وادی سوات میں پاکستانی فوج کے مظالم کی ان کہی داستان

ڈاکٹرخولہ بنت عبدالعزیزحفظھا اللہ

وادی     سوات        میں        پاکستانی    فوج    کے    مظالم   کی  ان کہی     داستان:

”کسی تیز دھار آلے سے اسکے  چہرے پر 1،2،3 تراشا ہوا تھا! ہاں وہ 1،2،3 ہی لکھا  تھا۔”

یہ الفاظ میرے کانوں میں گونجتے رہے۔ میں نے اس دردناک چہرے کی خیالی تصویر بنائی جس پر 1،2،3 کھبا ہوا تھا۔ یہ ہالی وڈ فلم کا کوئی سین نہیں بلکہ ایک مجاہدِ اسلام جس کا تعلق سوات سے تھا کا حقیقی چہرا ہے۔ پوری داستان کچھ اس طرح سے ہے:

”میرے چچازاد کو سوات سے دہشت گردی کے الزام میں گرفتار کیا گیا۔ وہ درحقیقت انسانیت کو طاغوت کے شکنجے سے چھڑانے اور شریعت خداوندی کے نفاذ کیلئےکوشاں تھا۔اسی جرم کی پاداش میں اسےپاکستانی فوج اورسیاستدانوں نےدہشتگردقراردیا۔اسےغائب ہوۓتھوڑاعرصہ ہی گزرا تھاکہ ایک دن اچانک وہ گھر آ گیا لیکن زندہ نہیں بلکہ مردہ۔ یہی میرے رب کی مرضی تھی کہ اسے اپنی راہ میں شہادت کے مرتبے سے نوازے (الحمدللہ رب العلمین)۔اسکا جسم جگہ جگہ سے کچلا ہوا تھا۔ ہاتھ، بازو،پیر، ٹانگیں بری طرح کچلی گئی تھیں۔ چہرے پر تیز دھار آلے سے زخم کیئےگئےتھے۔وہ بہت صحتمندہواکرتاتھالیکن اب اسکاپیٹ کمرسےچپکاہوا تھا، شاید ہی کچھ گوشت بچا ہوگا۔اور کچھ اور بھی تھا جو ہم کبھی نہ بھول سکیں گے۔” یہ کہہ کر وہ خاموش ہو گئی۔ اسکا چہرہ غصے سے سرخ تھا اور وہ آنسوؤں کے سیلاب کو روکے ہوۓتھی۔میری یہ سہیلی چار سال پہلے مہاجر ہوئی  تھی۔ ہجرت کا یہ سفر اس سمیت لاکھوں خاندانوں نے سوات میں پاکستانی فوج کے 2009 کے ظالمانہ آپریشن کے بعد شروع کیا۔میں یہ جاننے کے لئےبےچین تھی کہ آخروہ ”کچھ اور” کیاتھا؟؟

آخر کار وہ گویا ہوئی،”اسکے چہرے پر 1،2،3 کھبا ہوا تھا۔”

1،2،3 آخر یہ کیوں!!! بلاشبہ پاکستانی فوج اور سکیورٹی ایجنسیوں کی طرف سے کیا جانے والا یہ ایک فرعونی فعل ہے۔ قابل نفرت اور متکبرانہ فعل جو فرعون کوبھی پیچھے چھوڑ گیاہے۔ کہنے کو تو پاکستانی فوج اور حکومت یہ دعویٰ کرتی ہے کہ وہ کافرانہ عالمی قانون کے پابند ہیں لیکن جب بات ان مجاہد قیدیوں کے حقوق کی آتی ہے تو وہ تمام قوانین کو بالاۓطاق رکھتےہوۓنظرآتےہیں۔میں الفاظ میں پاکستانی فوج کے وادیِ سوات میں ڈھاۓگئےمظالم کوبیان نہیں کرسکتی۔ فوج کو سوات پر حملہ اور ط۔الب۔ان کی شریعت کے مطابق حکومت کو ختم کیئےہوۓکئی سال کا عرصہ بیت گیا ہے۔مجاہدین اسلام کے خلاف مظالم کا سلسلہ جو اس وقت سے شروع ہوا تھا اب کئی گناہ بڑھ گیا ہے۔ نہ صرف مجاہدینِ اسلام بلکہ انکے خاندان والے بھی بلا قصور ظلم کی اس چکی میں پس رہے ہیں۔ قریبی رشتہ دار حالانکہ وہ جہادی کاروائیوں میں شریک نہیں ہیں انیہں نہ صرف اغوا کیا گیا ہے بلکہ گرفتاری کے بعد بے جا تشدد کا نشانہ بھی بنایا گیا یہاں تک کہ انہیں موت کی نیند سلا دیا گیا۔اس میں عورتیں، بوڑھے اور بچے بھی شامل ہیں۔ بلاشبہ پاکستانی فوج ایک غیر انسانی و غیر اخلاقی کھیل کھیل رہی ہے، وہ اپنی پوری قوت استعمال کر رہی ہے تاکہ توحید کے داعیان کو صفحہ ہستی سے مٹا دے۔  اس کے پیچھے انکی فانی دنیا سے محبت اور آخرت سے بیزاری مضمر ہے۔ انکا امریکہ سےبے غیرتی اور ضمیر فروشی پر مبنی اتحاد انکے ارتداد کا کھلا ثبوت ہے۔

انہی ظلم اور بربریت کی وجہ سے مہاجر ہوکے اپنی ہجرت  کے دوران میری ملاقات بہت سی سواتی مہاجرات سے ہوئی جو اپنے خاندان سمیت 2009 کے بعد فوج کے مظالم سے بچنے کیلئےسوات سے ہجرت پر مجبور ہوئیں ۔ اُس وقت سے پاکستانی فوج نے سوات اور ملحقہ علاقوں پر جو بے انتہا مظالم ڈہاۓہیں وہ ناقابلِ بیان ہیں،اسی لمحےجب میں یہ سطریں لکھ رہی ہوں کوئی بے گناہ پھانسی چڑھ رہا ہے، کوئی بے دردی سے ذبح کیا جا رہا ہے،کسی کو اُلٹا لٹکا کر اور کسی کے ننگے بدن پر بے جا تشدد کیا جا رہا ہے، مسخ شدہ لاوارث لاشوں کے انبار لگاۓجارہےہیں۔لیکن یہ ظلم ہے کہ کم ہونے کا نام نہیں لیتا۔

یہاں میں سوات میں پاکستانی فوج کے غیر قانونی اور غیر انسانی قتلِ عام کی دردناک کہانی بیان کرنا چاہتی ہوں جو سواتی مہاجرات سے ملاقات کے دوران میں نے قلم بند کی۔  میں ملکی و غیر ملکی رپورٹرز، اخبار نویسوں،کالم نگاروں کو دعوت دیتی ہوں کہ وہ اپنے پیشہ وارانہ فرائض کو نبھاتے ہوۓپاکستانی فوج اور سکیورٹی ایجنسیوں کے مظالم کے خلاف آواز بلند کریں۔

ایک مسلمان ہونے کے ناطے  میرا ایمان ہے کہ اللہ کے یہ دشمن دنیا میں تو عیش و عشرت کی زندگی بسر کر سکتے ہیں لیکن آخرت میں جب اعمال نامے تقسیم ہوں گے تو یقینا” اللہ کی سخت پکڑ سے محفوظ نہیں رہیں گے۔ دنیا کی زندگی نے انہیں دھوکے میں ڈال دیا ہے۔ حشر کے روز جب معصوم مجاہدین کی چیخیں سنی جائیں گی، انکے زخموں کو دیکھا جاۓگاتووہ دن ہوگاجب الرّحمٰن انہیں انکی قربانیوں سےبڑھ کرنوازےگا۔انشاءاللہ انہیں اُن نعمتوں سےنوازاجاۓگاجسےکسی آنکھ نےنہ پہلےکبھی دیکھا ہے،کسی کان نے پہلے نہ کبھی سنا ہے اور کسی ذہن نے نہ پہلے کبھی سوچا ہے۔

دوسری طرف ظالم پاکستانی فوجی اور اُنکے ہمنواؤں کو سیاہ، ذلیل چہروں کے ساتھ آگ کا ایندھن بننے کیلئےگھسیٹ کرجہنم کےقریب لایاجاۓگا۔وہ آگ جسے پہلے 1000سال کیلئےجلایاگیایہاں تک کہ وہ سُرخ ہوگئی، پھر مزید 1000 سال کیلئےجلایاگیایہاں تک کہ وہ سفیدہوگی1، پھر مزید 1000 سال کیلئےجلایاگیایہاں تک کہ وہ کالی ہوگئی۔ پھر اُنہیں مُنہ کے بل جہنم میں گرا دیا جاۓگا۔وہ خون کےآنسوروئیں گےلیکن بےفائدہ۔آخرکارجب وہ جہنم میں دردناک اذیت سےگُزررہےہوں گے،تو مجاہدین جنت سے اس منظر سے لطف اندوز ہوں گے اس بات سے خوش و خرّم کہ جو نعمت ربِ کریم نے اُنہیں دی ہے اور جو انجام شیطان کے چیلوں کا ہوا ہے اس سے مطمئن۔

ایک اور سواتی عورت نے مجھے بتایا  جو  اُسکے بھائی کے ساتھ پیش آیا۔ ”میرے باپ اور بھائی کو پاکستانی فوج نے وادیِ سوات سے گرفتار کیا۔کچھ سالوں کے بعد میرا بھائی اللہ کا شکر ہے کہ جیل سے آزاد ہو گیا لیکن انتہائی قابلِ ترس حالت میں۔ اُس نے کہا کہ اللہ کے دُشمن ہمیں پانی میں کھڑا رکھتے اور پانی میں الیکٹرک کرنٹ چھوڑتے یہاں تک کہ ہم بے ہوش ہو جاتے۔ ہوش آنے پر ہمیں پھر بجلی کا کرنٹ دیا جاتا یہاں تک کہ ہم دوبارہ بے ہوش ہو جاتے۔ میرے بھائی کے ناخنوں کو جڑوں سے کھینچ لیا گیا۔ ہم بس خوش تھے کہ وہ زندہ باہر آ گیا۔”ایک اور مجاہد پر کیئےجانےوالےتشددکی کہانی اس نے کچھ یوں سنائی،” ایک مجاہد زخموں کی تاب نہ لاتا ہوا شہید ہو گیا، اُسکی لاش میں سوراخ موجود تھے۔ ڈرل مشین سے اسکے جسم میں سوراخ کیئےگئےتھے۔اُسکےگٹھنوں میں سوراخ تھے، اُسکی آنکھوں پر تشدد کے نشان تھے، الغرض وہ شہید ہو گیا۔”

اس ظلم وستم میں خواتین کو بھی نہیں چھوڑا گیا ہے۔ کچھ سال پہلے ط۔الب۔ان کمانڈر کی بیوی کو گرفتار کیا گیا، پاکستانی فوج کی طرف سے انتہائی بزدلانہ اقدام۔ اُس نے خود ایجنسیوں کی جیلوں میں قید خواتین کے ساتھ کیئے جانے والے مظالم کا مشاہدہ کیا۔اُس نے بتایا،”میں اور کچھ اور خواتین سوات کی جیل میں قید تھیں۔ جلد ہی کچھ  مرد فوجی یونیفارم میں ملبوس اور کچھ  پولیس کی وردی میں ملبوس ہمارے  سیل میں داخل ہوۓ۔اُن میں سےایک مردنےنظربھر کر سب خواتین کو دیکھا ، معلوم ہوتا تھا کی وہ قربانی کا جانور ڈھونڈ رہا ہے۔آخر کار اُس کی غلیظ آنکھیں روشن ہو گئیں۔ایک کم سِن لڑکی کی طرف اُس نے گھور کر دیکھا اور اُسے اپنے ساتھ چلنے کا اشارہ کیا۔ اُس نے کہا کہ یہ تفتیشی مقاصد کےلئےہےاوراُسےاُسکےبڑےافسرسےملناہے۔میرادِل دھڑک رہاتھااورمیری سانسیں اُکھڑرہی تھیں۔جلدہی ایک اورپولیس اہلکارسیل میں ایک عورت کےہمراہ داخل ہوا،اُس نےمجھےاورکچھ اورخواتین کوحکم دیاکہ ہمیں دوسرے سیل میں ٹرانسفر   ہونا ہے۔ہم دوسرے سیل میں چلے گئے۔بعدمیں میری سیل میٹ نےمجھےبتایاکہ عام حالات میں اگر ”چناہواقیدی” ساتھ جانےسےانکارکر دے تو اُس سے خوراک، بیت الخلاء الغرض تمام ضروریات چھین لی جاتی ہیں اور اُس وقت تک  ذہنی اذیت کا نشانہ بنایا جاتا ہے جب تک وہ ساتھ چلنے کے لئےآمادہ نہ ہوجاۓ،اگرپھربھی وہ آمادہ نہ ہوتوزبردستی ساتھ لےجایاجاتاہے۔میںایک قابلِ احترام عالمہ سے اسلام آباد میں ملی۔ اُس نے مجھے بتایا کہ ایک وزیری  عورت جو پاکستانی فوجی کے مظالم کی وجہ سے حاملہ ہوئی انتہائی قابلِ رحم حالت میں اُس کے پاس لائی گئی اُس نے مقامی ہسپتال میں بچے کو جنم دیا، بعد از ولادت وہ اِس بچے کو آخر کیسے واپس گھر لے کر جاتی۔ یہ بچہ  جسکا کوئی گناہ نہیں تھا کو   ایدھی سنٹر کے حوالے کر دیا گیا۔یہ سطریں لکھتے ہوۓمیرادِل گہرا درد محسوس کر رہا ہے۔ِزنا بالجبر کا دُکھ، پھر اُس دکھ کو اپنے پیٹ میں نو مہینے پالنا، پھر   تکلیفوں سے اُسے جنم دینا، الغرض باقی زندگی تکلیف دہ ماضی اور ناقابلِ اعتبار مستقبل کے ساتھ گزارنا اِس عورت کا نصیب ہے۔یہ سزا اب تک لاتعداد عورتوں کو دی جا چُکی ہے۔ اُن کا جرم کیا تھا ؟

وہ اللہ کے دین کی سربلندی کے لئےنکلی تھیں

وہ ظلم کا شکار ہوئی عورت یا تو کسی مجاہد کی ماں تھی یا بہن یا بیوی یا بیٹی، وہ مجاہد جو متاعِ حیات  لٹا کر اللہ کے دین کی نصرت کے لئےنکلاتھا۔

خیر   یہ داستانِ  ظلم و بربریت ہمیں ہر گز حیرت میں نہیں ڈالتی جو شخص بھی اِس ظالم فوج کا ماضی جانتا ہے وہ 1971ء میں بنگلا دیش میں بے گناہ مسلمان بہنوں پر کیئےگئےمظالم کے نتیجے میں پیدا ہونے والے لاکھوں معصوم بچوں کو  کیسے بھلا سکتا ہے۔کیا یہ کوئی خاص جنگی حکمتِ عملی ہے جو  اِنہیں کاکول اکیڈمی میں پڑھائی جاتی ہے؟

ایک غیر سرکاری ذرائع کے مطابق (طاغوتی اداروں نے یہ نا ممکن بنا دیا ہے کہ کوئی سرکاری سطح پر اِس طرح کی تحقیق کرے)، لاکھوں خواتین کو سوات سے سرکاری ایجنسیوں نے اغوا کیا۔ماں باپ اپنی معصوم بچیوں کو بازیاب کرانے کے لئےخون کےآنسو رو رہے ہیں۔اِن کیمپوں سے اغوا کی گئی مسلمان بچیوں کو  بازارِ حسن اور کلبوں کی زینت بنایا گیا ہے۔فوجی آپریشن شروع ہونے کے بعد سےتقریبا”    دو ہزار عورتیں سوات سے لاپتہ ہیں۔اب جب ملاّ فضل اللہ(اللہ اُنکی حفاظت فرماۓ) اور دیگر مجاہدین سوات اور ملحقہ ایجنسیوں کو  شرعی اصولوں پر چلا رہے تھے اس وقت کوئی ایسی خبر منظرِعام پر نہیں آئی۔مجاہدین کی دینی اصولوں پر قائم دورِ حکومت کے دوران نہ کسی عورت کا اغوا ہوا نہ کسی کی عزّت تار تار ہوئی، اگر میں غلط ہوں تو ثابت کیجیئے۔

ایک سواتی بوڑھی عورت پولیس اسٹیشن گئی تاکہ اپنے گمشدہ بیٹے کی بازیابی کرا سکے۔اسکو  سختی سے وہاں سے دفع ہونے کا کہا گیا۔اس لاچار نےاس وقت تک  جانے سے اِنکار کر دیا جب تک کہ وہ اسکے بیٹے کو نہیں ڈھونڈتے۔ظالم پولیس والوں نے اسکو گرفتار کر لیا یہی نہیں بلکہ اسکی ٹانگوں سے رسی باندھی اور اسے گھسیٹتے رہے سزا کے طور پر کہ اس نےاپنے مجاہد بیٹے کے لئےرہائی مانگی۔یہ ایک انتہائی بزدلانہ اورقابلِ نفرت عمل ہےکہ معصوم غیر مسلح عورتوں کو تشدد کا نشانہ بنایاجاۓ۔

مجاہدین کی عورتیں پاکستان واپس جانےکاسوچ بھی نہیں سکتیں،انکاپیچھاکیاجاتاہے،اورگرفتارکرکےتشددکانشانہ بنایاجاتاہے۔ایک سواتی مجاہدکی بیوی جونوماہ کی حاملہ تھی حال ہی میں علاج کی غرض سےسوات گھرواپس گئی، مخبری ہونے پر اسکو گرفتار کر لیا گیا اسکا بچہ بھی جیل ہی میں پیدا ہوا، کِن حالات میں یہ اللہ ہی بہتر جانتا ہے۔ اب وہ گھر میں نظر بند ہےاور اسکا بیچارہ شوہر  بیوی بچے کی یاد میں تڑپتا ہے۔ کیا اللہ کی راہ میں طاغوت کے خلاف جنگ کرنے کی یہ سزا ہے؟ اسی ہجرت کے دوران میری ملاقات  ایک لیڈی ڈاکٹر سے ہوئی اس نے مجھے ایک مہاجر عورت کے بارے میں بتایا۔ اس عورت کو سوات سے گرفتار کیا گیا تھا کیونکہ اسکا شوہر مجاہد تھا۔اس عورت نے بتایا کہ پولیس نے اسے گرفتار کر کے شوہر کاپتہ پوچھا ، معلومات حاصل نہ ہونے پر بہیمانہ تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ سر پر ضربیں دی گئیں، پاؤں کے تلوں پر مارا گیا اور ناک توڑی گئی۔ اب تقریبا” چار سال کے بعد وہ شدید اعصابی بوجھ کا شکار ہے اور اب بھی پاؤں زمین پر رکھ کر صحیح طور پر نہیں چل سکتی۔

اب کہنے کو  تو ان کہانیوں کو من گھڑت اور پاکستان فوج کے کردار کو مسخ کرنے کی ایک  جھوٹی کمپین کہا جا سکتا ہے خاص طور پر جب اِن حالات میں ثبوت کا لانا ناممکن ہے۔ لیکن انٹرنیٹ پر بہت سی ویڈیوز موجود ہیں جو پاکستانی فوج کے مظالم کے خلاف ثبوت ہیں۔تشدد شدہ مجاہدین کی لاشوں کی تصویریں بھی موجود ہیں۔سب سے اہم ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے خلاف پاکستانی فوج  اور ایجنسیوں کےمظالم ہر کسی کی نظر کے سامنے ہیں۔یہ تو صرف ایک کیس ہے جس نے شہرت حاصل کی، ان لاکھوں کیسوں کا کیا جو منظرِعام پر آۓبغیررہ گئے۔ان لاکھوں مرد اور عورتوں کی چیخوں کا کیا جو جیل کے اندھیروں میں اَن سنی رہ گئیں۔آسمان گمشدہ مجاہدین کی ماؤں کی چیخ و پکار سےہل رہا ہے اور زمین انکے رنج و اَلم سےلرزاں ہے۔

مجھے یقین ہے کہ ایک دِن ان کے آنسو، چیخ و پکار ہمارے گھروں کی چار دیواری کو پار کر لیں گے اور پھر  کوئی گھر بھی پر سکون نہیں رہے گا۔ ہر جگہ آگ ہی آگ ہو گی، شام اور عراق کی طرح۔

بزرگوں کو تشدد کا نشانہ بنانا بھی بہت عام ہے۔ ایک مجاہد کا باپ میڈیکل ٹریٹمنٹ کیلئےکراچی گیا۔

یقین مانیئےوہ بےحدبیمارتھا،یہاں تک کہ چلنےمیں بھی انتہائی دقت تھی۔اسنےزندگی بھرفوج کےخلاف ایک گولی تک نہیں چلائی تھی اسکا جرم صرف یہ تھا کہ اسکا بیٹا اللہ اور اسکے رسولﷺ  کے دین کو قائم کرنے نکلا تھا۔ اس جرم کی پاداش میں اسے ایجنسیوں نے اٹھا لیا۔اسکی بوڑھی بیوی عمر کے اس حصے میں یہ غم اُٹھاۓہوۓاپنےشوہرکی راہ تک رہی ہے،تین ماہ ہونےکوہیں اوراسکاکوئی پتہ نہیں۔

میں جب سواتی مہاجرین کی قربانیوں کو دیکھتی ہوں تو میرا سر فخر سے بلند ہو جاتا ہے،میں اس کٹھن سفر میں انکے دکھ  وتکلیف کو بانٹنا چاہتی ہوں۔میں اُن  عورتوں سے بھی ملی جو اپنے گرفتار شدہ خاوندوں کا چھ، آٹھ ،دس سال سے انتظار کر رہی ہیں۔ خود میری قریبی سہیلی کے مجاہد شوہر کو ایجنسیوں نے اسکی شادی کے فورا بعد ہی گرفتار کر لیا۔ابھی تو شادی کا جوڑا ، ہاتھوں پر حنا کا رنگ، اپنے محبوب سے پہلی ملاقات کا لطف سب تازہ تھا، جب اس بھیانک باب کا آغاز ہوا۔اسکی بیٹی نے ابھی اپنے باپ کے مشفقانہ لمس کو بھی محسوس نہیں کیا تھا جب اللہ کے دشمنوں نے اسکے سر سے سایہ چھین لیا،اب وہ لڑکی آٹھ سال کی ہے۔ یہ انتہائی اذیت ناک ہے کہ میری سہیلی اور دوسری بہت سی بہنیں اس کشمکش میں مبتلا ہیں کہ آخر انکے شوہر زندہ ہیں کہ نہیں،اگر قید میں ہیں تو کس جگہ پر ہیں، یہ ایک طرح سے سکون کا باعث ہے اگر انہیں انکی موت کا یقین ہو جاۓکیونکہ شہادت ہےمطلوب ومقصودِمومن۔لیکن موت وحیات کی کشمکش میں مبتلارہنااعصاب شل کردینےوالی مشق ہے۔اندازہ کیجیئےابتک اُسنےآٹھ8اذیت ناک سال، 96  کٹھن مہینے،2920 نہ ختم ہونے والے دِن اور 70080 گھنٹے اِس اذیت میں گزار دیئےہیں۔ایک اور سواتی عورت جس نے آٹھ سال اپنے فوج کے ہاتھوں گرفتار شوہر کے انتظار میں گزار دیئےکواب جاکرخبرآئی کہ اسکاشوہرشہیدہوگیاہے،کب شہیدہوااورکن حالات میں شہیدہوایہ کبھی معلوم نہ ہوسکےگا۔لاش بھی ورثا کے حوالے نہیں کی گئی۔اسکی ننھی بیٹی نے بتایا کہ میرے ابو ضرور ایک دِن گھر واپس آئیں گے اور ڈھیر ساری ٹافیاں بھی ساتھ لائیں گے۔

میری نظر کھڑکی سے باہر غروبِ آفتاب پر پڑی، شام اپنے ساتھ  تاریکی کے ساۓلارہی تھی اوردِن کی روشنی شکست خوردہ اپنی بِسات لپیٹ رہی تھی،یکدم ہر چیز  غمگین معلوم ہوئی۔اچانک میری آنکھیں دور آسمان میں ایک چمکتے ہوۓستارےپرٹھہرگئیں،رات کی تاریکی میں وہ سب سےمنفرد نظر آ رہا تھا۔ مومن ہمیشہ پر اُمید ہوتا ہے۔رات کے آخری پہر،ِمیں نے اِن تمام واقعات پر غور و فکر کیا۔میں نے سوچا کہ سبحان اللہ یہ ثبوت ہے کہ مددِ الٰہی مجاہدین کے ساتھ ہے۔اِن نا مساعد حالات میں اُنکا حق پر جوانمردی کے ساتھ ڈٹ جانا، کسی صورت بھی طاغوت سے سمجھوتہ نہ کرنا، شدید ناقابلِ بیان تشدد کے سامنےاللہ کے دشمنوں کیطرف بال برابر بھی نہ جھکنا اور اپنے ایمان کو کوڑیوں کے دام نہ بیچنا یہ استقامت صرف اُسی وقت ممکن ہے جب  اللہ رب العزت کی طرف سےخاص مدد و نصرت ہو۔بے شک جب اللہ ہمارے ساتھ ہے تو کوئی طاقت بھی ہمیں زِیر نہیں کر سکتی۔وہ مومن کے دِل کو نہ صرف اِس دُنیا میں بلکہ موت کے وقت بھی ایمان پر مستحکم رکھتا ہے۔جواب میں وہ اپنے بندے سے مکمل اطاعت تسلیم و رضا مانگتا ہے۔ وہ چاہتا ہے کہ ہم قرآن و سنت میں دیئےگئےاُسکےوعدوں پرمکمل یقین کریں اور پھر شک میں نہ پڑیں۔ہاں ایک سوال کبھی کبھی ذہن میں ضرور آتا ہے، ظلم کی یہ رات آخر کب ختم ہو گی؟ہم رات کے بعد دِن کی روشنی کب دیکھیں گے؟ اِن مجرموں کو کب اِنکے جرائم کی سزا ملے گی؟ یقینا” اللہ کی فوج ہی غالب آۓگی،یہ اللہ کاسچاوعدہ ہےاوراللہ کبھی بھی اپنےوعدوں کےخلاف نہیں کرتا۔ہمیں اپنی طرف سےظلم اورجھوٹ کےخلاف ہرممکن جنگ کرنی ہےیہاں تک کہ کلمۃاللہ بلندہوجاۓ۔ ہمارا احتساب بارگاہِ الٰہی میں اپنی نیتوں، اعمال،مجاہدے کی بنا پر ہو گا۔لیکن اِس دنیا میں ہماری کوششوں کا نتیجہ یعنی دینِ اسلام کی باقی ادیان پر فتح صرف اللہ رب العزت کے  ہاتھ میں ہے اور وہ ہی بہتر جانتا ہے کہ فتح کب لانی ہے ہم اپنی خواہشات کے مطابق فتح نہیں لا سکتے اور نہ یہ ہمارے بس کی بات ہے۔ ہمارے لیےیہ جانناکافی ہےکہ “فتح اللہ کے لشکر کی ہی ہے”۔ جلد یابدیر  یہ فتح ضرور آۓگی ان شاء اللہ۔ٍ

اللہ ہمیں اپنے دین کی نصرت کے لئےاستعمال کرے۔(اٰمین)۔

About umar

Check Also

مضمون نمبر 40 جہاد فی سبیل اللہ کی دو اقسام کی وضاحت

مکتبۃ عمر کی جانب سے پیش خدمت ہے اعلائے کلمۃ اللہ کی خاطر جان کی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے