مضمون نمبر 26 کرونا وائرس یا وائرس وار؟ مفتی ابوہشام مسعود حفظہ اللہ

مکتبۃ عمر کی جانب سے پیش خدمت ہے

اعلائے کلمۃ اللہ کی خاطر جان کی بازی لگانے والے ابطال کے قلم سے لکھے گئے تلخ وشیریں، سنہرے الفاظ سے بھرپور مضامین کا سلسلہ بعنوان نورِھدایت

مضمون نمبر 26

کرونا وائرس یا وائرس وار؟

مفتی ابوہشام مسعود حفظہ اللہ

آرکائیو ڈاونلوڈ لنک

https://archive.org/download/26_20200429/26%20%DA%A9%D8%B1%D9%88%D9%86%D8%A7%20%D9%88%D8%A7%D8%A6%D8%B1%D8%B3%20%DB%8C%D8%A7%20%D9%88%D8%A7%D8%A6%D8%B1%D8%B3%20%D9%88%D8%A7%D8%B1.pdf

پی ڈی ایف پی ڈاونلوڈ لنک

http://www.mediafire.com/file/30k6glqgf35q5ss/26_%25DA%25A9%25D8%25B1%25D9%2588%25D9%2586%25D8%25A7_%25D9%2588%25D8%25A7%25D8%25A6%25D8%25B1%25D8%25B3_%25DB%258C%25D8%25A7_%25D9%2588%25D8%25A7%25D8%25A6%25D8%25B1%25D8%25B3_%25D9%2588%25D8%25A7%25D8%25B1.pdf/file

ون رار فائل لنک(جس میں پی ڈٰی ایف اور ورڈ دونوں فائلز موجود ہیں)

http://www.mediafire.com/file/n31868hm08zfuzc/26_%25DA%25A9%25D8%25B1%25D9%2588%25D9%2586%25D8%25A7_%25D9%2588%25D8%25A7%25D8%25A6%25D8%25B1%25D8%25B3_%25DB%258C%25D8%25A7_%25D9%2588%25D8%25A7%25D8%25A6%25D8%25B1%25D8%25B3_%25D9%2588%25D8%25A7%25D8%25B1.rar/file

@umarmedia

https://t.me/nashir_umedia_bot

https://umarmediattp.co

#TTP

#Umar_Media

………………………………………

بسم اللہ الرحمٰنِ الرحیم

کرونا وائرس یا وائرس وار؟

مفتی ابو ہشام مسعود حفظہ اللہ

آج پوری دنیا کو کرونا وائرس نے مفلوج کر رکھا ہے ،پوری دنیا بلاک ہے ،زندگی کے تمام شعبے یکسر متاثر ہیں ،علاج کیلئے دنیا تڑپ رہی ہے مگر آج تک کوئی مسیحاء پیدا نہ ہو سکا ،کرونا کی حقیقت کے متعلق علماء اور عوام کے مختلف افکار گردش کررہے ہیں،اسی میں ،میں بھی تاریخ کے تناظر میں اپنا ایک تجزیہ پیش کروں گا ،مستقبل نے درست ثابت کیا تو دنیا دیکھے گی ،نہ ثابت ہوا تو بھی کوئی حرج نہیں ،کہ اظہارِ رائے ہر کسی کا حق ہے ۔

کرونا وائرس کے چند پہلو ہیں ،جن کو سمجھنا ضروری ہے،ایک اس کا مذہبی پہلو ہے ، چونکہ یہ مرض ایک وبا کی صورت اختیار کر چکی ہے ،لہٰذا شریعت نے اس سے بچاؤ کی جو تدابیر بتائی ہیں ان پر عمل کرنا ضروری ہے ،جن کا تذکرہ علماء حضرات نے بارہا آڈیو،ویڈیو ذرائع سے کیا ہے ،اور ساتھ یہ بھی شریعت کا حکم ہے کہ جہاں وبا پھیل جا ئے تو وہاں نہ تو جانا درست ہے اور نہ ہی وہاں سے بھاگنا جائز ہے ۔

ایک پہلو اس کا سیاسی بھی ہے جس کا مذہب سےبھی کوئی ٹکراؤ نہیں ہے کیونکہ کرونا کا اصل خالق تو یقینا اللہ تعالیٰ کی ذات ہے ،کہ تمام چیزوں کا پیدا کرنے والا اللہ تعالیٰ ہی ہے،جس مادے سے کرونا تیار ہوا ہے اس کا خالق بھی اللہ تعالٰی ہی ہے،مگر اللہ تعالیٰ نے چونکہ حضرت انسان کو اپنی طرف سے یہ قدرت اور اختیار بخشا ہے ،کہ وہ اللہ تعالیٰ کے پیدا کردہ مادے سے مختلف مفید، غیرِ مفید ،مہلک اور غیر مہلک اشیاء بنا سکیں ،تو اچانک کسی مہلک چیز کا دنیا میں آکر وبا کی صورت اختیار کرنا کوئی غیر معقول یا غیر شرعی بات نہیں ،جیسے ایٹم بم ،ہائڈروجن بم وغیرہ مہلک مواد انسان ہی نے تیار کر رکھے ہیں ،جو لاکھوں انسانوں کی موت کیلئے کافی ہیں ،تو اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی اختیارو قدرت سے ایسا وائرس تیار کرنا کیا بعید ہے جو پوری دنیا میں پھیل کر لوگوں کو موت کی نیند سلانا شروع کرے کہ اللہ تعالیٰ کا منشاء اسی میں مضمر ہوگا ۔
اس تمہید کی روشنی میں ،میں یہ عرض کروں گا کہ کرونا وائرس بھی آج کے “نیو ورلڈ آرڈر” کے نام جاری جنگ کا ایک اہم ترین حصہ ہے ،جس کو سمجھنے کیلئے مختصر پسِ منظر کا سمجھنا ضروری ہو گا ،تو چونکہ یہود کا یہ دعویٰ ہے کہ ہم حضرت سلیمان علیہ السلام کی اولاد میں سے ہیں ،اور حضرت سلیمان علیہ السلام کو پوری دنیا پر حکومت حاصل تھی ،لہٰذا عالمگیر حکومت کا حق صرف اور صرف یہود کو حاصل ہے ،اور یہ بات بطور خاص سمجھنے کی ہے کہ موجودہ عسکری اور سیاسی جنگ اسی مقصد کے حصول کی خاطرلڑی جارہی ہے،جس نے کرونا سے بھی زیادہ لوگوں کو جلا کر راکھ بنا دیا ،جس نے پوری دنیا کو آگ کی بھٹی بنا کر چھوڑ دیا ،ان تمام باتوں کے پیچھے یہود کا ہاتھ ہے،یہود نے امریکہ کے عیسائیوں کو بھی عیسائیت سے بیزار کر کے سیکولر بنا کر اپنے مقصد میں استعمال کرنا شروع کیا ،اپنا کمزور افرادی،اقتصادی اور جعرافیائی قوت امریکہ کی آڑ میں مضبوط بنانے کی کامیاب کوشش کر رہا ہے ،یہ ایک حقیقت ہے کہ موجودہ جنگ یہود کے مقاصدِ عظمیٰ(مسجدِ اقصیٰ کی جگہ ہیکلِ سلیمانی کی تعمیر،فلسطین پر قبضہ اور عالمگیر حکومت)کے حصول کی جنگ ہےاس جنگ میں یہود نہ عیسائیوں کے دوست ہیں اور نہ ہی کسی اور کے،ہاں عسکری جنگ میں کھلم کھلا ٹارگٹ مسلمان اس لئے ہیں کہ مسلمان ان کی راہ میں سب سے بڑی اور کھلی رکاوٹ ہے ،اب یہود کو سب سے ذیادہ ضرورت ایک عالمی قوت کی شکل میں خود کو ظاہر کرکے دنیا سے منوانے کی ہے ،تاکہ مقاصد عظمیٰ کے اگلے مراحل با آسانی طے کر سکیں ،تو اس قدر اولادِ آدم کا خون بہانے اور عالمی منڈیوں پر قبضہ جمانے کے باوجود اس کا وجود تسلیم نہ ہو سکا ،اب پوری دنیا کو وائرس وار کے ذریعے مفلوج کر کے اپنا وجود تسلیم کرانے کی چکر میں ہے ،کیونکہ دنیا دیکھے گی کہ کرونا کی ویکسین بھی یہود کے ہاتھوں نکلے گی،اور پھر یہود کا وجود تسلیم کئے بغیر یہ ویکسین شاید کسی کو مل بھی نہ سکے۔

ہم دیکھ رہے ہیں کہ مسلمان قوتوں کو اس نے امریکہ کی آڑ میں عسکریت کے ذریعے کمزور کرنے کی کوشش کی،یہ الگ بات ہے کہ امارتِ اسلامی کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے ایک حد تک اس کا غرور توڑ دیا ،اب دیگر بڑی قوتیں جو غیر عسکری شکل میں اس کی راہ میں رکاوٹ ہیں جن میں چین سر فہرست ہے کو” وائرس وار” کے ذریعےزیر کرنے کی کوشش کرتا ہے ،اور تاریخ کے تناظر میں اس حقیقت سے بھی انکار کی گنجائش نہیں کہ امریکہ کی قوت یہود کو صرف بطورِ آڑ (مورچہ )قبول ہے نہ کہ فی نفسہ لہٰذا آج کسی کو یہ اشکال نہ رہے کہ امریکہ پھر اس وائرس سے کیوں متاثر ہوا ہے ،اور یہ غلط فہمی بھی لوگوں کو اس لئے لگی ہے کہ امریکہ کی پوری دنیا پر بدمعاشی،پابندیاں ،ہر کسی کو آنکھیں دیکھانا امریکی عیسائیوں کا فعل سمجھتے ہیں ،براہ راست امریکہ کی طرف ان تمام افعال کی نسبت کرتے ہیں جو کہ ایک غلط تصور ہے ،حقیقت یہ ہے کہ” وائٹ ہاؤس “اور” پینٹا گون” پر یہود کے عسکری اور سیاسی تھینک ٹینک کا قبضہ ہے ۔لہٰذا بشمولِ امریکہ پوری دنیا اس وائرس سے جتنا ذیادہ متاثرہوجائے اس میں یہود کی لاٹری ہے ،دنیا کا اقتصاد جتنا ذیادہ تباہ و برباد ہوگااتنا ہی یہود کا اس میں خیر ہے کہ دنیا اقتصاد کے میدان میں یہود کا غلام بنے گی ،کیونکہ یہود قرون اولیٰ سے اقتصاد کے ماسٹر ہیں ،پھر اسی اقتصادی کنٹرول کی آڑ میں اپنی ہستی دنیا سے منظور کراکر مقاصدِ عظمیٰ کے حصول کا سفر جاری رکھیں گے۔ہاں یہ ایک الگ قدرتی فیصلہ ہے کہ یہود اس مکر و فریب کے ذریعے مقاصدِ عظمٰی تک ہر گز نہیں پہنچ سکتے ہیں ۔

کرونا وائرس کایہودی سازش ہونےکا میرا گمان “محترم ڈاکر عبدللہ حسین ہارون صاحب” کی ویڈیو نے اور بھی مضبوط کیا ۔کہ 2006 میں کرونا کمپنی نے یہ وائرس تیار کیا اور پھر چین پر اس کو اپلائی کیا وغیرہ تفصیل ویڈیو میں ملاحظہ فرمائیں( واللہ تعالیٰ اعلم)

16 اپریل2020

About umar

Check Also

مضمون نمبر 40 جہاد فی سبیل اللہ کی دو اقسام کی وضاحت

مکتبۃ عمر کی جانب سے پیش خدمت ہے اعلائے کلمۃ اللہ کی خاطر جان کی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے