مضمون نمبر 27 موجودہ طاغوتی نظام حنیف فاروقی صاحب

مکتبۃ عمر کی جانب سے پیش خدمت ہے
اعلائے کلمۃ اللہ کی خاطر جان کی بازی لگانے والے ابطال کے قلم سے لکھے گئے تلخ وشیریں، سنہرے الفاظ سے بھرپور مضامین کا سلسلہ بعنوان نورِھدایت

مضمون نمبر 27

موجودہ طاغوتی نظام
حنیف فاروقی صاحب

آرکائیو ڈاونلوڈ لنک
https://archive.org/download/1_20200417_20200417_1156/%D9%85%D9%88%D8%AC%D9%88%D8%AF%DB%81%20%D8%B7%D8%A7%D8%BA%D9%88%D8%AA%DB%8C%20%D9%86%D8%B8%D8%A7%D9%85.pdf

پی ڈی ایف پی ڈاونلوڈ لنک
http://www.mediafire.com/file/qzi9pbixylwqc4i/%25D9%2585%25D9%2588%25D8%25AC%25D9%2588%25D8%25AF%25DB%2581_%25D8%25B7%25D8%25A7%25D8%25BA%25D9%2588%25D8%25AA%25DB%258C_%25D9%2586%25D8%25B8%25D8%25A7%25D9%2585.pdf/file

ون رار فائل لنک(جس میں پی ڈٰی ایف اور ورڈ دونوں فائلز موجود ہیں)
http://www.mediafire.com/file/iud3275711iq4hv/%25D9%2585%25D9%2588%25D8%25AC%25D9%2588%25D8%25AF%25DB%2581_%25D8%25B7%25D8%25A7%25D8%25BA%25D9%2588%25D8%25AA%25DB%258C_%25D9%2586%25D8%25B8%25D8%25A7%25D9%258527.rar/file

@umarmedia

https://t.me/nashir_umedia_bot
https://umarmediattp.co

#TTP

#Umar_Media

……………………………………………….

موجودہ طاغوتی نظام ۔۔۔
حنیف فاروقی صاحب

الحمد للہ حمدا کثیرا طیبامبارکا فیہ ،
اما بعد ! فاعوذباللہ من الشیطن الرجیم

بسم الرحمن الرحیم۔
قَالَ فَبِمَا أَغْوَيْتَنِي لَأَقْعُدَنَّ لَهُمْ صِرَاطَكَ الْمُسْتَقِيمَ (16) ثُمَّ لَآتِيَنَّهُمْ مِنْ بَيْنِ أَيْدِيهِمْ وَمِنْ خَلْفِهِمْ وَعَنْ أَيْمَانِهِمْ وَعَنْ شَمَائِلِهِمْ وَلَا تَجِدُ أَكْثَرَهُمْ شَاكِرِينَ (الاعراف :17)
” وہ کہنے لگا کہ بسبب اس کے کہ آپ نے مجھ کو (بحکم تکوین) گمراہ کیا ہے قسم کھاتا ہوں کہ میں ان (کے یعنی آدم اور اولاد آدم کی رہزنی کرنے) کے لئے آپ کی سیدھی راہ پر (جو کہ دین حق ہے جاکر) بیٹھ جاؤں گا پھر ان پر (ہر چار طرف سے) حملہ کروں گا ان کے آگے سے بھی پیچھے سے بھی اور ان کی داہنی جانب سے بھی اور بائیں جانب سے بھی (یعنی ان کے بہکانے میں کوشش کا کوئی پہلو باقی نہ چھوڑوں گا تاکہ وہ آپ کی عبادت نہ کرنے پائیں) اور (میں اپنی کوشش میں کامیاب ہوں گا، چنانچہ) آپ ان میں سے اکثروں کو (آپ کی نعمتوں کا) احسان ماننے والا نہ پائیں گے ”
اس کے جواب میں اللہ تعالی نے فرمایا : قَالَ اخْرُجْ مِنْهَا مَذْءُومًا مَدْحُورًا لَمَنْ تَبِعَكَ مِنْهُمْ لَأَمْلَأَنَّ جَهَنَّمَ مِنْكُمْ أَجْمَعِينَ (18)
“اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ یہاں سے ذلیل و خوار ہو کر نکل جا (اور تو جو اولاد آدم کو بہکانے کو کہتا ہے تو جو تیرا جی چاہے کر لے میں سب سے بےنیاز ہوں نہ کسی کے راہ راست پر آنے سے میرا کوئی فائدہ ہے نہ گمراہ ہونے سے کوئی نقصان) جو شخص ان میں سے تیرا کہنا مانے گا میں ضرور تم سے (یعنی ابلیس اور اس کی بات ماننے والوں سے) جہنم کو بھر دوں گا “۔

انسانوں میں سے بعض لوگ تواللہ تعالی کو جانتے ہوئے شیطان کی پیروی کرتے ہیں اور ان کا یہ عقیدہ بھی ہوتاہے کہ اللہ ہمارا الٰہ ہے لیکن اس معرفت اور عقیدے کے ساتھ ساتھ وہ اللہ کی حاکمیت اور اقتدار اعلی اور اللہ کےقوانین کے مطابق فیصلے کرنے سے انکار کرتے ہیں اور یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ اللہ کے احکامات پر نظرثانی کرسکتے ہیں اور اللہ کے احکامات کو نافذ کرنے اور نہ کرنے کا فیصلہ کرسکتے ہیں ، یاپھر شیطان ان کو اس قدر گمراہ کردیتاہے کہ وہ سرے سے اللہ کو مانتے ہی نہیں ، یہ دوقسم کے لوگ شیطان کے پیروکارہیں اور جہنم کے مستحق ہوں گے ۔

اللہ تعالی نے ابلیس اور اس کی جماعت کو یہ موقع دے دیاہے کہ وہ لوگوں کو گمراہ کرنے کی آزادانہ سعی کرے اور آدم علیہ السلام اور اور ان کی اولاد کو یہ اختیار دےدیاہے کہ وہ اپنے اختیارسے جو راہ چاہے اختیار کرلے ، دونوں کے لئے آزمائش کے مواقع ہیں اور یہ اللہ تعالی کی مشیت کا تقاضا تھا کہ وہ اس طرح انسان کو آزمائے ۔ اس طرح
اس انسان کو اس کائنات کی ایک منفرد اور مکرم مخلوق کا مقام دے دیا تاکہ یہ انسان نہ فرشتہ ہو اور نہ شیطان ۔

آئیں ہم دیکھتے ہیں کہ موجودہ دور میں دنیا کی سطح پرجو طاغوتی نظام چل رہے ہیں وہ کسی بھی شکل میں ہوں مثلاً : کمیونیزم ، سوشلزم ، اشتراکیت اور سیکولرزم وغیرہ کی شکل میں ان سب نظاموں کے موجد ابلیس لعین ہے یانہیں ؟
شیطان نے اسی دن سے عزم کیاہے جس دن اللہ تعالی نے اسے آدم علیہ السلام کو سجدہ نہ کرنے پر مردود کیا اور جنت سے نکالا ۔ اللہ نے آدم علیہ السلام اور ان کی اولاد کو کرہ ارض پر خلافت کرنے کے لیےپیدا کیاہے اور اس کے مقابلے میں شیطان نے قسم کھاکر اپنے پیروکاروں کو نظام حکومت کے لیے ایک ابلیسی پالیسی دے دی اور اس ابلیسی نظام اور پالیسی کے اصول خلافت کے اصولوں کی ضد ہوتے ہیں ، اس ابلیسی نظام کے چند پہلو درج ذیل ہیں :

1۔ ابیٰ: اس نے انکار کیا (البقرہ : 34 ) ابلیسی سیاست کا پہلا بنیادی اصول ہے قانون ِ شرعی کی بالادستی سے انکارکرنا اور حکم خداوندی کی نافرمانی کرنا ۔

2۔ واستکبر : اور اس نے تکبر کیا ۔ دوسرا اصول ہے اپنے آپ کو بڑاسمجھنا ، ذاتی بالا دستی اور مطلق العنانیت اختیار کرنا ۔

3۔ وکان من الکافرین : اور تھا وہ کافروں میں سے : یعنی مسلمانوں کے مقابلے میں کافروں کو ترجیح دینا اور ان کے گروپ میں شامل ہونا ۔

4۔ قال ان خیر منہ خلقتنی من نار وخلقتہ من طین (الاعراف : 12 )
” ابلیس نے کہا میں آدم علیہ السلام سے بہتر ہوں تونے مجھ کو آگ سے پیداکیاہے اور اس کو مٹی سے ”
ابلیس کے اس قول سے معلوم ہوتاہے کہ سیاست عقلیہ یعنی شریعت کے مقابلے میں عقل کی بالادستی اور نیشنلزم یعنی قوم پرستی اور نسل پرستی کا داعی اول ابلیس تھا ۔ اس کا کہنا یہ تھا کہ عقل اس بات کو تسلیم نہیں کرتی کہ اعلی نسل کی جگہ ادنی نسل والے کو زمین کی خلافت وسیاست کا کام سپرد کیاجائے ۔

5۔ لاقعدن لھم صراطک المستقیم (الاعراف : )” میں ان کو گمراہ کرنے کے لیے تیرے سیدھے راستے پر بیٹھوں گا ” یعنی صراط مستقیم سے لوگوں کو برگشتہ کرنا اور دین کے خاتمے کی کوشش کرنا ابلیس کالائحہ عمل تھا ۔

6۔ ھل ادلک علی شجرۃ الخلد وملک لایبلی (طہ : 120 )
” اے آدم علیہ السلام میں آپ کو ہمیشہ زندگی کا درخت اور بادشاہی کا نہ بتاؤ ں جو پرانی ہونے والی نہیں ہے “یعنی دھوکا دینا، اقتدار کی بھوک پیداکرنااور باطل کو حق کی شکل میں پیش کرنا ابلیس کی پالیسی ہے ۔

7۔ ان ھٰذاعدولک ولزوجک (طہ 117 ) “بیشک یہ ابلیس آپ کا اور آپ کی بیوی کادشمن ہے ” یعنی انسانیت کے ساتھ مستقل طورپرعداوت رکھنا اور اس کوتباہ کرنے کی کوشش کرنا اس کا طریقہ کارہے ۔

8۔ ینزع عنھما لباسھمالیریھماسوآتھما (الاعراف : 17 ) “ان سے ان کے کپڑے اتروائے تاکہ ان کو ان کی شرمگاہیں دکھلائے “۔ یعنی بے پردگی اور عریانی کی اشاعت کرناابلیسی نظام کی پسندیدہ پالیسی ہوتی ہے ۔

یہ ہیں وہ ابلیسی اصول جن پرہردور کے ابلیس اور طاغوتی نظام کے علمبردار عمل پیرارہے ہیں لیکن ان کے مقابلے میں اسلامی اصولوں کے علمبردار اور تابعدار بھی ہر دور میں موجود رہے ہیں اور وقت موعود تک موجود رہیں گے ۔

About umar

Check Also

مضمون نمبر 42 کرونا وائرس اللہ کے عذابوں میں سے ایک عذاب ہے از شیخ گل محمد حفظہ اللہ رکن اجرائی شوری تحریک طالبان پاکستان

مکتبۃ عمر کی جانب سے پیش خدمت ہے اعلائے کلمۃ اللہ کی خاطر جان کی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے