مضمون نمبر 25 سورہ احزاب کے سائے تلے مشابہت وبشارت قسط دوم شیخ ابو محمد خالد حقانی شہید رحمہ اللہ

مکتبۃ عمر کی جانب سے پیش خدمت ہے

اعلائے کلمۃ اللہ کی خاطر جان کی بازی لگانے والے ابطال کے قلم سے لکھے گئے تلخ وشیریں، سنہرے الفاظ سے بھرپور مضامین کا سلسلہ بعنوان نورِھدایت

مضمون نمبر 25

سورہ احزاب کے سائے تلے مشابہت وبشارت قسط دوم

شیخ ابو محمد خالد حقانی شہید رحمہ اللہ

نوٹ:تحریر کو ٹیلی گرام پر پڑھنے کیلئے

https://t.me/nh_channel01

آرکائیو ڈاونلوڈ لنک

https://archive.org/download/1_20200417_20200417_1156/%D9%85%D8%B4%D8%A7%D8%A8%DB%81%D8%AA%20%D9%88%D8%A8%D8%B4%D8%A7%D8%B1%D8%AA%20%D8%B3%D9%88%D8%B1%DB%81%20%D8%A7%D8%AD%D8%B2%D8%A7%D8%A8%20%DA%A9%DB%92%20%D8%B3%D8%A7%D8%A6%DB%92%20%D8%AA%D9%84%DB%922.pdf

پی ڈی ایف پی ڈاونلوڈ لنک

http://www.mediafire.com/file/1jh6g7cuyh9qt8f/%25D9%2585%25D8%25B4%25D8%25A7%25D8%25A8%25DB%2581%25D8%25AA_%25D9%2588%25D8%25A8%25D8%25B4%25D8%25A7%25D8%25B1%25D8%25AA_%25D8%25B3%25D9%2588%25D8%25B1%25DB%2581_%25D8%25A7%25D8%25AD%25D8%25B2%25D8%25A7%25D8%25A8_%25DA%25A9%25DB%2592_%25D8%25B3%25D8%25A7%25D8%25A6%25DB%2592_%25D8%25AA%25D9%2584%25DB%25922.pdf/file

ون رار فائل لنک(جس میں پی ڈٰی ایف اور ورڈ دونوں فائلز موجود ہیں)

http://www.mediafire.com/file/ow510ub05bc4ech/25%25D9%2585%25D8%25B4%25D8%25A7%25D8%25A8%25DB%2581%25D8%25AA_%25D9%2588%25D8%25A8%25D8%25B4%25D8%25A7%25D8%25B1%25D8%25AA_%25D8%25B3%25D9%2588%25D8%25B1%25DB%2581_%25D8%25A7%25D8%25AD%25D8%25B2%25D8%25A7%25D8%25A8_%25DA%25A9%25DB%2592_%25D8%25B3%25D8%25A7%25D8%25A6%25DB%2592_%25D8%25AA%25D9%2584%25DB%25922.rar/file

@umarmedia

https://t.me/nashir_umedia_bot

https://umarmediattp.co

#TTP

#Umar_Media

………………………………

مشابہت وبشارت سورہ احزاب کے سائے تلے:           (قسط دوم ) شیخ خالد حفظہ اللہ

غربت و افلاس:

اس وقت مسلمانوں کی غربت کا یہ عالم تھا کہ کھانے پینے کی تمام اشیاء ناپید ہو چکی تھیں اور سخت بھوک کی وجہ سے صحابہ کرامؓ نے اپنے پیٹوں پر پتھر باندھ لیے تھے جبکہ نبی اکرمﷺ نے پیٹ مبارک سے دو پتھر باندھے ہوئے تھے لیکن انہی حالات میں آپ ﷺ صحابہ کرام ؓ کو قیصروکسریٰ کے خزانوں کے فتح کی خوشخبری دے رہے تھے ۔

اسی طرح  امارت ِاسلامی  کے سقوط کے وقت مجاہدین کی بالکل ایسی حالت تھی کہ ان کے پاس کھانے  پینے کے لیے  کچھ نہیں بچا تھا، سخت افراتفری کے عالم میں جو چیز جہاں تھی وہاں رہ گئی ، بہت سے مجاہدین نے کئی کئی دن تک صرف گھاس کھا کر گذارہ کیا، جو عرب مجاہدین تورا بورا سے نکل کر پاکستانی علاقوں میں داخل ہوئے اور ان میں سے بہت سوں کو مرتد پاکستانی فورسز نے پکڑ کر شہید کیا،جن میں سے بعض کی قبریں کوہاٹ میں موجود ہیں، شہادت کے بعد ان کی جیبوں سے پتھر نما جوار کے ٹکڑے اور گھاس برآمد ہوئے،جبکہ شبر غان جیل میں قید مجاہدین کو ایک وقت کے کھانے میں تین ساتھیوں کے درمیان صرف ایک روٹی اور ایک گلاس پانی ملتا تھا۔

عہد شکنی:

مدینہ طیبہ میں اسلامی خلافت کو درپیش خطرات کے پیشِ نظر رسولِ اکرم ﷺ نے مدینہ طیبہ کے مشرق میں موجود یہود قبائل سے معاہدہ کیا تھا کہ مدینہ پر حملہ آور دشمن کا ہم دونوں (مسلمان اور یہود) مل کر دفاع کریں گے ،لیکن جب احزاب آئے تو یہود کے ایک بڑے سردارحی بن اخطب نضر نے غدر کیا اور معاہدہ توڑ کر مسلمانوں کے خلاف کفار مکّہ کی امداد شروع کر دی ۔

اسی طرح جب امارتِ اسلامی کے خلاف امریکہ اور نیٹو اتحاد پر مشتمل صلیبی لشکر حملہ آور ہوا تو افغانستان کے مشرق میں موجود پاکستان کی مرتد حکومت نے طالبان کے ساتھ اپنا معاہدہ توڑا ، پاکستان وہ پہلا ملک تھا جس نے طالبان کی حکومت کو تسلیم کیا تھا اور دونوں نے ایک دوسرے کے مفادات کا تحفظ اور دشمنوں کا ساتھ نہ دینے کے معاہد کیے تھے لیکن کفار کے لاؤ لشکر دیکھ کر مرتد حکومت وفوج کے قدم ڈگمگا گئے اور فوراً معاہدہ توڑ کر نیٹو اتحاد میں شامل ہوا اور بنو قریظہ یہود کے بالمثل صلیبی افواج کو اڈے،جنگی نقشے اور لاجسٹک سپورٹ فراہم کی ،صلیبیوں کے جہازوں نے ان کے اڈوں سے اڑانیں بھر کر امارتِ اسلامی پر بمباریاں کرنا شروع کر دیں ، حتٰی کے یہود سے بد ترین کردار میں آگے بڑھتے ہوئے طالبان کے سفیر ملاّ عبدالسلام ضعیف سمیت کئی طالبان رہنماؤں کو گرفتار کر کے امریکہ کے حوالے کر دیا اور سینکڑوں مجاہدین کو اپنے خفیہ جیل خانوں  میں قید کر دیا، اور یہود کی تیار کردہ اس مرتد حکومت و فوج نے اپنے آقا امریکہ کے اشارے پر امارت ِاسلامی کے خلاف وہ سب کچھ کیا جو ان کے بس میں تھا؛افغا نستا ن ہی پر بس نہیں کیا،بلکہ اپنے ہی قبائل سمیت ملک بھر میں ان پاک نفوس کے خلاف لا محدود آپریشن کا سلسلہ جاری رکھا، ہزاروں عرب مجاہدین کو پکڑ پکڑکر ڈالروں کے عوض فروخت کر نا ، امیرالمومنین کے وزیرِدفاع ملاّ عبیداللہ اخوندؒ کی گرفتاری سے شہادت تک،شیخ ابو الفراج،خالد شیخ محمد، احمد خلفان،عفت مآب بہن ڈاکٹر عافیہ صدیقی اور شیخ ابو زبیدہ فک اللہ اسرھم سمیت امت کے سینکڑوں ابطال کی امریکہ ملعون کے ہاتھوں حوالگی یہاں تک کہ امت کے امام شیخ اسامہؒ کی شہادت مرتد حکومت وفوج کے وہ بدترین کردار ہیں جن سے یہود بنوقریظہ بھی شرماجائیں۔

جنگ کے نتیجے میں کفار اقتصادی بحران کا شکار:

جنگ احزاب میں کفّارجانی نقصان کے مقابلے میں سخت مالی خسارے کا شکار ہوئے،پوری جنگ میں ان کے صرف تین آدمی مارے گئے تھے، مرویات امام زہری فی المغازی میں علامہ محمد بن محمد العواجی امامِ زہریؒ سے نقل کرتے ہیں کہ غزوہ خندق کے موقع پر مشرکین کے تین لوگ قتل ہوئے تھے ۔

1۔عمرو بن عبدودالعامری۔

2۔نوفل بن عبداللہ المخزومی۔

3۔حسل بن عمرو بن عبدودالعامری۔

 جبکہ ان کا مالی نقصان اتنا زیادہ ہوا تھا کہ وہ جنگ کرنے کے قابل نہیں رہے اور واپس لوٹ گئے ،الاکتفاءبماتضمنہ من مغازی رسول اللہﷺوالثلاثتہ الخلفاء میں سلیمان بن موسیٰ کلاعی اندلسی رحمہ اللہ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے نقل کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

قال حذیفہ قال ابو سفیان :یا معشر قریش انکم ما اصبحتم بدار مقام لقدھلک الکراع والخف۔۔۔۔۔ فارتحلوافانی مرتحل۔۔۔

ترجمہ:ابو سفیان نے کہااے قریش کی جماعت اب آپ یہاں نہیں ٹھہر سکتے تحقیق سواریاں اور جانور ہلاک ہو گئے۔۔۔۔۔۔پس کوچ کر جاؤمیں جانے والا ہوں ۔(الاکتفائ2؍111)

        اسی طرح آج بھی ایک طرف تو الحمدللہ ان احزاب کا جانی نقصان بہت زیادہ ہو رہا ہے لیکن دوسری طرف ان کا مالی نقصان تو اتنا ہوا ہے کہ الحمدللہ اب ان میں جنگ کرنے کی سکت نہیں ہے،جنگ جیتنے کے لیے دنوں میں لاکھوں ڈالر تقسیم کرنے والے اب اپنے اپنےخرچوں پر حیران و پشیمان ہیں،ان کی یہ پشیمانی بھی ہمیں ان کی شکست اور مسلمانوں کی فتح کی بشارت سناتی ہے ۔باذن اللہ

اِنَّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا یُنْفِقُوْنَ  اَمْوَالَھُمْ لِیَصُدُّوْا عَنْ سَبِیْلِ اللہِط فَسَیُنْفِقُوْنَھَا  ثُمَّ تَکُوْنُ عَلَیْھِمْ حَسْرَۃً ثُمَّ یُغْلَبُوْنَ۔

ترجمہ:جولوگ کافر ہیں اپنا مال خرچ کرتے ہیں کہ (لوگوں) کو اللہ کے رستے سے روکیں سو ابھی اور خرچ کریں گے مگر آخر وہ (خرچ کرنا) اُن کیلیے (موجب ِ) افسوس ہو گااور وہ مغلوب ہو جائیں گے۔(انفال آیت نمبر 36)

         اور اب تو الحمدللہ اس کا دیوالیہ نکل رہا ہے اگرچہ وہ اس دیوالگی کو چھپانے کی نا کام کوشش کر رہا ہے لیکن ان شاء اللہ عنقریب روس کی طرح یہ بھی سخت اقتصادی تباہی سے دوچار ہو کر حصوں بخروں میں بکھرنے والا ہے بلکہ تازہ ترین خبر کے مطابق تیس ریاستوں نے علیحدگی کی درخواستیں دے کر اس تباہی کی بنیاد ڈال دی ہے  ۔فللہ الحمد والنعمۃ ۔

بد گمانی:

        جاتے جاتے لشکرِکفّار اور اس کے حلیف بنو قریظہ کے درمیان سخت بدگمانیاں پیدا ہوئیں،چنانچہ احزاب کے سربراہ نے بنو قریظہ سے مزید امداد کا مطالبہ کیااور کہا کہ ہمارا تو سب کچھ ختم ہو چکا ہے لہٰذا تم ہمیں اسلحہ و خوراک (مضبوط رسد) فراہم کرو جیسا کے علامہ سلیمان اندلسیؒ فرماتے ہیں کہ انہوں نے بنو قریظہ کے پاس اپنے چند لوگوں کو بھیجا کے ہمارا تو سب کچھ ہلاک ہو گیا لہٰذا اب تم آگے آ جاؤ اور جنگ کرو ،بنو قریظہ والوں کو یہ وہم ہوا کہ یہ لوگ تو چلے جائیں گے اور ہمیں اکیلا چھوڑ دیں گے لہٰذا ان سے بطورِ رہن کے چند سرداروں کی حوالگی کا مطالبہ کیا جبکہ لشکراس مطالبے پر مزید بدگمان ہوا کہ ہمارے سرداروں کو نبی اکرمﷺ کے حوالے کر کے اپنے غدر کی تلافی اور آپﷺ کے ساتھ دوبارہ معاہدہ کی توثیق کرنا چاہتے ہیں،یوں احزاب کا سربراہ جاتے جاتے شکست کا سارا ملبہ بنو قریظہ پر ڈال گیا،علامہ سلیمان اندلسیؒ فرماتے ہیں کہ حضرت حذیفہؓ  فرماتے ہیں کہ ابو سفیان نے کہا :

یا معشرقریش انکم واللہ ما اصبحتم بدار مقام لقد ھلک الکراع والخف واخلفتنا بنو قریظۃ  وبلغنا عنھم الذی نکرہ ولقینا من شدۃ الریح ماترون ماتطمئن لنا قدر ولا تقوم لنا نا ر ولایستمسک لنا بناء فارتحلوا فانی مرتحل ۔

ترجمہ: اےجماعتِ قریش! خدا کی قسم آج تم یہاں نہیں ٹھہرسکتے، سواریاں اور جانور ہلاک ہوگئے اور بنوقریظہ نے ہمیں اکیلا چھوڑا اور ہمیں بنوقریظہ سے وہ پہنچا جو ہم اس کو برامانتے تھے اور آپ دیکھتے ہیں کہ ہمارا سامنا ایک تیز تر ہوا (طوفان ) سے ہوگیا ہے ہماری ہانڈی نہیں ٹھہرتی، نہ ہی آگ جلائی جا سکتی ہے اور نہ ہماری کو ئی تعمیر جمتی ہے اس لیے میں کوچ کرتا ہوں پس تم بھی کوچ کرو ۔(الاکتفاء 2؍111)

  بالکل اسی طرح آج بھی جب صلیبی اتحاد شکست سے دوچار فرار کے راستے ڈھونڈ رہا ہے تو وہ اپنے حلیف ناپاک فوج اور مرتد حکومت سے سخت بد گمان ہے کہ یہ لوگ ہمیں دھوگہ دے رہے ہیں اور دوغلی پالیسی چلا رہے ہیں ،اعتماد کی بحالی کے لیے ڈومور کا مطالبہ کرتے ہوئے بار بار مختلف علاقوں میں آپریشن اور دیگر اقدامات کا حکم دیتا ہے لیکن ادھر بنو قریظہ کے بچے کو اپنے مستقبل کا غم کھائے جا رہا ہے کہ یہ تو چلے جائیں گے تو اس خود سر قوم سے ہماری جان کون چھڑ ائے گا اور مختلف حیلوں اور بہانوں سے آقا کو رام کرکے ٹالنے کی کوشش میں ہے،نتیجتاً صلیبی کمانڈر شکست کا سارا ملبہ ان پر ڈال رہے ہیں خوب فرمایانبی اکرمﷺ نے:

من ارضی الناس بسخط اللہ سخط  اللہ علیہ واسخط الناس علیہ ومن اسخط الناس برضی اللہ رضی اللہ عنہ وارضی الناس عنہ ۔  ترجمہ :اور جو کوئی لوگوں کو خوش کرے اللہ کو ناراض کر کے تو اللہ تعالیٰ اس سے ناراض ہوجاتا ہے اور لوگوں کو بھی اس سے ناراض کر دیتا ہے اور جو جو کوئی لوگوں کو ناراض کرتاہے اللہ کو خوش کر کے تو اللہ تعالیٰ اس سے راضی ہو جاتا ہے اور لوگوں کو بھی اس سے راضی کر دیتا ہے۔

تندو تیز ہواؤںاور فرشتوں کے ذریعے نصرتِ خدا وندی:

اللہ تعالیٰ نے لشکرِ کفّار پرایسی آندھی چلا دی جس سے ان کے خیمے اُکھڑ گئے دیگچیاں الٹ گئیں ،جانور بھاگ گئے اور سردی نے ان کو آگھیرا جس سے وہ بھاگنے پر مجبور ہوئے،اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

يَااَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا اذْکُرُوْا  نِعْمَۃَ اللہِ عَلَیْکُمْ اِذْ جَآءَ  تْکُمْ جُنُوْدٌ فَاَرْسَلْنَا عَلَیْھِمْ رِیْحًا وَّجُنُوْدًا لَّمْ تَرَوْھَاْط وَکَانَ اللہُبِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرًا۔

ترجمہ:مومنو! اللہ کی اس مہربانی کو یاد کرو جو (اُس نے) تم پر (اُس وقت کی) جب فوجیں تم پر (حملہ کرنے کو) آئیں تو ہم نے اُن پر ہوا بھیجی اور ایسے لشکر (نازل کئے) جن کو تم دیکھ نہیں سکتے تھے اور جو کام تم کرتے ہو اللہ اُن کو دیکھ رہا ہے۔

(احزاب آیت نمبر 9(

علامہ ابنِ کثیرؒ فرماتے ہیں کہ اگر رسولِ اکرمﷺ رحمتہ العالمین نہ ہوتے تو ان پر ریح عقیم سے سخت ہَوا بھیجتےجو قومِ عاد پر بھیجی گئی تھی لیکن اللہ تعالیٰ نے فرمایا:وما کان اللہ لیعذبھم وانت فیھم۔

پس ان پر ایسی ہَوا بھیجی جس نے ان کی اجتماعیت کو توڑا اس لیے کہ ان کی اجتماعیت بھی خواہشِ نفسانی کی وجہ سے قائم ہوئی تھی جب کہ وہ مختلف گروہ اور مختلف رائے رکھنے والوں کا آمیزہ تھا پس مناسب یہ تھا کہ ان پر ایسی ہَوابھیجی جائے جو ان کے گروہوں اور جماعتوں کو الگ الگ کر دے ۔ (ابنِ کثیر 2؍577)

 یعنی ہَوا سے مقصد ان کا تفرقہ تھا نہ کہ ہلاکت، ورنہ اللہ تعالیٰ کے لیے کیا مشکل تھاکہ احزاب کا ایک فرد بھی یہاں سے بچ کر نہ جاتا، اسی طرح یہاں ابھی تک ایسی ہَوا تو نہیں چلی ہے لیکن فدایانِ اسلام کی شکل میں اللہ تعالیٰ نے ایسی آندھی ان پر چلا دی ہے جس نے اُن کے مضبوط بیس کیمپوں کو الٹ پلٹ کررکھ دیا ہے اور یہ اتنے خائف ہو چکے ہیں کہ ان کے مضبوط اتحاد میں واضح تفرقہ اور دراڑیں پڑ چکی ہیں اور شکست و فرار کی راہ میں ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی کوشش میں ہیں ،کبھی اٹلی فوجیں نکالنے کا اعلان کر تا ہے تو کبھی فرانس ،کبھی جرمنی تو کبھی پولینڈآگے بڑھ رہا ہے غرض اب ہر ایک الٹے قدموں کھڑا ہے بلکہ اب تو خود امریکہ اور اس کے ہامان برطانیہ کی فوجیں بھی دھڑا دھڑ واپس جا رہی ہیں ۔

اب جب کہ میں یہ تحریر لکھ رہا ہوں تو افغانستان میں تو نہیں لیکن امریکہ کے اندر سینڈی طوفان آکر گزر چکاہےجس نے ان کی معیشت کو پچاس ارب ڈالر سے زائد کا جھٹکا  آنِ واحد میں دے دیا ہے ، اور شاید یہ طوفان اس طوفان سے زیادہ خطرناک ہے اس لیے کہ وہ تو صرف لشکر پر آیا تھانہ کہ مکّہ میں اور اس طوفان نے ان کے ملک اور مسکن کو اُجاڑ دیا ہے ، پس الحمدللہ جس طرح طوفان وہاں آیا اسی طرح یہاں بھی اس سے بڑھ کر طوفان آیا۔

لشکر کے اندر بد اعتمادی:

تیز آندھی اور طوفان کے باعث سخت اندھیرا چھا گیا جس کی وجہ سے لشکر والے ایک دوسرے کو پہچان نہ پارہے تھے اور اس بات سے ڈر رہے تھے کہ کہیں دشمن کے آدمی ہمارے اندر داخل نہ ہو جائیں ،رسولِ اکرمﷺ کے جاسوس حضرت حذیفہؓ جو ان میں کامیابی سے داخل ہو گئے تھے فرماتے ہیں کہ ابو سفیان نے کہا : لینظر امرؤ من جلیسہ قال حذیفۃ فاخذت بید الرجل الذی الیٰ جنبی فقلت من أنت فقال فلان بن فلان۔ترجمہ :ہر آدمی دیکھے کہ اسکا ساتھی کون ہے؟ حضرت حذیفہؓ  فرماتے ہیں کہ میں نے اپنے ساتھ بیٹھے آدمی کا ہاتھ پکڑا اور اس سے کہا کہ تم کون ہو؟ تو اس نے کہا میں فلاں کا بیٹا فلاں ہوں۔(الاکتفاء بما تضمنہ من مغازی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم والثلاثۃ الخلفاء2،111۔   )

اس طرح آج بھی شیر دل فدایانِ اسلام کی آندھی اور طوفان نے ایسی تاریکی ان پر مسلط کر دی ہے کہ وہ اپنے اور غیر کی پہچان سے عاجز آگئے ہیں بلکہ اب تو انہی کے بیس کیمپوں اور اڈوں میں رہ کر فدائی جانبازان کو تاک تاک کر نشانہ بنا رہے ہیں الحمدللہ،یہاں تک کہ جنرل جان ایلن حواس باختہ ہو کر امیرالمومنین کے خلاف نا زیبا الفاظ استعمال کرنے لگااورکہا کہ قریب ہے کہ ان اندر کے حملوں سے میرا دماغ خراب ہو جائے، نیٹو نے افغان فوج کی تربیت کے آپریشن کو معطل کر دیا اور ہزاروں فوجیوں کی ازسرِنو اسکریننگ کا عمل شروع کر دیا ہے تا کہ یہ پتہ چلایا جا سکے کہ طالبان کے کونسے لوگ ہمارے اندر داخل ہو چکے ہیں ،لیکن تاحال الحمدللہ وہ اس میں ناکام ہیں اور ان شاء اللہ ناکام ونامراد ہی رہیں گے۔

لشکر(ِ احزاب ) کا انجام:

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :وَرَدَّ اللہُ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا  بِغَیْظِھِمْ لَمْ یَنَالُوْا خَیْرًاط وَکَفَی اللہُ الْمُؤْمِنِیْنَ الْقِتَالَط وَکَانَ اللہُ قَوِیًّا عَزِیْزًا۔

ترجمہ: اور جو کافر تھے اُن کو اللہ نے پھیر دیا وہ اپنے غصے میں (بھرے ہوئے تھے) کچھ بھلائی حاصل نہ کر سکے اور اللہ مومنوں کو لڑائی کے بارے میں کافی ہوا اور اللہ طاقت ور (اور) زبردست ہے ۔(احزاب آیت نمبر 25)

لشکرِ کفار اسلامی ریاست کے خاتمے کا خواب اور مؤمنین کے خلاف غم وغصے کالاوا دل میں ہی لیے بھاری جانی ومالی خسارے کے ساتھ ناکام و نامراد واپس لوٹے، بالکل اسی طرح صلیبی اتحاد بھی بحمداللہ بھاری جانی ومالی خساروں کے ساتھ واپسی کی راہ پر ہیں ، لشکر کے سردار اوبامہ نے ؁2013ءکا قوم سے وعدہ کر لیا ہے کہ فوجیں واپس بلالی جائینگی اگر واپس نہ بھی جائیں تو بھی مجاہدین اس لشکرِ دجال کو یہیں ہی دفن کرنا چاہتے ہیں۔

  اس جنگ سے ان کو جان ومال کے زیاں کے علاوہ کچھ بھی ہاتھ نہ آیا جس کا اب وہ برملا اعتراف کر رہےہیں  کہ ہم اس جنگ میں مکمل طور پر ناکام رہے ،سابق نیٹو کمانڈر ڈیوڈ پٹریاس کے مشیر کی کتاب ایکسیڈنٹل (حادثاتی) گوریلا اس ناکامی پر تحریری گواہ ہے ۔

مجاہدین  اسلام کی بیخ کنی کا عزم لیے امارت ِاسلامی افغانستان پر چڑھ دوڑنے والوں کو کیا پتہ تھا کہ اس جنگ کے نتیجے میں خلافت اسلامیہ علی منہاج النبوۃ کی یہ مبارک تحریک جنگ کے اختتام تک دنیا کے کونے کونے میں پہنچ چکی ہوگی۔ آج الحمد للہ اسلامی نظام کا شعار لیے مجاہدین  پاکستان سمیت کئی ممالک میں باقاعدہ کفار و مرتدین کے خلاف برسر پیکار ہیں۔ صومالیہ ،  یمن،  شام، عراق،  چیچنیا،  مالی ،  لیبیا،  نائیجریا ،  الجزائر اور موریطانیہ سمیت کئی ممالک سے فتوحات کی بشارتیں مومنین کے دلوں کو ٹھنڈک پہنچارہی ہیں۔

 اسلامی نظام ِخلافت کے خاتمے کی آرزوئیں ان کے دلوں میں ہی رہ گئیں اور سرفروشان اسلام کے خلاف دلوں میں بھرا غصہ دل میں ہی لیے بغیر کسی فائدے کے خائب وخاسر واپس جارہے ہیں فالحمد للہ رب العالمین ۔

آئندہ ہم ان پر حملے کریں گے، ان میں ہم پر حملے کی جرات نہیں ہوگی:

لشکر کفار کے بھاگ کھڑے ہونے کے ساتھ اللہ تعالیٰ اور اس کے نبی ﷺ کامومنین کے ساتھ کیا ہوا فتح کا وعدہ پورا ہوا ، کفار کے خلاف اس عظیم اور تاریخی فتح کے مبارک موقع پر رسول اکرم ﷺ نے مومنین کو ایک اور عظیم خوشخبری سناکر ان کی خوشیوں کو دوبالا کردیا فرمایا: الئٰن نغزوھم ولایغزوننا ونحن نسیر الیھم۔

 ترجمہ:  اب ہم ان سے لڑیں گے اور یہ ہم سے نہیں لڑیں گے اور ہم ان سے (جنگ ) کے لیے جائیں گے۔(بخاری کتاب المغازی باب غزوۃ خندق وھی الاحزاب)

 آپ  ﷺ کی بشارت کے عین مطابق کفار مکہ کے حوصلے ٹوٹ گئے اور آئندہ انہوں نے آگے بڑھ کر مدینہ پر حملے کی جرات کبھی نہیں کی، بلکہ آپ ﷺ نے ان پر متواتر حملوں کا سلسلہ جاری رکھا یہاں تک کہ مکہ مکرمہ فتح ہوا، کفر کا اتحاد ٹوٹ کر بکھر گیا اور یکے بعد دیگرے کفار کے علاقے مفتوح ہوئے اور ہر طرف اسلام کا علم لہرانے لگا،  فالحمد للہ رب العالمین ۔ اور اب صلیبی لشکر کی شکست و فرار کی احزاب کے شکست و فرار کے ساتھ واضح مشابہت سے ہم یہ نیک فال پکڑتے ہیں کہ ان شاء اللہ اب آئندہ ہم ان کے علاقوں پر حملے کریں گے اور ان کے ملکوں میں داخل ہوجائیں گے ، ان میں آئندہ ہم پر حملوں کی اور ہمارے علاقوں میں داخل ہونے کی جرات نہیں ہوگی اس لیے کہ یہ شکست صرف امریکہ نہیں بلکہ پورے عالم کفر کی بدترین شکست ہے ، الحمد للہ اس شکست نے مکمل جانی ومالی خسارے کے ساتھ ان کے حوصلوں کو بھی توڑ کر رکھ دیا ہے۔

دنیا کے کونے کونے سے فدائیان ِاسلام اور شیر صفت مجاہدین کی کاروائیاں اب ببانگِ دہل یہ صدائیں دے رہی ہیں کہ اب کفری اتحاد نیٹو کی شکل میں ہو یا اقوام متحدہ کی شکل میں اس کے ٹوٹ کر بکھرنے کا وقت آ پہنچا ہے اور اب ان شاء اللہ اس ملحد صیہونی ادارے کی جگہ عظیم تر اسلامی خلافت کا قیام ہوگا اور شریعت کا پاکیزہ نظام اللہ کی زمین کو امن سے بھردےگا اور ان دجالوں کا مکر و فریب ضائع اور بیکار ہوگا:

’’ وَقَدْ مَکَرُوْا مَکْرَھُمْ وَعِنْدَ اللہِ مَکْرُھُمْط وَاِنْ کَانَ مَکْرُھُمْ  لِتَزُوْلَ مِنْہُ الْجِبَال فَلَا تَحْسَبَنَّ اللہَ مُخْلِفَ وَعْدِہٖ رُسُلَہٗطاِنَّ اللہَ عَزِیْزٌ ذُوانْتِقَام۔

ترجمہ: اور انہوں نے (بڑی بڑی)  تدبیریں کیں اور ان کی (سب)تدبیریں اللہ کے ہاں (لکھی ہوئی) ہیں گو وہ تدبیریں ایسی (غضب کی) تھیں کہ ان سے پہاڑ بھی ٹل جائیں توایسا خیال نہ کرنا کہ اللہ نے جو اپنے پیغمبروں سے وعدہ کیا ہے اُس کے خلاف کرے گا بیشک اللہ زبردست (اور) بدلہ لینے والا ہے۔(ابراہیم آیت نمبر 46۔47)

بنوقریظہ کا بدترین انجام:

’’وَاَنْزَلَ الَّذِیْنَ ظَاھَرُوْھُمْ مِّنْ اَھْلِ الْکِتٰبِ مِنْ صَیَاصِیْھِمْ وَقَذَفَ فِیْ قُلُوْبِھِمُ الرُّعْبَ فَرِیْقًا تَقْتُلُوْنَ وَ تَاْسِرُوْنَ فَرِیْقًاج وَاَوْرَثَکُمْ اَرْضَھُمْ وَدِیَارَھُمْ وَاَمْوَالَھُمْ وَاَرْضًالَّمْ تَطَؤُھَاط وَکَانَ اللہُ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیْرًا۔

ترجمہ:  اور اہلِ کتاب میں سے جنہوں نے اُن کی مدد کی تھی اُن کو اُن کے قلعوں سے اتار دیا اور اُن کے  دلوں میں دہشت ڈال دی تو کتنوں کو تم قتل کر دیتے تھے اور کتنوں کو قید کر لیتے تھے اور اُن کی زمین اور اُن کے گھروں اور اُن کے مال اور اُس زمین کا جس میں تم نے پاؤں بھی نہیں رکھا تھا تم کو وارث بنا دیا اور اللہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے ۔(احزاب آیت نمبر26۔27)

لشکر کفار کے بھاگ کھڑے ہونے کے بعد اب یہود بنو قریظہ کو اپنی عہد شکنی کا مزہ چکھنا تھا چنانچہ نبی اکرم ﷺ نے اللہ کے حکم پر جو جبریل علیہ السلام لائے تھے بنوقریظہ یہود کا محاصرہ کیا، وہ اپنے قلعے میں تھے اور باہر نہیں آتے تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت سعدبن معاذ رضی اللہ عنہ کو بلایا انہوں نے ان کوحکم دیا کہ وہ قلعوں سے اتر جائیںچنانچہ وہ اتر گئے پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے بارے میں حضرت سعد کو اختیار دیا کہ وہ فیصلہ کرے سعد رضی اللہ عنہ نے ان کے بارے میں ایک تاریخی فیصلہ سنا یا جو سیرت اوراحادیث کی کتابوں میں محفوظ ہے چنانچہ ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے:

نزل اھل قریظۃ علیٰ حکم سعد بن معاذ فارسل النبی صلی اللہ علیہ وسلم الیٰ سعد فاتی بحمار فلما دنا المسجدقال للانصار قوموا الیٰ سیدکم او الیٰ خیرکم ۔فقال هٰؤلاء نزلوا علیٰ حکمک قال تقتل مقاتلتھم وتسبی ذراریھم فقال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قضیت بحکم اللہ وربما قال بحکم  الملک۔(بخاری کتاب المغازی باب غزوۃ خندق وھو الاحزاب۔)

ترجمہ : اہل قریظہ حضرت سعد بن معاذ کے حکم پر اتر گئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت سعد کی طرف ایک قاصد بھیجا پس و ہ ایک گدھے پرسوار لائے گئے ( اس لیے کہ وہ زخمی تھے )، جب وہ مسجد کے قریب پہنچ گئے تونبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار کو فرمایا کہ اپنے سردار یا تم میں سے بہترین انسان کے لیے کھڑے ہوجاؤپھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ لوگ آپ کے امر پر اتر گئے حضرت سعد نے فرمایا ان میں سے لڑنے کے قابل تمام لوگوں کو قتل کرو اور ان کے اہل وعیال کو گرفتار کرو تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم نے اللہ کے حکم پر فیصلہ کیا یا یوں فرمایا تم نے بادشاہ کے حکم پر فیصلہ کیا۔

بالکل اسی طرح یہود کا کردار ادا کرنے والی پاکستان کی مرتد حکومت و فوج کی تباہی و بربادی کی ہم اللہ تعالیٰ سے امید رکھتے ہیں کہ ان شاء اللہ ان کا حال بنو قریظہ سے مختلف ہرگز نہیں ہوگا ، مجاہدین  ان کے مضبوط قلعوں اور اڈوں میں گھس گھس کر ان کوماریں گے اور زنجیروں میں باندھ باندھ کر ان کو گرفتار کریں گے اور( الجزاء من جنس العمل کے مطابق) جس طرح انہوں نے ہمارےعلماءومجاہدین کو سڑکوں پر گھسیٹ گھسیٹ کر شہید کیا ہے ہم بھی ان کو گلیوں میں گھسیٹیں  گے اور چوکوں پر لٹکاکر نشان عبرت بنائیں گے۔انشاءاللہ

یہود کے غلاموں کا مستقبل ہمیں بہت قریب نظر آرہا ہے ، یہ بدبخت اب حیران و پریشان ہیں کہ صلیبی لشکر کی واپسی کے بعد ہمارا کیا بنے گا؟ اور مختلف طریقوں سے اس جنگ سے جان چھڑانے کی کوشش کر رہے ہیں کبھی دھمکی اور کبھی مذاکرات کی دعوت اور کبھی امن اور معافی کی پیشکش۔۔۔۔۔لیکن اب کیا کیا جائے اس کمبل کا جس کو یہ چھوڑنا چاہتے ہیں لیکن کمبل ان کو چھوڑنے کے لیے کسی طور تیار نظر نہیں آتا۔

اب وہ جنگ جو انہوں نے ڈالروں کی چمک دیکھ کر امارت ِاسلامی اور قبائل میں موجود انصار و مہاجرین پر مسلط کردی تھی خود ان کے گھروں میں داخل ہوچکی ہے،  اس کی تپش نے ان کو  جھلساکر رکھ دیا ہے اور اب الحمد للہ وہ وقت نہایت قریب ہے کہ جب خراسان و ہندوستان ایک ساتھ فتح ہوجائیں،

 میرے عزیز بھائیو !پاکستان میں جاری جنگ دراصل مخبرِصادقﷺ کی غزوہ ہندوالی پیشن گوئی کی مبارک جنگ ہے اس لیے کہ پاکستان دراصل اسلامی ہند کا ہی حصہ ہے، حدیث مبارک میں اس پورے خطے پر ہند کا اطلاق آیا ہے،

لہٰذا ہم اس بات پر نہایت فرحاں و شاداں ہیں کہ ہمیں ایک ہی وقت میں خراسان و ہندوستان دونوں کی مبارک جنگوں کی فضیلت حاصل ہورہی ہے، احادیث مبارکہ میں ان جنگوں کی بڑی فضیلتیں وارد ہوچکی ہیں ( ان کے ذکر سےمضمون کا اختصار مانع ہے) اس جنگ میں ان مرتدین کا کردار یہود بنو قریظہ سے بدتر تھالہٰذا ان کا انجام بھی ان سے ان شاء اللہ بدترین ہوگا، عنقریب مجاہدین ان کو زنجیروں میں باندھ باندھ کر گرفتار کریں گے اور سڑکوں پر گھسیٹ گھسیٹ کر ان کو قتل کریں گے انشاء اللہ۔

بنو قریظہ کے تمام لوگ گرفتار ہوئے ،اورسات سو سے آٹھ سو کے درمیان تمام بالغ افراد قتل ہوئے، ان کے اموال غنیمت ہوئے، اسی طرح ان غداروں کا بھی انجام ہو گا۔

اس موقع پر آپ ﷺ کی وہ مبارک حدیث یاد آئی جس کو امام اسحاق بن راھویہ نے اپنی مسند میں نقل کیا ہے ، حضرت ابو ھریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ :  ذکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یوما الھند فقال لیغزون جیش لکم الھند فیفتح اللہ علیھم حتی یأتوا بملوک السند مغلغلین فی السلاسل فیغفراللہ لھم ذنوبھم فینصرفون حین ینصرفون فیجدون المسیح بن مریم بالشام۔ترجمہ :  ایک دن رسول اللہ ﷺ نے ہند کا ذکر فرمایا اور فرمایا کہ ضروربالضرور تمہارا ایک لشکر ہندوستان سے جنگ کرے گا پھر اللہ تعالیٰ ان کو فتح نصیب فرمائیں گے یہاں تک کہ وہ سندھ (ہند) کے بادشاہوں کو زنجیروں میں جکڑ کر لائیں گے پھر اللہ تعالیٰ مجاہدین  کے تمام گناہ معاف فرمائیں گے پس وہ واپس ہوجائیں جب وہ واپس ہوجائیں گے پھر وہ شام میں عیسیٰ بن مریم علیھما السلام کو پا لیں گے۔ ( مسند اسحاق بن راہویہ حدیث 537)

اس حدیث پاک میں کی گئی پیشن گوئی اور بنو قریظہ کے انجام کے عین مطابق ان شاء اللہ ان غداروں کا انجام ہونے والا ہے، جنگ احزاب کے موقع پر جس طرح غربت و افلاس کے مارے مسلمانوں نے بنو قریظہ کے اموال سے سیر ہوکر کھایا اسی طرح ان مرتدین کے اموال سے یہ غریب مجاہدین  ان شاء اللہ خوب سیر ہوکر کھائیں گے اور جس طرح لشکروں کے جاتے ہی بنو قریظہ انجام بد سے دوچار ہوئے اور پھر مکہ مکرمہ فتح ہوا اسی طرح صلیبی لشکر کے جاتے ہی ہم کسی کافر ملک پر حملے سے قبل ان مرتدین کو دبوچ لیں گے۔ ان شاء اللہ

میرے عزیزو! یہ فقط مشابہت کے قرینے کی وجہ سے ایک بشارت ہے جبکہ حقیقت کا علم اللہ ہی جانتا ہے ۔۔۔۔۔ ہم اللہ سے خیر کی امید رکھتے ہیں اور اس کی دعا مانگتے ہیں،

وَلَا تَایْئَسُوْا مِنْ رَّوْحِ اللہِ ط اِنَّہٗ لَا یَایْئَسُ مِنْ رَّوْحِ اللہِ اِلَّا الْقَوْمُ الْکٰفِرُوْن۔

ترجمہ:اور اللہ کی رحمت سے ناامید نہ ہوں  کہ اللہ کی رحمت سے بے ایمان لوگ ناامید ہوا کرتے ہیں ۔

التجاء :

 میرے پیارے مسلمان بھائیو! اب وقت آگیا ہے کہ ہم اپنے آپ کوپہچان لیں ،ہم کون ہیں ؟ الحمد للہ ہم اس امت کا جزو ہیں جس امت کو خیر الامم کہا گیا ہے اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کنتم خیر امۃ اخر جت للنا س تأمرون بالمعروف وتنھون عن المنکراور خیر الرسل کے امتی ہیں،  ایک مسلمان کے لیے اپنی قوم ،قبیلہ اور وطن پر فخر کرنے سے بڑھ کر فخر کی بات یہ ہے کہ وہ ایک مسلمان ہے اور اللہ تعالیٰ نے اس کو ایمان اور اسلام کے بہترین سرمایہ سے مالا مال کیا ہے اور اس کو فخر کرنا چاہئے کہ وہ اس نبی کے امت میں پید ا ہوا ہے جس کی امت میں پیداہونے کی تمناء بعض انبیاء علیہم السلام نے بھی کی ہے ۔ قومیت آپ کو چند لاکھ افراد سے جوڑ سکتی ہے وہ بھی پھر آگے قبیلوں میں جا کر تقسیم ہو جاتی ہے اور وطنیت ایک مخصوص رقبہ پر موجودلوگوں سے ہی جوڑتی ہے جبکہ الحمد للہ ایمان اور اسلام مشرق سے لے کر مغرب تک اور شمال سے لیکر جنوب تک مسلمانوں کو باہم ایسے جوڑتا ہے کہ وہ ایک قوم اور ایک قبیلے کی مانند نہیں بلکہ ایک جسم  کی مانند ہو جاتے ہیں بخار ی شریف میں روایت ہے،حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سناہے:تری المؤمنین فی تراحمھم وتوادھم وتعاطفھم کمثل الجسد اذاشتکی عضو تداعیٰ لہ سائر جسدہ بالسھر والحمیٰ۔

ترجمہ: تم مومنوں کو ایک دوسرے پر رحم کرنے اور ایک دوسرے سے محبت اور نرم برتاؤ کرنے میں ایسا پاؤ گے جیسا کہ ایک جسم جب اسکا ایک عضو دکھتا ہے تو پورا جسم اس کے ساتھ شبگیری اور بخار میں مبتلا ہوتا ہے ۔

ایک وقت تھا جب ہم دنیا پر حکومت کرتے تھے تو ایک مسلمان عورت کی فریاد پر عرب سے مسلمانوں کا سپہ سالار محمد بن قاسم ؒ لشکر لے کر پورے سندھ اور ہند کو فتح کر لیتا ہے لیکن ہم آج جب اپنی حیثیت بھول گئے تو جانوروں سے بدتر کفار کے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں اولٓئک کا الانعام بل ھم اضل، آج کل کے سیکولراور سوشلسٹ لوگ جو ہمارے اوپر مسلط ہیں یہ تو ڈارون کے نظریہ پر یقین رکھنے والے ہیں جس کا نظریہ یہ ہے کہ انسان کی ابتدا بندرسے ہوئی ہے تو جو قوم اپنے آپ کو اور ہمیں  بندر کی اولاد تصور کرتی ہو کیا اس سے یہ توقع ممکن ہے کہ وہ ہمیں انسانی حقوق دے گی ، وہ تو انسان کو آزادی کی آڑ میں جانوروں کی صف میں کھڑا کرتا ہے کیا کسی انسان کومکمل طور پر اس کی خواہشات نفسانی کے حوالے کر دینا انسانی حق ہے یا حیوانی؟ لیکن آج انسانی حقوق کے علمبردار انسان کو درندوں کی صف میں کھڑا کرکے اسے وہ سب کچھ دیتا ہے جو انسان ہونے کے ناطے کسی انسان کو ہرگز زیب نہیں دیتا ،جنسی آزادی اور ہم جنس پرستی کے قانون پاس کرنے والے ممالک اور ان کے بڑ ے خدا اقوام متحدہ کو اس بات پر ناز ہے کہ انہوں نے انسان کو انسانی حقوق دیے ہیں لیکن درحقیقت یہ ڈارون کے انسان ملعون بندر کے حقوق ہیں نہ کے اشرف المخلوقات انسان کے۔

کل ایک مظلوم عورت کی خاطر پورے ملک پر حملے کرنے والے آج اتنے بے غیرت کیونکرہو گئے کہ خود اپنی بیٹی کو چند ڈالروں کے عوض غیروں کے ہاتھوں فروخت کر دیتے ہیں اور اپنےہی بھائیوں کو گمشدہ ولاپتہ کر دیتےہیں کوئی جانور بھی ایسے کردار کا نہیں سوچ سکتا،ہرن جیسا کمزور جانور بھی اپنے بچوں کے دفاع میں شیر کا شکار بننا قبول کرتا ہے لیکن جیتے جی اپنے بچے شیر کے حوالے نہیں کرتا،جاہلیت اولیٰ کے تاریک دور میں بھی ایسی مثالیں نہیں ملتیں  جس میں لوگ اپنے بیٹوں کا سودا کرتے ہوں، کیا اس طرح کے کردار ادا کرنے والے اس باغیرت امت کے فرد ہو سکتے ہیں؟  جن میں محمد بن قاسم اور طارق بن زیاد جیسے سپہ سالار گزرے ہیں ،کیا ان لوگوں کا اس قرآن سے کوئی تعلق ہے جو ہمیں غیرت اور حمیت کا درس دیتا ہے ؟ کیا ا ن کا اس رسولﷺ سے کوئی رشتہ ہے جس کی غیرت اگر پوری دنیا پر تقسیم کی جائے تو ان سب سے بڑھ کر ہوگی ؟کیاان کا ہمارے ان اسلاف سے کوئی رشتہ ہے جو ایک عورت کی خاطر ایسے لشکربھیجتے جن کے قدموں کے غبار سے آسمان نظر وں سے غائب ہوجا      تا تھا ؟ اگر یہ لوگ ہم میں سے نہیں تو پھر یہ کون ہیں اور یہ کہاں سے آئے ہیں ۔

خلافت اسلامیہ کا انہدام اور مغربی جمہوریت کا قیام ایک ایسا امر ہے جس نے ہم کو اندھا اور بہرہ کیا جو ہمارے اندر غیروں کو لے آیا اورہمیں یہ باور کرایا گیا کہ یہ ہم میں سے ہیں اور یہ ہمار ے لیڈر ہیں لیکن درحقیقت وہ اغیار کے آلہءکار،انکے وفادار اور ہمارے قاتل تھے،ہمارے اوپر تسلط حاصل کر کے ہمارے ہی دفاع کے نام پر انہوں نے وہ سیاہ کارنامے انجام دیے جو اس قوم کا رہتی دنیا تک سر شرم سے جھکا کر رکھیں گے ،خلافت کا فقدان ہر برائی کی جڑ ہے، امت میں تفرقہ پیدا کرنے اور ان کو مختلف جماعتوں اور گروہوں میں تقسیم کرنے کا واحد سبب ہے اس لیے اب جب کہ کفری اتحاد ان شاء اللہ ٹوٹنے والا ہے ،احزاب کفار واپس جانے والے ہیں اورا ن کے حواری اپنے انجام کو پہنچنے والے ہیں امت کے ہرفرد پر فرض ہے کہ وہ:

  1. اسلامی خلافت کے قیام کے لیے مکمل طور پر کوشش کرے اور اس کو شش میں اپنا حصہ ڈالے چاہے وہ ایک عالم ہو ،یا تاجر ،زمیندار ہو یاڈاکٹر اس لیے کہ اسلامی خلافت کا قیام ایک فریضہ ہے اوراس فریضے کے قیام کے بغیر ہم سب اللہ کے دربار میں گناہگار ہوں گے ۔
  2. اس امر کے لیے امت میں اتحاد ناگزیر ہے ،الحمد للہ آج دنیا کے کونے کونے میں جوتحریکیں اس نظام کے قیام اور کفری نظام کے خاتمے کے لیے جاری ہیں ان کے درمیان ایک مضبوط رسی امارت اسلامی افغانستان ہے جس پر تمام مجاہدین کو اعتماد ہے اللہ تعالیٰ ان کو شرعی خلافت علیٰ منہاج النبوۃ قائم کرنے کی توفیق عطافرمائے، آمین، اب پوری دنیا کے مسلمانوں کو اس امر کے لیے اتحاد کا مظاہرہ کرنا ہوگا اسلام وہ نقطہ ہے جو قوم وطن کے تفرقوں کو مٹا کرہمیں باہم جوڑتا ہے، ہمارا تعلق مشرق سے ہو یا مغرب سے ہم سب ایک دوسرے کے بھائی ہیں،( اس لیے کہ اسلامی خلافت تب ہوتی ہے جب خلافت سے پہلے اسلامی تو ہو اوراسلامی کا لفظ ہم باوجود اس کے کہ کس قوم سے کس وطن سے اور کس زبا ن سے تعلق رکھتے ہیں باہم جوڑتا ہے اور اسلام ہے جو نہ مشرقی ہے اور نہ مغربی بلکہ مشرق والا مسلمان مغرب والے کا بھائی ہے اور مغرب والا مشرق والے کا اب ہم ایک ہیں اور ایک ہوں گے انشاء اللہ) ۔
  3. اسلام کی نشاة  ثانیہ کے لیے جس طر ح عملی حرکت کی ضرورت ہے اسی طرح پوری قوت سے علمی حرکت کی ضرورت ہےکیونکہ اسلام ایک عملی منہج ہونے کے ساتھ ایک علمی منہج بھی ہے ،پس علماء کرام کوچاہیے کہ مسلمانوں اورخصوصاً مجاہدین کو اسلامی نظام کے تنفیذکی ضرورت و اہمیت اور اسکا  صحیح طریقہ سکھائیں اور ساتھ ساتھ عملی تحریک بھی چلائیں ۔
  4. چونکہ باطل نے اسلام کو مٹانے کے لیے اور اس نظام کو ختم کرنے کے لیے تلوار اٹھائی ہے پرامن طریقے سے اسلام کا مطالبہ کرنے والوں پر مساجد ومدارس پر چڑھائی کرکے ان کو رکوع وسجود کی حالت میں شہید کیا لہٰذا اب ا ن کے خلاف تلوار اٹھانا ناگزیر ہے اور اب تلوار ہی ہے جو اس دین کا دفاع کرسکتی ہے ،اس لیے اب مسلح تحریک ہی چلانی ہو گی ۔
  5. جیسا کہ اسلام کی بنیاد ایک کلمہ لاالہ الا اللہ پر ہے ،اور کوئی بھی عمل بغیر لاالہ الا اللہ کے قبول نہیں ہوتا ہے ،نمازصرف اللہ کےلیے پڑھی جائے توقبول ہوتی ہے لیکن اگر کسی دوسرے کو بھی اس میں اللہ کے ساتھ شریک کیا جائے تو وہ نماز قبول نہیں ہو پاتی بلکہ الٹا وہ نماز اس کو جہنم کے گھڑے میں ڈالنے والا عمل ہوگا، اسی طرح زکوۃ اور دوسرے اعمال بھی لا الہ الا اللہ کے معیار پر مقبول اور مردود ہو نگے ،پس اسلامی نظام بھی لاالہ الا اللہ کے معیار پر ہی اسلامی ہوگا اگر ایسانہیں تو پھر اسلامی نہیں ہوگا ، اقوام متحدہ کے نام سے قائم کی گئی یہودی حکومت جو اناربکم الاعلیٰ کی دعویدار ہے اور اس کی تمام حکومتوں کے اوپر حکومت مسّلم ہے اس سے بغاوت کرکے اس کے خلاف لڑنا ہو گا کیونکہ اسلامی فکر ایک اسلامی حکومت کے اوپرکسی کفری حکومت کو ہر گز تسلیم نہیں کرتی، الاسلام یعلو ولایعلیٰ ۔
  6. اس منزل کو طے کرنے کے لیے اپنی انفرادی زندگی میں دین کو لانا ہوگا اس لیے کہ اپنے جسم پر ہماری حکومت اختیاری ہے اگر ہم اپنے اس  جسم  میں اسلام کو نافذ کریں تویہ اس بات کی علامت ہوگی کہ ہم اجتماعی سطح پر اسلامی نظام کے نفاذ میں سچے ہیں ، کیونکہ قومی انقلاب، شخصی انقلاب پر موقوف ہے اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: اِنَّ اللہَ لَا یُغَیِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتّٰی یُغَیِّرُوْا مَا بِاَنْفُسِھِم۔

آئیے  !اب اس مقصد کے حصول کے لیے ایک ہوجائیں تاکہ دنیا وآخرت میں کا میابی حاصل کرسکیں ۔

اللہ تعالیٰ ہم سب کو اپنے دین پر استقامت نصیب فرمائیں۔ آمین۔

اللهم منزل الكتاب، سريع الحساب، اهزم الاحزاب، اللهم اهزمهم وزلزلهملااله الا الله وحده اعز جندہ ونصر عبده وغلب الاحزاب وحده فلاشيُ بعدہ۔

About umar

Check Also

مضمون نمبر 40 جہاد فی سبیل اللہ کی دو اقسام کی وضاحت

مکتبۃ عمر کی جانب سے پیش خدمت ہے اعلائے کلمۃ اللہ کی خاطر جان کی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے