سورہ احزاب کے سائے تلے مشابہت وبشارت قسط اول شیخ ابو محمد خالد حقانی شہید رحمہ اللہ


مکتبۃ عمر کی جانب سے پیش خدمت ہے
اعلائے کلمۃ اللہ کی خاطر جان کی بازی لگانے والے ابطال کے قلم سے لکھے گئے تلخ وشیریں، سنہرے الفاظ سے بھرپور مضامین کا سلسلہ بعنوان نورِھدایت

مضمون نمبر 24

سورہ احزاب کے سائے تلے مشابہت وبشارت قسط اول
شیخ ابو محمد خالد حقانی شہید رحمہ اللہ

نوٹ:تحریر کو ٹیلی گرام پر پڑھنے کیلئے
https://t.me/nh_channel01

آرکائیو ڈاونلوڈ لنک
https://archive.org/download/1_20200417_20200417_1156/%D9%85%D8%B4%D8%A7%D8%A8%DB%81%D8%AA%20%D9%88%D8%A8%D8%B4%D8%A7%D8%B1%D8%AA%20%D8%B3%D9%88%D8%B1%DB%81%20%D8%A7%D8%AD%D8%B2%D8%A7%D8%A8%20%DA%A9%DB%92%20%D8%B3%D8%A7%D8%A6%DB%92%20%D8%AA%D9%84%DB%921.pdf

پی ڈی ایف پی ڈاونلوڈ لنک
http://www.mediafire.com/file/kazdjv7szntia1j/%25D9%2585%25D8%25B4%25D8%25A7%25D8%25A8%25DB%2581%25D8%25AA_%25D9%2588%25D8%25A8%25D8%25B4%25D8%25A7%25D8%25B1%25D8%25AA_%25D8%25B3%25D9%2588%25D8%25B1%25DB%2581_%25D8%25A7%25D8%25AD%25D8%25B2%25D8%25A7%25D8%25A8_%25DA%25A9%25DB%2592_%25D8%25B3%25D8%25A7%25D8%25A6%25DB%2592_%25D8%25AA%25D9%2584%25DB%25921.pdf/file

ون رار فائل لنک(جس میں پی ڈٰی ایف اور ورڈ دونوں فائلز موجود ہیں)

http://www.mediafire.com/file/ikraoxgs4jtkig4/24%25D9%2585%25D8%25B4%25D8%25A7%25D8%25A8%25DB%2581%25D8%25AA_%25D9%2588%25D8%25A8%25D8%25B4%25D8%25A7%25D8%25B1%25D8%25AA_%25D8%25B3%25D9%2588%25D8%25B1%25DB%2581_%25D8%25A7%25D8%25AD%25D8%25B2%25D8%25A7%25D8%25A8_%25DA%25A9%25DB%2592_%25D8%25B3%25D8%25A7%25D8%25A6%25DB%2592_%25D8%25AA%25D9%2584%25DB%2592_1.rar/file

@umarmedia

https://t.me/nashir_umedia_bot

https://umarmediattp.co

#TTP

#Umar_Media

…………………………………………………….

مشابہت وبشارت سورت احزاب کے سائے تلے قسط اول     

شیخ ابو محمد خالد حقانی شہید رحمہ اللہ

جس طرح دنیا اضداد کا مجموعہ ہے اسی طرح دنیا نظائر ،امثال اور اشباہ کا بھی مجموعہ ہے ، کوئی شے ایک شے کے مشابہ ہے تو کوئی دوسری چیز سے مشابہت رکھتی ہے ،کبھی ایک واقعہ کسی ایک سانحہ کی نظیرہوتی ہے ، تو کوئی حادثہ کسی دوسرے نازلہ سے مماثلت رکھتا ہے ، یہی وجہ ہے کہ استدلال کے لئے استعمال ہونے والے قیاس تین قسم کے شمار کیےگئے ہیں 1۔قیاس ِعلت 2۔قیاس ِدلالت 3۔ قیاس ِشبہ ۔ اور امام ابن نجیم رحمہ اللہ نے تواپنی کتاب کو الاشباہ والنظائر کے نام سے موسوم کیا ہے اور کبھی توشریعت نے تشبہ کو اتنی زیادہ  اہمیت دی  ہے کہ کسی باطل قوم سے تشبہ اختیار کرنے والے کو انہی میں شمار کیا ہے”من تشبہ بقوم فھومنھم“،اورنیکو کار لوگوں سے مشابہت اختیارکرنے والے کو نیکوکاروں میں شمار کیا ہے ۔موسیٰ علیہ السلام کے مقابلے میں نکلنے والے جادوگروں کی ہدایت کی ایک وجہ علماء نے یہ بھی بیان کی ہے کہ انہوں نے موسیٰ علیہ السلام کی طرح لباس اور کپڑے پہنے ہوئے تھے۔

جس طرح مشابہت تشریعی امور میں ہوتی ہے اور تشبہ کی وجہ سے حکم مشبہ بہ (جس سے مشابہت کی جائے)     سے مشبہ(جو مشابہہ کرے) کی طرف منتقل ہوتا ہے اسی طرح کبھی تکوینی امور میں بھی مشابہت پائی جاتی ہے اور یہ مشابہت اس بات پر قرینہ اور فال ہوتا ہے کہ ممکن ہے یہ واقعہ بھی اپنی نظیر کی طرح ہو جائے ،اسی لئے کہا جاتا ہے لکل فرعون موسیٰ کہ ہر فرعون کے مقابلے میں موسیٰ ہوتا ہے، یعنی جس طرح کوئی فرعون کی طرح ظلم وبربریت اور انسانوں کو اپنا غلام بنانے کے لئے نکلتا ہے تو اللہ تعالیٰ کی یہ سنت ہے کہ وہ موسیٰ علیہ السلام کی طرح  اولوالعزم اور حق گو شخص کو ایسے شخص کے مقابلے میں بھیجتا ہے ۔تکوینی امور میں موجودیہ تشبیہ کسی مظلوم قوم کو بشارت دیتی ہے( جس پر کسی ظالم کی طرف سے کو ہ ِظلم ٹو ٹ پڑا ہو) کہ وہ مایوس نہ ہو،  سنت ربانی کے مطابق اللہ تعالیٰ ان کی مدد کریگا اور اگر یہ ہمت نہ ہاریں  تو اللہ تعالیٰ  ان میں سے اس ظالم کے لئے کو ئی موسیٰ ضرور پیدا فرمائے گا ،یہ تشبہ اور مشابہت کی ایک مثال ہے کہ کسی ظالم کا ظلم جب عروج پر پہنچتا ہے اور اس کی حالت فرعون جیسی ہوجاتی ہے تو اللہ تعالیٰ تکوینی طور پر اس ظالم کے زورکو توڑنے کے لئے کسی نہ کسی شخص کو ضرور بھیجتا ہے یہاں پر فرعون کے ساتھ مشابہت پرحکم مرتب ہو اکہ موسیٰ آئے گا ،

اور اس کی ایک اور مثال یہ ہے کہ طالوت کے ساتھی جالوت کے مقابلے میں صرف 313 تھے اور اللہ تعالیٰ نے ان کی مدد کی اسی طرح بدر میں رسول اللہﷺ کے ساتھی ابو جہل کے مقابلے میں 313تھے اور اللہ نے آپﷺ کی بھرپور نصرت فرمائی ۔

اسی طرح بعثت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اوائل(شروع کے ایام) میں جب فارس نے روم کو فتح کیا تھا تو مشرکین نے اس سے فال نکالا کہ جس طرح ہمارے فارسی بھائی رومیوں پر غالب آگئے اسی طرح ہم بھی تم پر غالب آ    ئیں گے یہ اس لئے کہ مشرکین مکہ کی مشابہت فارسیوں سے تھی کیونکہ وہ بتوں کی پوجا کرتے تھے اور فارسی آگ کو سجدہ کرتے تھے اور رومیوں کی مشابہت فارسیوں کی نسبت مسلمانوں سے تھی ا اس لیے  کہ وہ بھی اہل کتاب تھے اورمسلمان ان کی کتاب اور پیغمبر ﷺکو مانتے تھے اور مسلمانوںکے پاس بھی اللہ کی کتاب تھی ،تو جب انہوں نے فارس کی فتح سے فال نکالا کہ ہم غالب ہوںگے تو اللہ تعالیٰ نے سورہ  روم نازل فرمائی کہ نہیں اہلِ فارس توعنقریب شکست کھائیں گے اور حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ نے ابی بن خلف سے شرط لگائی کہ تھوڑے ہی عرصے میں رومیوں کو دوبارہ فتح حاصل ہو گی اور فارس شکست کھائے گاپس تمہارا یہ فال ٹھیک نہیں ہے اس لئے کہ اگر چہ تمہاری مشابہت تو فارسیوں سے ہے لیکن ان کی فتح عارضی ہے اور اصل فتح ان کے خلاف روم کو ہی ہوگی ۔ لطف کی بات یہ ہے کہ جب مسلمانوں نے ہجرت کے دوسرے سال اہل مکہ کو میدان بدر میں شکست فاش دی اور مسلمان بدر کی خوشیاں منارہے تھے، عین انہی ایام میں روم نے فارس کو شکست د ے دی اور فارسی بھاگ گئے اور قرعہ فال مسلمانوں کے حق میں نکلا ،یہاں بھی اقوام کی مشابہت کی وجہ سے  فریقین نے اپنے لئے فال نکالا لیکن مسلمانوں کا فال صحیح نکلا اور کفار کاغلط، وہاں پر ہم جو نیک فالی نکالنے کی بات کرتے ہیں تو وہ روم کی فتح کی نہیں ہے اس لئے کہ وہ تونصِ قرآن سے ثابت تھی ، وہاں پرنیک فالی کفار کے مقابلے میں انہو ں نے فارس کی فتح سے اپنی فتح نکالا تھاجبکہ مسلمان روم کی فتح سے اپنی فتح کے لیے  نکالتے  تھے ۔

اگر چہ یہاں بات یقینی نہیں ہے لیکن کبھی کبھی نیک فالی کے طور پر اس طرح کی کسی مشابہت کو قرینہ بناکر اس قرینے کی رو سے کسی واقعہ کے مستقبل کے بارے میں بات کی جائے تو اس میں کو ئی حرج بھی نہیں ہے۔ اب ہم آتے ہیں اس دور کے ایک بڑے اور عظیم واقعے کی جونبی علیہ السلام کے زمانے میں پیش آیا ایک عظیم واقعے کے ساتھ واضح مشابہت کی طرف ، جو ہمیں  ایک عظیم فتح اور بڑی کامیابی کی بشارت دیتی ہے  اور ممکن ہے کہ یہ پوری دنیا میں خلافت کے قیام کی نوید ہو (ا ن شاء اللہ) ۔اس وقت امت کو جن مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے ،ہر طرف ان کی بے کسی وبےبسی،مالی و اقتصادی لحاظ سے ان کی کمزوری اورارد گرد سے

دشمن کا محاصرہ یہ اس امت کی اولین نسل صحابہ کرام رضوان اللہ عنہم اجمعین کو بھی پیش آئےتھے لیکن پہاڑوں کو اپنی جگہ سے ہٹانے والی مشکلات اپنے عقیدہ اور موقف پر مضبوط صحابہ کرام رضوان اللہ عنہم اجمعین کو اپنی جگہ سے نہ ہلا سکیں،اقتصادی پابندی تھی تو وہ ایسی کہ شعب ابی طالب میں وہ بھوک کی وجہ سے چمڑے اور ہڈیاں تک کھاتے تھے ،اپنے گھر اور اپنے علاقے سے نکالنے کی بات ہو تو نبی علیہ السلام تک بھی اپنے گھرسے نکالے گئے وغیرہ، ان سب کو انہوں نے برداشت کیا اور بالآخر فتح یا ب ہوگئے اور فتح در فتح حاصل کر کے پوری دنیا پر شرعی حکومت کرنے لگے اور دنیا کو عدل وانصاف سے بھر کر رکھ دیا ۔

اس دور کا  بڑا واقعہ اور حادثہ مسلم دنیا ،بالخصوص امارت اسلامی افغانستان پر امریکی اور اس کی اتحادی افواج  کاحملہ ومحاصرہ ہے جو کہ مدینہ کے ارد گرد احزا ب کے جمع ہونے کے ساتھ بہت زیادہ مشابہت رکھتا ہے جس کو اسلامی تاریخ میں ہم جنگِ خندق اور جنگِ احزاب کے نام سے جانتے ہیں جس کا بیان اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں نہایت بسط وتفصیل کے ساتھ کیا ہے،  اس سورت کا نام بھی سورۃالاحزاب رکھا ہے ،یہ جنگ شوال4ھ  کو لڑ ی گئی تھی، اس دوران کفار مکہ، اسد، غطفان،بنوسلیم،بنو فزارہ،اشجع اور بنو مرہ قبیلوں نے آپس میںاتحاد کرکے مسلمانوں کے خلاف لشکر روانہ کیا ،جبکہ نبی علیہ السلام کے قریب مدینہ میںرہنے والے یہود نے بھی نبی علیہ السلام کے ساتھ معاہدہ تو ڑکر لشکر کا ساتھ دیا لیکن اللہ کے فضل سے لشکر ناکام ونامراد واپس ہوگیا اور غدار قوم یہود بھی اپنے منطقی انجام کو پہنچ گئے ،گزشتہ پندرہ سالوں سے کفار کے لاؤ لشکر کی طرف سے سرزمین خراسان کے سخت ترین محاصرے اور جنگ کی غزوہ احزاب کے ساتھ واضح مشابہت ہمیں بشارت دیتی ہے کہ ان شاء اللہ عنقریب ہم بھی اس لشکر کے مقابلے میں کا میاب ہوں گے اور یہ کفار ناکام ونامراد واپس جائیں گے، اگر یہ بات فقط مشابہت کی وجہ سے میں پندرہ سال پہلے کرتا تو ممکن ہے کوئی مجھے دیوانہ کہتا لیکن اب تو اس لشکر کا سردار خود بھی اپنی ناکا می کا اعتراف کررہا ہے اورمسلسل بھاگنے کا راستہ تلاش کررہا ہے تو اس مشابہت سے پھوٹتی بشارت کی روشنی امت ِمسلمہ کو طاغوتی نظاموں کے سقوط اور اسلام کی نشاۃ ثانیہ کی روشن راہیں خود دکھا رہی ہے ۔

مدینہ طیبہ میں قائم اسلامی ریاست عالمِ کفر کے لئے ناقابلِ برداشت

٭ مدینے کے ارد گر د کفار اس وقت جمع ہوئے جب مسلمانوں نے کفار کے خلا ف چھوٹی کاروائیوں کے علاہ دوبڑی جنگیں لڑی تھیں بدر میں تو کفار کو بری طرح ناکامی ہوئی تھی اور احد میں بھی مسلمانوں کی عارضی شکست کے بعد کفار بھاگ کھڑے ہوئے تھے ،ایسے حالات میں کہ مدینہ منورہ میں اسلامی خلافت روز بروز مضبوط ہوتی جارہی تھی اور کفار کو یہ خطرہ لا حق ہوا کہ اسلامی سلطنت کا دائرہ کہیں ہمارے علاقوںتک بھی نہ پھیل جائے کفار اپنے آپس کے اختلافات بھلا کر مدینہ منورہ کے اردگرد مسلمانوں کے استحصال اور مکمل بیخ کنی کے لئے جمع ہوگئے ۔

 بالکل اسی طرح افغانستان کے خلاف اس وقت کفار جمع ہوئے جب اسلامی امارت ،افغانستان کی سر  زمین پر اپنے قدم جمارہی تھی اور پوری دنیا اس کو اپنے باطل نظاموں کے لئے ایک خطرہ محسوس کرنے لگی ،جبکہ بہادر افغان مسلمانوں نے اس سے پہلے ماضی قریب میں کفار کے خلاف اسی سرزمین پر دو عظیم جنگیں لڑی تھیں بدر کی طرح تو برطانوی استعمار کو ایسی شکست ہوئی تھی کہ اس غیرت مند سرزمین سے ان کا صرف ایک فوجی بھاگنے میں کا میاب ہوا تھا ،جبکہ روس کے خلاف بھی مسلمانوں کا معرکہ ایک تاریخی معرکہ ہے اگر چہ اس میں مسلمانوں کو بھاری جانی ومالی نقصان اٹھانا پڑا لیکن بالآخر روس نے بھی یہاں سے فرار کا راستہ اختیا ر کیا اور مسلمان اللہ کے فضل سےکامیاب وکامران ہوئے، اس کے بعد جب اسی سرزمین سے خلافتِ اسلامیہ کی صدائیںآناشروع ہوئیں  توکفارکو اپنے شکستہ نظاموںکوبچانےکا غم لاحق ہوا اور انہوں نے ان کے خلاف ایک وحشت ناک جنگ کا اعلان کردیا۔

مدینہ طیبہ میں مسلمانوں کے استحصال کے لیے مشرکین کاعالمی اتحاد

مدینہ طیبہ کا محاصرہ کرتے وقت کفار نے آپس کے اختلافات بھلاکر مسلمانوں کے خلاف اتحادقائم کیا،خصوٖصاً مشرکین مکہ اور یہود کے درمیان اتفاق ایک نادر الوقوع امر تھا کیونکہ یہ یہود نبی آخر الزماںﷺ کے مبعوث ہونے سے پہلے انہی مشرکین کے خلاف اللہ تعالیٰ سے دعائیں مانگتے تھے کہ اے اللہ نبی آخر الزماں کو بھیج دےتاکہ ہم ان کفار کے خلاف اس کی قیادت میں لڑ کر ان پر فتح حاصل کریں:

وَکَانُوْا مِنْ قَبْلُ یَسْتَفْتِحُوْنَ عَلَی الَّذِیْنَ کَفَرُوْافَلَمَّا جَآءَھُمْ مَّا عَرَفُوْا کَفَرُوْا بِہ ۔

ترجمہ: اور وہ پہلے (ہمیشہ) کافروں پر فتح مانگا کرتے تھے، پس جب اُن کے پاس آ پہنچی  وہ  چیز جس  کو وہ خوب پہچانتے تھے تو اُس کے منکر ہو گئے۔( بقرہ آیت نمبر۸9)

اور اس وقت ان کا اتحاد الکفرملۃ واحدۃ کاحقیقی مظہر تھا۔

 اسی طرح جب امریکہ اپنے پورے غرور وتکبر کے ساتھ فرعونی دعویٰ اناربکم الاعلی ٰکے ساتھ  ا فغانستان میں اسلامی حکومت کے خلاف حملہ آور ہوا تو دنیا کے تمام کفار اس کےتحادی بنے اوریہود وہنو د اور نصاریٰ ومشرکین اپنے آپس کے اختلافات بھلاکر اس دجالی لشکر میں شامل ہوگئے ،اوردیکھتے ہی دیکھتے52ممالک کی افواج پوری قوت سے امارت اسلامی پرچڑھ دو ڑیں،جس طرح وہاں یہود اور مشرکین کے درمیان اتحاد ایک تعجب کی بات تھی اسی طرح یہاں زیادہ تعجب کی بات یہ ہے کہ نام نہاد مسلمان ،مرتد حکومتوں نے بھی ان یہود و نصاریٰ کے ساتھ مکمل اتحاد کیا اوراولادِ ابراہیم کے لئے جلائی جانے والی آگ میں ہر کسی نے اپنی طاقت کے مطابق حصہ ڈالا کسی نے مالی امدادکی تو کسی نے براہ راست اپنے فوجیوں کو افغانستان بھیجا ،کسی نے اڈے اورسپلائی فراہم کی، تاکہ امارتِ اسلامیہ کوڈھانے کی’ سعادت ‘سے کوئی محروم نہ رہے۔

٭انہوں نے مدینے پر ہر طرف سے حملے کا منصوبہ بنایااورمدینہ کا ہر اس مقام سے محاصرہ کیا جہاں سے وہ اس کو فتح او ر کنٹرول کرنے کا یقین رکھتے تھے، اللہ جل جلالہ فرماتے ہیں:

اِذْ جَآ ءُ وْکُمْ مِّنْ فَوْقِکُمْ وَ مِنْ اَسْفَلَ مِنْکُم۔

“’ جب وہ تمہارے اوپر اور نیچے کی طرف سے تم پر چڑھ آئے”۔) احزاب آیت نمبر 1۰(

ان میں سے ایک گروہ مدینہ کی نچلی  سائڈ اتر گیاوہ مدینہ کی  مشرقی طرف تھا اور دوسر اگروہ مدینہ کے اوپر کی طرف اتر گیا، مشرق کی طرف بنو قریظہ کا قلعہ تھا  ان کا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ معاہدہ تھا انہوں نے معاہدہ توڑا اور مسلمانوں کے خلاف کفارِ مکہ کی مدد کی۔

مدینہ طیبہ میں سخت خوف وہراس

 لشکرکفار کے حملے کے وقت مدینہ طیبہ میں سخت خوف وہراس کا سماں تھا،دہشت کے مارے دل حلق کو پہنچے ہوئے تھے،ہر شخص متفکر تھا کہ اب کیا ہو گا،قرآن مجید نے اس منظر کا کچھ یوں نقشہ کھینچا ہے، وَبَلَغَتِ الْقُلُوْبُ الْحَنَاجِر۔” اور دل (مارے دہشت کے) گلوں تک پہنچ گئے :۔(احزاب آیت نمبر1۰)

جبکہ نبی اکرم ﷺ ان سخت ترین حالات میں مسلمانوں کو نہ صرف اس جنگ میں فتح وغلبہ کی بشارت دے رہے تھے بلکہ قیصروکسریٰ کے خزانوں کے زیر نگیں آنے کی خوشخبری  بھی سنا رہے تھے،ایسے سخت ترین

حالات میں ان بشارتوں کو سن کر مادیت پرست منافقین اسے جھوٹی تسلیاں سمجھ کر آپس میں چہ میگوئیاں کرنے لگے۔

 علامہ سلیمان اندلسی ’’الاکتفاء ‘‘میں ان کا حال یوں بیان فرماتے ہیں:

حتٰی قال قائل منھم کا ن محمد یعدنا ان نأکل کنوز کسریٰ وقیصر واحدنا الیوم لایأمن علیٰ نفسہ ان یذھب الی الغائط۔

یہاں تک کہ ان میں سے بعض کہنے والے یوں کہنے لگے کہ محمدﷺ تو ہم سے قیصروکسریٰ کے خزانے کھانے کے وعدے کرتا تھا جب کے ہم میں سے کوئی آج تقاضے تک کے لئے جانے سے محفوظ نہیں ہے ۔( الاکتفاء بما تضمنہ من مغازی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم والثلاثۃ الخلفاء2؍1۰5)

اسی طرح اگر کسی کو یا د ہو تو  جب امریکہ اور اس کے حواریوں نے امارت ِاسلامی پر حملہ کیا تومسلمان بہت خوفزدہ تھے اور جنگ اتنی سخت تھی کہ دل خوف کے مارے گلوں کوپہنچے ہوئے تھے، مایوسی اوردہشت کا یہ عالم تھاکہ یہ سوچنا تو درکنار کہ امریکہ شکست کھا جائےگااس بات کاتصور اور گمان بھی مشکل ہورہاتھاکہ ان کے خلاف جنگ لڑنابھی ممکن ہے بلکہ لوگ ان کیخلاف جنگ کو دیوانگی اور ہلا کت سمجھتے تھے۔ کہا جا تا تھاکہ وہ زمین پر سوئی کوبھی دیکھ کر نشانہ بناسکتے ہیں، مجھے یا د ہے کہ ہمار ے ایک ساتھی اسماعیل شہید رحمہ اللہ جو انتہائی مضبوط ایمان اور یقین والے تھے شینکئی کے مقام پر ایک جنگ کے دوران امریکی ہیلی کا پٹروں سے نہیں چھپے اورچٹیل میدان میں بیٹھے رہے، ساتھیوں نے کہا کہ تھوڑا ادھر درختوں کے نیچے ہوجائیں، ہیلی کا پٹرنے دیکھ لیاتو مارے گا تو انھوں نے کہا کہ آج میں دیکھتا ہوں کہ میں سوئی سے چھوٹاہوں یابڑا،لیکن اللہ کا کرنا  یہ ہوا کہ وہ اس جنگ میں بالکل محفوظ رہے،چند عرصےبعدوہ کسی اورمقام پرشہیدہوئےاللہ تعالیٰ ان کی شہادت قبول فرمائے ،آمین ، اسی طرح بعض منافقین یوں کہا کرتے کہ ان کودیکھو یہ دنیا پرحکومت وقبضے کے خواب  دیکھتے تھے کیسے غاروں میں چھپ گئے ہیں، اورآج بھی ممکن ہے اگر ہم کہیں کہ اب  اقوا م ِمتحدہ کا وقت ختم ہوچکاہے او ر اس کی جگہ عالمگیر اسلامی خلافت کا قیام ہوگا تو لوگ ہم پر ہنسیں گے اور اسے دیوانے کی بڑ سمجھیں گے لیکن

واللہ غالب علیٰ امرہ ولکن اکثر الناس لا یعلمون ۔

 

 

اہل مدینہ کی دوگروہوںمیں تقسیم

 لشکر کفار کا طمطراق دیکھ کر مدینہ میں لوگ واضح طور پر دو گروہوں میں تقسیم ہو گئے،ارشاد باری ہے:

وَاِذْ یَقُوْلُ الْمُنٰفِقُوْنَ وَالَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِھِمْ مَّرَضٌ مَّا وَعَدَنَا اللہُ وَرَسُوْلُہٗ اِلَّا غُرُوْرًا۔

اور جب منافق اور وہ لوگ جن کے دلوں میں بیماری ہے کہنے لگے کہ اللہ اور اس کے رسولﷺ نے تو ہم سے محض دھوکے کا وعدہ کیا تھا “۔) احزاب آیت نمبر12(

ایک منافقین اور مرضی القلوب کا گروہ جو اللہ تعالیٰ اور رسول اللہﷺ کی فتح اور غلبے کے وعدوں کو دھوکہ اور جھوٹی تسلیاں قرار دینے لگا اور مسلمانوں کا مذاق اڑانے لگا علامہ ابن کثیر فرماتے ہیں :’’ فحینئذظھرالنفاق وتکلم الذین فی قلوبھم مرض بما فی انفسھم۔” پس اس وقت نفاق ظاہر ہوا اور جن لوگوں کے دلوں میں مرض تھا وہ اپنے دل کی باتیں کرنے لگے”۔

جبکہ دوسرا گروہ مئومنین مخلصین کا تھا جو اللہ کے وعدے پر یقین رکھتے تھے کہ لشکر جمع ہو کر آئیں گے اور فتح وغلبہ مؤمنین کو حاصل ہو گا، فرمایا:

وَلَمَّا رَاَ الْمُؤْمِنُوْنَ الْاَحْزَابَ قَالُوْا ھٰذَا مَاوَعَدَنَا اللہُ وَرَسُوْلُہٗ وَصَدَقَ اللہُ وَرَسُوْلُہٗ وَمَا زَادَھُمْ اِلَّا اِیْمَانًا وَّتَسْلِیْمًا۔

 اور جب مؤمنوں نے (کافروں کے) لشکر کو دیکھا تو کہنے لگے یہ وہی ہے جس کا اللہ اور اُس کے پیغمبر ﷺنے ہم سے وعدہ کیا تھا اور اللہ اور اُس کے پیغمبر ﷺنے سچ کہا تھا اور اس سے اُن کے ایمان اور اطاعت ہی میں اضافہ ہوا “۔(احزاب آیت نمبر 22)

اسی تقسیم کو اللہ تعالیٰ نے یوں بھی واضح فرمایا:وَ تَظُنُّوْنَ بِاللّٰہِ الظُّنُوْنَا۔”ا ور تم اللہ کی نسبت طرح طرح کے گمان کرنے لگے “۔احزاب آیت نمبر 1۰۔

حضرت حسن بصریؒ اس کی تفسیر میں فرماتے ہیں ظنون مختلفۃ،  یعنی’’  مختلف گمان ہوتے تھے‘‘ ایک گمان منافقین کا کہ مسلمانوں کی بیخ کنی ہو جائے گی اور دوسرا گمان مسلمانوں کا تھاکہ ان کو یقین تھا کہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کا وعدہ سچ ہے اور یہ کہ  وہ اسلام کو تمام ادیان پر غالب کریں گے اگرچہ مشرکین اس کو برا مانیں گے۔(ابن کثیر)

بالکل اسی طرح جب امارتِ اسلامی پرعالمِ کفر کی یلغار شروع ہوئی تو اس وقت بھی مسلم دنیا واضح طور پردوگروہوں میں تقسیم ہو گئی،ایک گروہ کفار کی طاقت دیکھ کر طالبان اور شریعت اسلامی سے سخت بد دل ہوا اور وہ کھلے بندوں کہنے لگے کہ اس خوفناک جنگ میں طالبان کی کامیابی کا کوئی امکان نظرنہیں آتا، طرح طرح سے شریعت اور مجاہدین کا مذاق اڑانے لگے ، ان پر الزامات و ملامتوں کی بوچھاڑ ہونے لگی کہ جب یہ مقابلہ نہیں کر سکتے تھے تو امریکہ کو چھیڑا کیوں؟نائن الیون کی مبارک استشہادی کاروائی کواسلام اور مسلمانوں کے وجود و سلامتی کے لئے بڑا خطرہ قرار دیا جانے لگاوغیرہ۔۔۔ جبکہ دوسرا گروہ یہاں بھی مخلصین مئو منین کا تھا جو اللہ تعالیٰ کے اس قرآنی وعدے پر یقین رکھتا تھا:وانتم الاعلون ان کنتم مئو منین۔ ” اور تم ہی غالب رہو گے اگر تم ایمان والے ہو”۔

اور انہوں نے اس کفری یلغار کو فتح وغلبے کاآغاز سمجھ کر اللہ کے حضور سجدہ شکر بجا لایا کہ ان گوری چمڑی والوں کو ہم کہاں کہاں ڈھونڈ کرمارتے اور ان کی فوجی طاقت کا بھر کس کیسے نکالتے یااللہ !تو بڑی غیرت والی ذات ہے کہ ان کو پوری طاقت سمیت ہمارے قدموں میں لا کر ڈال دیاکہ لو! ان کے ساتھ میرے حکم کے مطابق عمل کرو۔

امیر المئومنین  ملا محمد عمر مجاہد رحمہ  اللہ کے یہ الفاظ تاریخ کا حصہ ہیں کہ وقت ہمارے پاس ہے اور گھڑیاں ان کے پاس،اور فرمایا کہ ہم امریکہ تو نہیں جا سکتے تھے اللہ خود انکو یہاں کھینچ کر لایا، فللہ الحمدوالشکروالنعمۃ۔

مدینہ طیبہ میں مسلمانوں کے خلاف میڈیا وار:

منافقین کے درمیان موجود ایک گروہ مسلمانوں کے خلاف منظم انداز سے میڈیا وار میں مصروف تھا کبھی ان کے درمیان سنسنی پھیلانے کے لئے جھوٹی افواہیں اڑاتے کبھی ان کے خیر خواہ بن کر مصلحت سے کام لینے  کے مشورے دیتے اور طرح طرح سے ملامتیں کرتے اور کبھی ان کی شکست کا یقین کر کے کھل کر ان کا مذاق اڑاتے تھے۔اللہ تعالیٰ نے ان کے پروپیگنڈوں کا نقشہ یوں کھینچا ہے:  یٰٓاَھْلَ یَثْرِبَ لَامُقَامَ لَکُمْ فَارْجِعُوْا۔”  اے اہلِ مدینہ! (یہاں) تمہارے لئے (ٹھہرنے کا) مقام نہیں تو لوٹ چلو “۔(احزاب آیت نمبر 13)

یعنی نبی اکرمﷺ کے ساتھ رباط وجہادمیں تمہارے لئے کوئی جگہ نہیں ہے اور آپ ان لشکروں کے مقابلے میں نہیں ٹھہر سکتے لہٰذا واپس ہو جاؤ۔

دوسری جگہ فرمایا:

 قَدْ یَعْلَمُ اللہُ الْمُعَوِّقِیْنَ مِنْکُمْ وَالْقَآئِلِیْنَ لِاِخْوَانِھِمْ ھَلُمَّ اِلَیْنَاج  وَلَا یَاْتُوْنَ الْبَاْسَ اِلَّا قَلِیْلًا اَشِحَّۃً عَلَیْکُمْ ج   فَاِذَا جَآءَالْخَوْفُ  رَاَیْتَہُمْ یَنْظُرُوْنَ  اِلَیْکَ تَدُوْرُ اَعْیُنُھُمْ کَالَّذِیْ یُغْشٰی عَلَیْہِ مِنَ الْمَوْتِ ج فَاِذَا ذَھَبَ الْخَوْفُ سَلَقُوْکُمْ بِاَلْسِنَۃٍ حِدَادٍ اَشِحَّۃً عَلَی الْخَیْرِط اُولٰٓئِکَ لَمْ یُؤْمِنُوْا فَاَحْبَطَ اللہُ اَعْمَالَھُمْ ط وَکَانَ ذٰلِکَ عَلَی اللہ ِیَسِیْرًا۔       

” اللہ تم میں سے ان لوگوں کو بھی جانتا ہے جو (لوگوں کو) منع کرتے ہیں اور اپنے بھائیوں سے کہتے ہیں کہ ہمارے پاس چلے آؤ اور لڑائی میں نہیں آتے مگر کم ۔ (یہ اس لئے کہ) تمہارے بارے میں بخل کرتے ہیں پھر جب ڈر (کا وقت) آئے تو تم اُن کو دیکھو کہ تمہاری طرف دیکھ رہے ہیں (اور) اُن کی آنکھیں (اس طرح) پھر رہی ہیں جیسے کسی کو موت سے غشی آ رہی ہو پھر جب خوف جا تا رہے تو تیز زبانوں کیساتھ زبان درازی کریں اور مال میں بخل کریں یہ لوگ (حقیقت میں) ایمان لائے ہی نہ تھے تو اللہ نے اُن کے اعمال برباد کر دیئے اور یہ اللہ کو آسان تھا “۔(احزاب آیت نمبر 1۸۔19)

منافقین کا یہ گروہ اس بات پر  پوری توجہ رکھتا تھاکہ مشکل اور مصیبت میں مسلمانوں کے خلاف بھر پور پروپیگنڈا پھیلائے کہ کس طرح ان کے حوصلے ٹوٹ جائیں اور ان کی جماعت منتشر ہو جائے اور فتح وغلبہ کے آثار دیکھتے ہی چکنی چپڑی باتوں کے ذریعے مسلمانوں کو یہ باور کرانے کی کوشش کرتے کہ ہم تو آپ کے اپنے ہیں اور طرح طرح کے اعذار پیش کر کے مکمل خوشامد کرتے۔

اسی طرح یہاں بھی منافقین کا ایک گروہ طالبان اور مجاہدین کے خلاف بھر پور انداز میں پروپیگنڈا پھیلانے میں مصروف ہے ، اولاًتو ایسی ایسی افواہیں پھیلائیں کہ الامان و الحفیظ۔امریکہ اور اسکے اتحادیوں کی طاقت کو نعوذ بااللہ! اللہ تعالیٰ سے بھی برتر دکھانے کی کوشش کی گئی(کہ ان کے پاس دیواروں کے پار اور پہاڑوں کے اندر تک دیکھنے کی ٹیکنالوجی ہے) پھرمجاہدین کے حوصلوں کو توڑنے اور ان کی مجتمع طاقت کو منتشر کرنے کے لئے شکست وشہادت کے ایسے پروپیگنڈے پھیلائے جانے لگے کہ پہاڑ بھی جھوٹ اور شر انگیزی سے ریزہ ریزہ ہو جائیں۔بہت سوں نے ملامتوں اور الزامات کی زبانیں تیز کر لیں،طرح طرح کے طعنے دیےگئے،کہ امریکہ کو چٹکی بھرنے والے کن غاروں میں چھپ گئے؟کہاں گئے پوری دنیا پر حکمرانی کے خواب دیکھنے والے ؟وغیرہ وغیرہ۔

ایسے میں جہاد سے منسوب بڑی شخصیات  پر بھی جیسے موت طاری ہو گئی جو کبھی کل تک پاکستان میں طالبان کی پہچان ہونے کے دعویدار تھے اور پاکستان میں امیر المومنین کےنمائندہ تھے اور ان کی طرف سے پاکستان میں  نائب بننے کیلئے ایک دوسرے سے بازی لیجا رہے تھے اور کبھی واشنگٹن پر فتح کے جھنڈے گاڑنے کے دعوے کرتے تھے

اورکبھی دہلی میں پانچ لاکھ کفن پوش داخل کرتے تھے ایسے خاموش ہو گئے جیسے ان کے سروں پر پرندوں کا بسیرا ہواور مجاہدین سے ناطے ایسے توڑ لئے کہ جیسے ان سے صدیوں پرانی دشمنی ہو۔

ایسے لوگوں کے کردار سے کون واقف نہیں جو امارت ِاسلامی کے بنیادی ڈھانچے کے اصل مؤسس اور کراچی میں بیٹھ کر قندھارپر اصل حاکم اپنے آپ کو سمجھتے تھے، تحریر ، تقریر،دفاتر،جرائد ہر اعتبار سے اپنے آپ کو طالبان کے حقیقی نمائندے اور پاکستان میں اسی نظام کے نقیب جانتے تھے، فراخی کے دنوں میں کروڑوں، اربوں روپے کی امداد دینے والے خوشامدیوں پر ایسا سکوتِ مرگ طاری ہواکہ طالب نام سے ان کا سکون خراب ہونے لگاواللہ!افغان نام کے چوکیدار تک کو انہوں نے اپنے اداروں سے فارغ کر دیا فياللعجب!! اور طوفانی نعروں میں گرجتے تھے کہ اگر امریکہ افغانستان پر حملہ آور ہوا تو پاکستان میں موجود امریکیوں کو کتوں کی طرح ماریں گے وغیرہ وغیرہ، اور آج جب امریکہ اور اتحادی پھر شکست وفرار کا راستہ تلاش کر رہے ہیں اور فتح و غلبہ کے آثار نہایت واضح ہونے لگے ہیں تو انہوں نے پھر طالبان کے گن گانے شروع کر دئے ہیں کوئی گو امریکہ گو کانفرنس کر رہا ہے،کوئی اسلام زندہ باد کانفرنس سےنام نہادمحبت کا اظہار کر رہا ہے، کوئی دفاع ِپاکستان کے نا م پر کانفرنس منعقد کر کے نیٹو سپلائی اور امریکی مداخلت کی مخالفت کے نام پرپوری فتح کا سہرا اپنے سر سجانے کے خواہشمند ہیں اور کوئی روس کی شکست میں علمبرداری کے دعوے کے بعد اب امریکی شکست میں بھی ساجھے دار ہونے کے دعوے شروع کر رہے ہیں،ان ظالموں کو اس بات پر ذرا بھی شرم نہیں آتی کہ جب کل یہ کہتے تھے کہ ہم طالبان طرز کا نظام نہیں چاہتے اور ملاّمحمد عمرمجاہد  اور اسامہ  بن لادن  رحمہما اللہ کو آئی ۔ایس ۔آئی کا ایجنٹ قرار دیتے تھے اور زہر افشانی کرتے تھے کہ مجھے نہیں معلوم کہ کمانڈر نیک محمد ؒکونسی ایجنسی کا ایجنٹ رہا ہے؟

اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کی بڑی عجیب تصویر کھینچی ہے کہ جب خوف آجائے تو تم ان کو دیکھو گے کہ انکی آنکھیں حلقوں میں اس طرح پھرتی ہیں جیسے کہ ان پر موت کی غشی طاری ہوئی ہواور جب خوف ٹل جائے توپھر آہنی زبانوں سے آپ کا استقبال کریں گے ،علامہ ابن کثیر رحمہ اللہ نے کیا خوب تفسیر بیان فرمائی ہے:ای فاذا کا ن الامن تکلموا کلامابلیغا فصیحا عالیا ،وادعوا لانفسھم المقامات العالیۃ فی الشجاعۃ والنجدۃوھم یکذبون فی ذالک ۔)ابن کثیر 3؍573(” یعنی جب امن ہو تو یہ لوگ فصیح و بلیغ باتیں ( تقریریں ) کرتے ہیں اور اپنے آپ کے لئے شجاعت اور بہادری میں عالی مرتبت کے دعوے کرتے ہیں اور یہ اس میں جھوٹ بولتے ہیں” اعاذنا اللہ من ذالک۔(جاری ہے )

About umar

Check Also

مضمون نمبر 42 کرونا وائرس اللہ کے عذابوں میں سے ایک عذاب ہے از شیخ گل محمد حفظہ اللہ رکن اجرائی شوری تحریک طالبان پاکستان

مکتبۃ عمر کی جانب سے پیش خدمت ہے اعلائے کلمۃ اللہ کی خاطر جان کی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے