرآن و حدیث کے نصوص بالکل واضح و مبین ہیں اورجن میں کسی کلام یا رائے کی گنجائش نہیں۔اُن کو بھی :
خود بدلتے نہیں قرآں کو بدل دیتے ہیں
کس قدر بے توفیق ہوئے فقیہانِ حرم
کے مصداق علمائے یہودکی طرح :
یُحَرِّفُوْنَ الْکَلِمَ عَنْ مَّوَاضِعِہٖ المائدة:۱۳۔
’’وہ کلمات(شریعت)کو اپنے مقامات سے پھیر دیتے ہیں ‘‘۔
اور ان تمام افعال سے ان کا مقصود ومطلوب صر ف یہ ہوتا ہے کہ وہ دنیا کی تمام مادّی و مالی فوائد سے مستفیذہوسکیں،اور اپنی جاہ ومسند کو بچانے کی خاطراُن حکمرانوں کے مسلمان ہونے اور ان کی حکمرانی کے جائز ہونے کے جھوٹے اور گمراہ کن دلائل ڈھونڈیں
جواللہ کی نازل کردہ شریعت کے خلاف اپنا حکم نافذ کررہے ہوں اور جن کی اسلام و مسلمان دشمنی اوریہود ونصاریٰ سے دوستی کسی سے پوشیدہ نہ ہو ۔اس کے باوجودوہ اسلام اور مسلمانوں کے سب سے بڑے ہمدرد اور غم خوارکے طور پر اپنی عظیم الشان مسندوں اور عہدوں قائم رہیں۔ایسے’’آئمة المضلّین‘‘کے بارے میں رسول اللہ ﷺ نے امت کو پہلے ہی خبردار کردیا تھا ۔امام ابن ماجہ ﷫ثقہ راویوں کی وساطت سے حضرت عبد اللہ بن عباس سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریمﷺ نے فرمایا :
’’میری امت میں سے کچھ لوگ دین میں تفقہ (سمجھ بوجھ)حاصل کریں گے ، قرآن پڑھیں گے اور کہیں گے ہم امراء(حکام )کے ہاں جاتے ہیں تاکہ ان کی دنیا میں سے بھی کچھ لے لیں اور اپنے دین کو بھی بچا رکھیں ، حالانکہ یہ کسی طرح بھی ممکن نہیں،جس طرح ببول کے درخت سے کانٹوں کے سوا کچھ نہیں ملتا ، اسی طرح ان امراء کی قربت سے بھی خطاؤں کے سوا کچھ ہاتھ نہیں آتا‘‘۔ابن ماجہ عن عبد اللّٰہ بن عباسؓ

امام ابن عساکر ﷫نے حضرت ابن عباس سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا :
’’میرے بعد میری امت میں ایک ایسا گروہ پیدا ہوگا جو قرآن پڑھے گا اور دین میں تفقہ حاصل کرے گا ۔ شیطان ان کے پاس آئے گا اور ان سے کہے گا کہ کیسا ہو اگر تم لو گ حاکم کے پاس جاؤ؟ وہ تمہاری دنیا کا بھی کچھ بھلا کردے گا اور تم لوگ اپنےدین کو اس سے بچائے رکھنا !جبکہ ایسا ہونہیں سکتا،کیونکہ جس طرح ببول کے درخت سے کانٹوں کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوتا ، اسی طرح ان کی قربت سے خطاؤں کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوتا ‘‘۔

امام دیلمی ﷫نے حضرت ابودرداء سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا:
’’ جو شخص ظالم حکمران کے پاس خود اپنی مرضی سے گیا،اس کی خوشامد کرنے کے لیے، اس سے ملاقات کی اور اسے سلام کیا تو وہ اس راہ میں اٹھائے گئے قدموں کے برابر جہنم میں گھستا چلاجائے گا ، یہاں تک کہ وہ وہاں سے اٹھ کر اپنے گھر لوٹ آئے،اور اگر وہ شخص حکمران کی خواہشات کی طرف مائل ہوا یا اس کا دستِ بازو بنا تو جیسی لعنت اللہ کی طرف سے اس (حاکم )پر پڑے گی ویسی ہی لعنت اس پر بھی پڑے گی ،اور جیساعذاب دوزخ اُسے ملے گا ویسا ہی اِسے بھی ملے گا‘‘۔
امام حاکم ﷫نے اپنی کتاب تاریخ میں اور امام دیلمی﷫نے حضرت معاذ بن جبل سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہﷺنے فرمایا :
’’جو عالم بھی صاحب اقتدار کے پاس اپنی مرضی سے گیا(اور اس کی ظلم میں معاونت کی)تو وہ اسے جہنم میں دیئے جانے والے ہر قسم کے عذاب میں شریک ہوگا‘‘۔

امام حسن بن سفیان ﷫نے اپنی ’’مسند‘‘میں ، امام حاکم ﷫نے اپنی کتابِ تاریخ میں ،نیز امام ابو نعیم ﷫اور امام دیلمی ﷫نے حضرت انس بن مالک سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا:
((العلماء امناء الرسل علی عباداللّٰہ مالم یخالطوالسلطان ،فاذا خالطو السلطان فقد خانو الرسل، فاحذروھم ،واعتزلوھم))
’’علماء اللہ کے بندوں کے درمیان رسولوں کے (ورثے کے)امین ہوتے ہیں ،جب تک وہ حاکم کے ساتھ نہ گھلیں ملیں۔ پس اگر وہ حاکم کے ساتھ گھلے ملے تو بلا شبہ انہوں نے رسولوں سے خیانت کی ۔تو (جو علماء ایساکریں)تم ان سے خبردار رہنا اور ان سے علیحدہ ہوجانا‘‘۔
لہٰذا امت مسلمہ کو اب جاننے کی اشد ضرورت ہے کہ’’آئمة المضلّین‘‘ کی وہ کیا اوصاف اور نشانیاں ہیں جن کے ذریعے ان کو بے نقاب کیا جاسکے تاکہ عوام الناس ان کی فریب کاریوں اور گمراہ کن نظریات سے واقف ہوکر ان سے برأت کرسکیں ۔

مسلمانوں کے تین طبقات:
اس سے پہلے کہ ہم ان گمراہ کرنے والے قائدین کے اوصاف کو جاننے کی کوشش کریں ،اس بات کوبھی سمجھ لینا ضروری ہے کہ مسلمانوں کے معاشرے میں لوگوں کی دین کے حوالے سے کیا عمومی سوچ وفکر ہے اور وہ دین حوالے سے کیا طرزِ عمل اختیار کئے ہوئے ہیں ؟تاکہ ان’’آئمة المضلّین‘‘کے طریقہ کار اور ان کے کام کرنے کے عملی میدان کو بھی اچھی طرح سمجھ لیں ۔ دین کے حوالے سے عمومی سوچ اور طرزِ عمل کے لحاظ سے عوام الناس کو تین حصوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے :

پہلا طبقہ:وہ جدید تعلیم یافتہ طبقہ ہے جن کی عظیم اکثریت مغربی تہذیب و تمدن ،ان کے اقدار اور اُن کے نظام سیاست ،نظاممعیشت اور نظام معاشرت سے بے حد متاثر ہے اور اس کو اپنی عملی زندگی میں اختیار کرنا چاہتاہے مگر اس راہ میں مسلمانوں کی وہ باقی ماندہ اسلامی اقدار اور حمیت ِدینی رکاوٹ ہے جو اب بھی کسی نہ کسی صورت میں مسلمانوں میں موجود ہے۔

دوسرا طبقہ: مسلمانوں کا وہ ہے جو کہ دین کا درد اور اس سے ہمدرد ی رکھنے والا ہے ۔لیکن عامۃ الناس کی حیثیت سے کسی نہ کسی مذہبی مکتبہ فکر سے تعلق رکھتا ہے اور اس مکتبہ فکر کے رہنما اور قائدین کی پیروی کرنے والا اور اُن کی بتائی ہوئی ہر بات پر بلا چوں چراں عمل کرنے والاہے۔

تیسرا طبقہ :مسلمانو ں کا وہ ہے جوکہ اسلام کا ہمہ گیر اور جامع تصور رکھتے ہوئے اس کو ایک مکمل نظامِ حیا ت ہی نہیں سمجھتا بلکہ اُ س کے معاشرے میں عملی نفاذ کو اپنا ایک ’’فریضہ ٔدینی ‘‘سمجھتا ہے اور اس کام کے لئے وہ دین کے نفاذ کا دعویٰ کرنے والی کسی نہ کسی جماعت سے منسلک ہے۔

’’آئمة المضلّین‘‘کے تین میدان:
لہٰذا آج کے ’’آئمة المضلّین‘‘کے بھی یہ تین میدان ہیں جس میں وہ مختلف انداز اور زاویئے سے کام کررہے ہیں :

اوّل: مسلمانوں کے پہلے طبقہ کو جوکہ مغربی تہذیب کا دلدادہ اور اس کو اپنی زندگی میں اختیارکرنا چاہتا ہے،یہ ’’آئمة المضلّین‘‘قرآن کریم اور احادیث مبارکہ کی غلط تاویلات اور محکمات کو چھوڑ کر متشابہات سے استدلال کرکے اُ ن کو مبہم دلائل فراہم کرتا ہے تاکہ یہ طبقہ مغربی اقدار و معاشرت مثلاً سود،زناء ،شراب،موسیقی اور مخلوط طرز معاشرت وغیرہ کو بلا خوف و خطر اختیار کرسکے اور اس کے باوجود بھی اپنے آپ کو عین اسلام پر کاربند سمجھے۔

دو ئم:جبکہ دوسرے طبقے کو ’’مست رکھو ذکر وفکر گاہی میں اسے‘‘کے مصداق چند مراسم عبودیت تک اُن کے تصور، جن کااپنے مقام سے کوئی انکار نہیں کرسکتا ،محدود کرنا چاہتا ہے اور اسی تصور کو مکمل اسلام اور نجات کا قرینہ قرار دیتا ہے تاکہ عوام الناس کا یہ ’’سادہ لوح ‘‘طبقہ اسلام اور مسلمانوں کو یہودو نصاری اور ان کے غلام حکمرانوں کی طرف سے درپیش حالات سے بے خبر اور لاتعلق رہ کر صرف اُن کی عقیدت میںہی گُم رہے ،اور یوں حاکم وقت بھی اُن سے خوش رہے اور ان کی مسند و جاہ کو بھی کوئی خطرہ نہ ہو۔

سوئم:اور تیسرا طبقہ جو کہ اسلام اور مسلمانوں کے لئے سب سے زیادہ کارآمد ثابت ہوسکتا ہے اور اسلام کے لئے اپنا جان ومال سب کچھ قربان کرنے کاسچا عزم رکھتا ہے ،اس کو یہ’’آئمة المضلّین‘‘اسلام کی اقامت و نفاذکے اس طریقہ کارسے جو کہ قرآن و سنت سے بالکل واضح اور مبین ہے ،ہٹا کر اپنی عقل و دانش یا مغرب سے درآمد شدہ طریقوں کی طرف لے جاتے ہیں جس سے نہ شریعت اسلامی کے نفاذ میں کوئی عملی پیشرفت ہوتی ہے اور نہ ہی دشمنان اسلام کو ان لوگوں سے کوئی حقیقی خطرہ لاحق ہوتا ہے۔
یہاں یہ بات بھی واضح رہے کہ یہ ضروری نہیں کہ مسلمانوں کے یہ رہنما ،قائدین ،دانشور اوراہل علم شعوری طور پر ’’آئمة المضلّین‘‘کی فہرست میں شامل ہوں یا بالفاظِ دیگر شعوری طور پر وہ افعال کریں جس سے وہ اللہ کی نظر میں اور مسلمانوں کے لئے’’آئمة المضلّین‘‘ثابتہوں ،سوائے چند ایک کے جو باقاعدہ یہود و نصاریٰ کے ایجنڈے اور دشمنان اسلام کی طرف سے یہ خدمت انجام دیتے ہیں ،اِن کے سوا اکثریت دین و شریعت سے ناواقفیت یامسلمانوں پر وارد نامساعد حالات سے مایوس ہوکریا دشمنان اسلام کی قوت و طاقت ورعب اور دبدبہ سے متاثر ہوکر مسلمانوں کے لئے وہ ’’راہِ عمل ‘‘ چنتے ہیں جس سے نہ صرف وہ خود گمراہ ہوتے ہیں بلکہ مسلمانوں کی ایک عظیم اکثریت کو اپنی گمراہی کا شکار کردیتے ہیں۔
وَھُمْ یَنْھَوْنَ عَنْہُ وَیَنْئَوْنَ عَنْہُ وَاِنْ یُّھْلِکُوْنَ اِلآَّ اَنْفُسَھُمْ وَمَا یَشْعُرُوْنَ ۔الانعام:۲۶۔
’’اور وہ خود اس امرِحق کو قبول کرنے سے لوگوں کو روکتے ہیں اور خود بھی اس سے دور بھاگتے ہیں تو درحقیقت وہ اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈال رہے ہیں لیکن انہیں شعور نہیں‘‘۔
بر حال !اب ہم قرآن و حدیث کی روشنی میں ان اوصاف کی طرف آتے ہیں جن سے’’آئمة المضلّین‘‘ کو بے نقاب کیا جاسکے اور عوام الناس کو ان کی گمراہی سے بچا جاسکے ۔

’’آئمة المضلّین‘‘کی پہچان:
کوئی بھی مذہبی رہنما ،قائد ،دانشور و اسکالر اور اہل علم چاہے وہ کتنی ہی عقل و دانش کے اعلیٰ و ارفع مقام پر فائز ہوں اور علم و حکمت کے موتی تلاش کرنے کا ماہر ہو،پرزور خطابت اور قافیہ سے فافیہ ملانے میں اس کا کوئی ثانی نہ ہو،نکتے سے نکتہ نکالنے اور ’’تحقیق و ریسرچ‘‘میں اُس کی کوئی مثل نہ ہو ،تعلیم و تعلم قرآنی اور درس وتدریس میں کتنا ہی مشغول ہو اور معاشرے میں اس کی دین فہمی کا بھی خوب چرچا ہو لیکن اگر مندرجہ ذیل معاملات و احکامات میں وہ قرآن و سنت کے بنیادی نصوص و دلائل اور سلف و صالحین کے متفقہ فتاویٰ اور مؤقف سے ناواقف رہ کریا ان سے شعوری طورپر ہٹ کر اپنی عقل،رائے یا اجتہاد سے کام لیکر کوئی اور تصور یا فلسفہ پیش کرے تو کوئی بعید نہیں کہ وہ جلد یا بدیر مسلمانوں کے لئے ’’آئمة المضلّین‘‘ثابت ہوجائے۔وہ چارمعاملات درج ذیل ہیں:
جہاد فی سبیل اللہ
عقیدۃالوالاء والبراء
 طاغوت
سنت رسول ﷺ
یہ چاروں تفصیلاً اگے مضامین میں ذکر ہیں ۔۔۔۔ دیکھتے رہیئے ’’ نورھدایت ‘‘

About umar

Check Also

مضمون نمبر 42 کرونا وائرس اللہ کے عذابوں میں سے ایک عذاب ہے از شیخ گل محمد حفظہ اللہ رکن اجرائی شوری تحریک طالبان پاکستان

مکتبۃ عمر کی جانب سے پیش خدمت ہے اعلائے کلمۃ اللہ کی خاطر جان کی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے